Daily Mashriq


عالمی سیکورٹی کانفرنس سے آرمی چیف کا خطاب

عالمی سیکورٹی کانفرنس سے آرمی چیف کا خطاب

جرمنی کے شہر میونخ میں عالمی سیکورٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ دہشتگردوں کے منظم کیمپ پاکستان میں نہیں بلکہ افغانستان میں ان کے محفوظ ٹھکانے موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان فخر سے کہہ سکتا ہے کہ اس نے کالعدم القاعدہ، تحریک طالبان اور جماعت الاحرار کو شکست دی، ہمیں فخر ہے کہ پاکستانی سرزمین پر دہشتگردوں کاکوئی منظم کیمپ نہیں، جنرل قمر جاوید باجوہ نے یہ بھی کہا کہ افغانستان میں دہشتگردوں کے ٹھکانے موجود ہیں ،جہاں سے پاکستان پر حملے ہورہے ہیں، انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کی سرزمین ایک دوسرے کیخلاف استعمال نہیں ہونی چاہئے، سیکورٹی کانفرنس کے موضوع ’’خلافت کے بعد جہاد ازم‘‘ پر اظہار خیال کرتے ہوئے جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ خود پر قابو پانا بہترین جہاد ہے، ہم نے 2017ء میں آپریشن ردالفساد شروع کیا، تمام مکتبہ فکر کے علماء نے مذہب کے نام پر کی جانے والی دہشتگردی کیخلاف فتویٰ دیا ہے، افغانستان میں دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہیں موجود ہیں، خفیہ ایجنسیاں بھی داعش کے افغانستان میں پنجے گاڑنے کی تصدیق کر رہی ہیں۔ پاکستان میں مقیم 27لاکھ افغان مہاجرین کی واپسی سے پاکستان اور افغانستان کی سیکورٹی صورتحال میں مزید بہتری آئے گی۔ امر واقعہ یہ ہے کہ ان دنوں ایک جانب امریکی شہ پر پاکستان کے خلاف اقتصادی پابندیوں کیلئے کوششیں کی جارہی ہیں اور پاکستان پر الزامات لگا کر اسے دہشتگردوں سے مالی معاونت کے جھوٹے الزامات کے تحت واچ لسٹ پر ڈالنے کی سعی کی جارہی ہے، حالانکہ پاکستان نے مبینہ طور پر انتہا پسندی میں ملوث تنظیموں پر پابندی لگانے کے اقدامات سے اپنے اوپر لگنے والے الزامات کو دھونے کی بھی کوشش کی ہے، جبکہ دوسری جانب امریکہ نے ڈومور کے پرانے راگ کو الاپنے اور پاکستان کو دباؤ میں لانے کیلئے پاکستان کی فوجی امداد پر بھی پابندی لگا دی ہے جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستان نے عسکریت پسندوں کے خلاف اہم کامیابیاں حاصل کر کے اپنے قبائلی علاقوں کو دہشتگردوں سے پاک کر دیا ہے اور جیسا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے دعویٰ کیا ہے کہ داعش جیسی دہشتگرد تنظیم کو ہم نے پاکستان کی سرزمین میں داخل ہونے نہیں دیا حالانکہ اطلاعات یہی ہیں کہ اس تنظیم نے افغان سرزمین میں اپنے پنجے گاڑ رکھے ہیں، یہاں یہ بات خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ گزشتہ برسوں میں پاکستان میں ہونے والے دہشتگردانہ 130حملوں میں سے 123حملے افغان سرزمین سے کئے گئے جو اس بات کا بین ثبوت ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کیلئے استعمال کی جارہی ہے۔ پاکستان سے فرار ملافضل اللہ اپنے ساتھیوں سمیت مبینہ طور پر افغانستان کے علاقہ کنٹر میں پناہ لئے ہوئے ہے جہاں سے وہ پاکستان میں دہشتگردی کروا رہا ہے مگر امریکی کمانڈ اور افغان حکومت کی توجہ اس جانب دلوانے کے باوجود نہ تو یہ دہشتگرد پاکستان کے حوالے کئے جارہے ہیں نہ ہی ان کو پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیاں کرنے سے روکا جارہا ہے حالانکہ یہاں پاکستان کے سرکاری حلقوں سے تصدیق کی جا چکی ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے میں افغانستان کے مطلوب کچھ لوگوں کو کابل انتظامیہ کے حوالے کیا جا چکا ہے جبکہ توقع یہی تھی کہ افغانستان بھی اپنی سرزمین پر موجود پاکستان سے بھاگے ہوئے انتہا پسندوں کو پکڑ کر پاکستان کے حوالے کر دے لیکن ایسا کرنا تو درکنار اُلٹا بھارتی خفیہ ایجنسی را اور این ڈی ایس باہمی تعاون سے افغان سرزمین پر دہشتگردی کیمپ قائم کئے ہوئے ہیں جہاں نہ صرف طالبان بلکہ پاکستان سے بھاگے ہوئے فراریوں کو تربیت دیکر پاکستان میںدہشتگرد کارروائیوں کیلئے بھیجا جا تا ہے، اس ضمن میں پاکستان کئی بار توجہ دلا کر امریکی کمانڈ کو بھی اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کر چکا ہے کہ وہ افغان سرزمین پر قائم ان کیمپوں کو ختم کرانے کیلئے اپنا اثر ورسوخ استعمال کرے، پاکستان نے افغانستان کیساتھ بارڈر سیل کرنے کے اقدامات بھی شروع کئے ہیں اور وہ افغانستان سے بھی اپنے حصے کی ذمہ داری پوری کرنے کی توقع رکھتا ہے تاکہ امریکی فوجی کمانڈ مقیم افغانستان اور افغان حکومت جس قسم کے الزامات عائد کر رہے ہیں کہ افغان سرزمین میں ہونے والے دہشتگرد حملے پاکستان سے ہورہے ہیں ان کا تدارک ہوسکے حالانکہ حقیقت تو یہ بھی ہے کہ اب طالبان خود افغانستان کی سرزمین میں کئی صوبوں پر عملی کنٹرول رکھتے ہیں اور اسے حملوں کیلئے کسی دوسرے ملک کی سرزمین کی ضرورت ہی نہیں رہی، مگر اصل مسئلہ یہ نہیں کہ کابل میں مقیم امریکی کمانڈ اور افغان حکومت کو اس حقیقت کا علم نہیں بلکہ دراصل امریکہ ہر صورت پاکستان کو دباؤ میں لا کر اپنے مقاصد کی تکمیل چاہتا ہے، یعنی نہ صرف سی پیک اس کی آنکھوں میں کھٹکتا ہے بلکہ پاکستان کے ایٹمی اثاثے اس کیلئے ناقابل برداشت اور ناقابل قبول ہیں، اس لئے عالمی برادری کو اس جانب بھی توجہ دینی چاہئے تاکہ پاکستان کے خلاف سازشوں کا باب بند ہو سکے۔

متعلقہ خبریں