Daily Mashriq


چاہ بہار پر بھارتی کنٹرول

چاہ بہار پر بھارتی کنٹرول

ایران نے چاہ بہار بندرگاہ کے ایک حصے کا آپریشنل کنٹرول انڈیا کے سپرد کرنے کے حوالے سے ایک معاہدہ پر دستخط کئے ہیں، ایران کے صدر حسن روحانی نے ہفتے کے روز دہلی میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے مذاکرات کے بعد کہا ہے کہ دونوں ملکوں کے تعلقات مزید گہرے ہوئے ہیں اور یہ کہ وہ علاقے میں دہشتگردی کا مسئلہ ختم کرنے کیلئے مل کر کام کرنے کو تیار ہیں، لیکن دہشتگردی کو کسی مذہب سے منسوب نہیں کیا جانا چاہئے، جہاں تک ایرانی بندرگاہ کی بھارتی امداد سے تعمیر اور اب اس کے ایک حصے پر بھارت کے آپریشنل کنٹرول کا تعلق ہے اصولی طور پر اس ضمن میں کسی کو اعتراض کرنے کی نہ گنجائش ہے نہ ضرورت، کہ نظر بظاہر اس بندرگاہ میں بھارت کی خاص دلچسپی اسلئے ہے کہ اس راستے سے وہ پاکستان کو بائی پاس کرتے ہوئے براہ راست افغانستا ن پہنچ سکتا ہے اور چونکہ پاکستان اور افغانستان کے مابین تجارت کے حوالے سے پاکستان کی جانب سے بعض پابندیوں کی وجہ سے اب بھارت کو پاکستان کی سرزمین کے استعمال کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے، جس پر اگر بھارت اور افغانستان کے مابین تجارت مسدود ہو کر رہ گئی ہے تو اس کے ردعمل کے طور پر افغانستان نے پاکستان کیساتھ تجارت پر بھی ایسی پابندیاں عائد کر دی ہیں جو خاص طور پر خیبر پختونخوا کے تجارتی اور صنعتی حلقوں کیلئے باعث تشویش ہیں اور وہ پاک افغان تجارتی مراسم پر لگنے والی قدغنوں کو ختم کرنے کیلئے آواز اُٹھا رہے ہیں، ادھر گزشتہ برس انڈیا، افغانستان اور ایران نے ایک سہ فریقی معاہدے پر دستخط کئے ہیں جس کے تحت بھارت نے افغانستان کو گندم سپلائی کرنے کیلئے چاہ بہار کے راستے کا استعمال کرنا شروع کر دیا ہے، اگر چہ انڈیا سے افغانستان جانے کا آسان اور چھوٹا راستہ تو پاکستان سے گزرتا ہے لیکن فی الحال دونوں ملکوں کے تعلقات کی نوعیت کچھ ایسی ہے کہ اس راستے سے رسائی ممکن نہیں ہے، ایرانی صدر حسن روحانی اور بھارتی پردھان منتری نریندرمودی کے درمیان گزشتہ روز کے مذاکرات اور معاہدے پر اتفاق کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیراعظم نے کہا کہ انڈیا چاہ بہار کو ریل کے ذریعے زاہدان سے جوڑنے میں ایران کی مدد کرے گا، یاد رہے کہ ایران بھارت کو تیل فراہم کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہے، دونوں ملکوں نے توانائی کے شعبے میں بھی تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ امر واقعہ یہ ہے کہ جیسا کہ اوپر کی سطور میں عرض کیا گیا ہے کہ ایران اور بھارت یا پھر تیسرے فریق افغانستان کے مابین تجارتی تعلقات کے فروغ اور اس کے حوالے سے بھارت کو چاہ بہار بندرگاہ کی تعمیر میں مدد فراہم کرنے اور اس کے ایک حصے پر آپریشنل تصرف حاصل کرنے پر اعتراض کی گنجائش نہیں ہے لیکن پاکستان کے نقطہ نظر سے یہ اس لحاظ سے قابل تشویش ہے کہ گزشتہ برس اسی چاہ بہار کے علاقے میں ایک بھارتی جاسوس کلبھوشن یادو کے پاکستان کے خلاف جاسوسی نیٹ ورک چلانے اور اس نیٹ ورک کے تحت پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں تخریبی کارروائیاں منظم کرنے کی کارروائیاں اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں بلکہ ایک تلخ حقیقت کے طور پر دنیا کے سامنے عیاں ہو چکی ہیں، پاکستان کیلئے ان ساری سرگرمیوں پر تشویش ایک قدرتی امر کے طور پر ہی ہو سکتی ہے، ایران بھی پاکستان کا ہمسایہ، قریبی دوست بلکہ مسلمان ملک ہونے کے ناتے پاکستان کیلئے قابل احترام ہے تاہم اگر خدانخواستہ بھارت چاہ بہار بندرگاہ کے ایک حصے پر آپریشنل کنٹرول کی آڑ میں کلبھوشن یادو نیٹ ورک کے طرز پر کوئی اور پہلے سے بھی زیادہ مضبوط جاسوسی نیٹ ورک قائم کر کے پاکستان میں تخریبی کارروائیاں کرانے کی کوشش کرے گا تو اس سے پاک ایران تعلقات میںکشیدگی کے احتمال کو خارج ازامکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس لئے ایرانی حکومت کو بھارت کیساتھ چاہ بہار بندرگاہ پر کسی بھی معاہد ے کے تناظر میں اس بات کا التزام رکھنا پڑے گا کہ پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کی جانب سے جس طرح گزشتہ کچھ عرصے سے افغانستان کی سرزمین تخریبی سرگرمیوں کیلئے استعمال کی جا رہی ہے آنے والے دنوں میں کہیں چاہ بہار بندرگاہ کو بھارت اسی قسم کے مذموم مقاصد کی تکمیل کیلئے استعمال کرنے کی کوشش نہ کرے کیونکہ بچھو کا کام ڈنک مارنا ہی ہوتا ہے چاہے وہ دوستی کی آڑ ہی میں کیوں نہ ہو اور جیسا کہ حالات سے مترشح ہوتا ہے کہ سی پیک منصوبے کی وجہ سے گوادر بندرگاہ کو فعال بنانے کا اقدام نہ صرف امریکہ، بھارت کی آنکھ میں کھٹکتا ہے بلکہ ایران کو بھی اس حوالے سے مبینہ طور پر بعض تحفظات ہیں جن کی وجہ سے وہ بھارت کیساتھ تعاون بڑھا کر پاکستان کو اپنے تحفظات کا احساس دلانے کی کوشش کر رہا ہے لیکن اس ضمن میں ایران کو اس حد تک بھارتی خواہشات کے آگے سرنگوں ہونے سے احتراز ضرور کرنا چاہئے کہ اس کے ہمسایہ اور مسلمان برادر ملک پاکستان کے مفادات پر زد پڑے، اُمید ہے کہ ایرانی حکومت ان گزارشات پر سنجیدگی کیساتھ غور کرے گی اور بھارت کے مذموم مقاصد کی تکمیل میں کسی بھی قسم کے تعاون کیلئے غیر محسوس طور پر استعمال ہونے کی غلطی نہیں کرے گی۔

متعلقہ خبریں