امید صرف عدالت سے ہے

امید صرف عدالت سے ہے

مامتا کی گھٹی ہوئی قبر میں جھلستی ہوئی ہوا آنی بند ہوگئی ہے کیونکہ زینب کے قاتل کو سزائے موت ہوگئی ہے۔ میں اکثر اپنی اس بہن کو یاد کرتی ہوں جس کی گود اس ظالمانہ طور اجاڑی گئی‘ میں اس کی اذیت سے خود اپنے آپ کو آزاد نہیں کرسکتی۔ شاید کوئی بھی ماں نہیں کرسکتی۔ عدالت کے فیصلے تک گویا میں خود بھی سولی پر لٹکتی رہی۔ زینب نے جو ظلم برداشت کیا اس کے والدین کی تکلیف جو ناقابل بیان ہے ‘ ان کے زخم جو کبھی نہ مندمل ہونے والے ہیں‘ انہوں نے اپنی تکلیف سے کتنے اور لوگوں کو ایسی ہی تکلیف سے بچایا ہے۔ وہ بچی اس قوم کی محسن ہے کیونکہ اس پر ڈھائے ظلم نے لوگوں میں اٹھ کھڑے ہونے کا حوصلہ اور جذبہ پیدا کیا۔ میں جانتی ہوں کہ ابھی اس ظلم کا احساس بہت زیادہ ہے۔ مائوں کے دل کٹتے ہیں لیکن اس ننھی بچی نے اپنی موت سے وہ کر دیا جو اتنے سالوں میں کئی لوگ اور کئی ادارے نہیں کر پائے۔ اس بچی نے اس ملک کی کئی بچیوں کو اپنے ننھے ہاتھوں سے دھکیل کر تحفظ کے حصار میں کردیا ہے۔ وہ تو اب محفوظ ہے اپنے رب کے حضور‘ ننھی پری اپنی خوبصورت مسکراہٹ کی روشنی بکھیر رہی ہے اور یہاں اس دنیا میں اس ملک میں کئی مائیں محتاط ہوگئی ہیں‘ کئی ادارے حرکت میں آگئے ہیں۔انصاف ملنے سے در ندوںکے دلوں میں خوف پیدا ہوگا ۔ اب اتنی سی بات باقی ہے کہ اس گھنائو نے شخص کو اس درندے کو‘ اس ملک کے کسی چوراہے میں پھانسی دی جانی چاہئے تاکہ اسے عبرت ناک مثال بنایا جاسکے۔ وہ شخص جس سے نفرت کے اظہار کے لئے میرے پاس الفاظ بھی نہیں اسے کسی قسم کی رعایت نہیں دی جانی چاہئے۔ اگر قانون اجازت دیتا تو اس ملک کی مائیں عدالت عالیہ سے درخواست کرتیں اس شخص کو باندھ کر اس کے جسم پر دہی ڈالا جاتا اور بھوکے کتے اس پر چھوڑ دئیے جاتے۔ وہ اس کے جسم کو نوچتے کھسوٹتے‘ بھنبھوڑتے اور زینب کا انتقام پورا ہوجاتا۔ آنکھ کے بدلے آنکھ‘ کان کے بدلے کان‘ مائوں کے سینے میں دھونکنی کی طرح چلتی سانس کو بھی قرار آجاتا۔ لیکن عدالت عالیہ سے یہ تو درخواست کی جاسکتی ہے کہ زینب کو ہی بچا نے کے لئے اس شخص کو سر عام پھانسی دی جائے۔ اس کی لاش کو واقعی چھ دن تک اس چوراہے سے نہ اتارا جائے تاکہ اس ملک میں زینب محفوظ ہوسکے۔ حکومتی وزراء تو جانے کیوں یہ کہتے ہیں کہ سر عام پھانسی دینے کے لئے قانون میں ترمیم کی ضرورت ہے۔ شاید وہ لا علم ہیں یا شاید کسی کی تکلیف محسوس کرنے سے قاصر ہیں۔ ان کے اپنے گھروں میں زینب کے ساتھ یہ ہو جائے تبھی وہ پورا قانون سمجھیں گے۔ کیونکہ محکمہ پراسیکیوشن پنجاب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر کہتے ہیں کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997ء کے سب سیکشن 22کے تحت پنجاب حکومت کے پاس پورا اختیار موجود ہے کہ جہاں جرم سر زد ہو وہاں پر مجرم کو سزا دی جاسکتی ہے تاکہ آئندہ ایسے واقعات نہ ہوں۔ پنجاب حکومت کو اس حوالے سے تحریری تجاویز بھی بھجوائی گئی ہیں کہ جب قانونی مراحل طے ہو جائیں تو مجرم کو سر عام پھانسی دی جاسکتی ہے اوراس امر کے لئے قانون میں ترمیم کی ضرورت نہیں۔ صورتحال اگر اسی حد تک رہے اور عدالت در عدالت معاملات اسی تیزی سے طے پاتے جائیں تو اس حوالے سے بھی عدالت کو غور کرنا چاہئے۔ کچھ باتیں محض اس لئے بھی کی جاتی ہیں تاکہ معاشرے میں اصلاح اس حد تک رچ بس جائے کہ عام آدمی اس کے اثرات سے بھرپور مستفید ہوسکے اور اس کی جان و مال کو اس نقصان کے خطرے کا امکان بھی باقی نہ رہے۔ ہمارے معاشرے کے اس گھنائونے پہلو سے ہمارے ذہنوں میں مسلسل ایک بے چینی اور اضطراب کی کیفیت ہے لیکن ان معاملات پر پردہ پڑے رہنے سے بہت بہتر ہے کہ ہمیں اس خطرے کا احساس ہو جو ہمارے ارد گرد منڈلاتا پھر رہا ہے۔ ہم تو جانے کن خوابوں میں رہتے رہے ہیں جہاں بچوں کو معاشرے کے عفریتوں سے خطرہ نہیں ہواکرتا تھا۔ اب یہ وہ درندے ہیں جو ہمارے بچوں کے منحنی کمزور جسموں پر پل رہے ہیں اور یہ بہتر ہی ہے کہ ہمیں اس خطرے کا احساس ہے‘ تبھی تو ہم اپنے بچوں کو محفوظ رکھ سکیں گے۔ اور ایسی سزائیں ہوں گی تو ان عفریتوں کو اپنے دانت نکوستے ہوئے ‘ ہمارے بچوں کی طرف بڑھتے ہوئے خوف محسوس ہوگا۔ انہیں معلوم ہوگا کہ اگر وہ ہمارے بچوں کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھیں گے تو یہ معاشرہ ان کی آنکھیں نکال لے گا۔ اگر وہ ہمارے بچوں کی طرف ہاتھ بڑھائیں گے تو ان کے ہاتھ کاٹ دئیے جائیں گے۔ ان کے دل کسی بھی گھنائونی حرