Daily Mashriq


ہاں اہل طلب کون سنے طعنہ نایافت

ہاں اہل طلب کون سنے طعنہ نایافت

کیا سیاسی جلسے حتمی نتائج دے سکتے ہیں؟ یہ سوال بار ہا میں نے اُٹھایا ہے مگر سیاسی رہنما اسی غلط فہمی کا شکار رہتے ہیں کہ اگر وہ کسی علاقے میں جلسہ کر کے بقول خود ان کے سیاسی طاقت کا مظاہرہ کریں گے تو وہ عوام کو اس دھوکے میں رکھنے میں کامیاب ہو جائیں گے کہ ان کے پیچھے عوام کا جم غفیر ہوگا اور وہ آنے والے انتخابات یا پھر کسی بھی ضمنی انتخاب کا معرکہ سرکر لیں گے، میں ہمیشہ سے اسی بات پر زور دیتا آیا ہوں کہ انتخابات کے ہنگام ہر حلقہ اپنا اپنا ’’نامہ اعمال‘‘ اُٹھا کر سامنے آئے گا اور کسی بھی اُمیدوار کی مدد کرنے کیلئے دوسرے شہر تو کیا کسی دوسرے حلقے یہاں تک کہ ایک پولنگ سٹیشن سے دوسرے پولنگ سٹیشن کیساتھ تعلق رکھنے والے ووٹرز بھی آکر ووٹ پو ل نہیں کر سکیں گے، کیونکہ ووٹر ز اپنے ہی حلقے اور جس پولنگ سٹیشن پر ان کے نام ووٹر لسٹ میں موجود ہوںگے صرف وہیں جا کر قطار میں کھڑے ہونے اور اپنی باری پر جا کر ووٹ پول کر سکیں گے لیکن یہ رہنماء خدا جانے کس کو دھوکہ دینے، کس کی آنکھوں میں دھول جھونکنے، کسے فریب کے جال میں پھنسانے کیلئے ’’چلو چلو فلاں شہر چلو‘‘ والے نعروں کے ڈھول پیٹتے ہوئے سیاسی باراتوں کیساتھ وہاں پہنچتے ہیں اور جلسے منعقد کرکے بہ زعم خویش اپنی جھوٹی سیاسی طاقت کا مظاہرہ کر تے ہیں مگر اس کے باوجود ’’لودھراں کا میدان‘‘ ان کیلئے واٹرلو ثابت ہو جاتا ہے۔ معاف کیجئے گا ’’لودھراں‘‘ کو واٹرلو قرار دیتے ہوئے اشارہ کسی خاص جماعت کی جانب نہیں ہے بلکہ اسے آپ ایک سیاسی استعارہ سمجھ کر میری بات کو سمجھنے کی کوشش کریں کیونکہ یہ معاملہ کسی بھی سیاسی جماعت کیساتھ دوسرے یا تیسرے حلقے میں ہو سکتا ہے اور صورتحال بقول شاعر کچھ یوں بھی ہو سکتی ہے کہ

یہ وقت کس کی رعونت پہ خاک ڈال گیا

یہ کون بول رہا تھا خدا کے لہجے میں!

صورتحال کو ایک دوسرے تناظر میں دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور پیمانہ لودھراں ہی کو بنا لیتے ہیں جہاں انتخابی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تحریک انصاف کے سربراہ اور دوسرے لیڈروں نے جلسہ کیا جس پر انہیں اب متعلقہ فورم پر وضاحتیں بھی دینا پڑیں گی، تاہم اس سے قطع نظر جو نتائج آئے اب اس حوالے سے متقابل یعنی لیگ (ن) تو کامیابی پر خوشیاں سمیٹ رہی ہے جبکہ تحریک کے رہنماؤں کی زبانیں مختلف تاویلیں پیش کرتے ہوئے اس کیفیت کا شکار ہیں جسے شاعر نے بہت پہلے یوں بیان کیا تھا کہ

بہلا رہے ہیں اپنی طبیعت خزاں نصیب

دامن پہ کھینچ کھینچ کے نقشہ بہار کا

مثلاً جہانگیر ترین کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مصداق آنے والے عام انتخابات میں پانسہ پلٹنے کی باتیں کر رہے ہیں جبکہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے کچھ اور ہی کہانی بیان کر دی ہے، جو بات فرمائی وہ قابل توجہ (برائے رہنمایان تحریک) ہی ہے کہ پی ٹی آئی پنجاب کے رہنما کام کرتے ہیں نہ بات سنتے ہیں۔ جہانگیر ترین کے صاحبزادے کی شکست کی وجہ ڈور ٹو ڈور کام نہیں کیا گیا۔ عام انتخابات میں یہی صورتحال رہی تو پی ٹی آئی کو نقصان ہوگا یعنی وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ

میں ڈوبنے کا گلہ ناخدا سے کیا کرتا

کہ چھید میں نے کیا تھا خود اپنی ناؤ میں

پرویز خٹک کی بات تو اسی سیاسی استعارے کے طور پر جس کا اوپر کی سطور میں حوالہ آیا ہے تمام سیاسی جماعتوں کو پلے سے باندھ لینا چاہئے۔ ایک تو انہوں نے ڈور ٹو ڈور ووٹروں تک رسائی کی بات کرکے انتخابی سیاست کے اصل داؤ پیچ سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ اس لئے جب تک اُمیدوار (خواہ نہ چاہتے ہوئے بھی) گلی گلی‘ محلہ محلہ‘ گھر گھر جا کر ووٹروں کو اس بات پر آمادہ نہیں کریں گے کہ وہ پولنگ والے دن باہر نکل کر اس کے حق میں اپنی رائے کا اظہار کریں‘ چاہے وہ لاکھوں (بلکہ اب تو کروڑوں) روپے خرچ کرکے پوسٹر‘ بینرز‘ پمفلٹ چھپوا کر‘ جلسوں جلوسوں کا اہتمام کرلے‘ گاڑیاں لا کر ووٹروں کو پولنگ سٹیشنوں پر پہنچانے کی کوشش کرتا رہے۔ دیگر اخراجات برداشت کرتا رہے‘ اس کے حصے میں کچھ نہیں آئے گا یعنی ہر اُمیدوار کو اپنے اپنے طور پر بھی دن رات ایک کرنا پڑے گا کیونکہ اس کا تعلق خواہ کسی بھی جماعت کیساتھ ہو‘ اس جماعت کے بڑے بڑے رہنماؤں سے لے کر چھوٹے رہنماؤں‘ صوبائی‘ مقامی سطح کے لیڈروں کی مدد بھی ان دنوں اُمیدواروں کو اسلئے حاصل نہیں ہوگی کہ وہ تو خود اپنے اپنے حلقوں میں سرگرم ہوں گے۔ اسلئے انتخابات کے آخری ڈیڑھ دو ہفتوں میں وہ ایک مشہور لطیفے کے مصداق کہ ’’اب جو کچھ کرنا ہے شیر نے کرنا ہے‘‘ ہر اُمیدوار کو خود ہی اپنی مدد کرنا پڑے گی اور وہ جب تک ایک ایک ووٹر کے در پہ حاضری کو یقینی نہیں بنائے گا، ووٹر کو کیا پڑی ہے کہ وہ گھر سے نکل کر جائے اور ووٹ پول کرے۔ اگرچہ اصولی طور پر یہ اس کا اخلاقی فرض ہے کہ وہ اپنی رائے کا اظہار کرنے کیلئے پولنگ سٹیشن جا کر ووٹ پول کرے مگر وہ اسلئے ایسا نہیں کرتا کہ اسے بھی معلوم ہے کہ ووٹ پول کرنے کے بعد یہی اُمیدوار آئندہ پانچ برس اپنے حلقے میں بھی نظر نہیں آئیں گے اور اس کے مسائل جوں کے توں رہیں گے، تاوقتیکہ ایک بار پھر پانچ برس بعد نئے انتخابات کا ڈول نہ ڈالا جائے۔ یعنی بقول مرزا غالب

ہاں اہل طلب کون سنے طعنہ نایافت؟

دیکھا کہ وہ ملتا نہیں اپنے ہی کو کھو آئے

متعلقہ خبریں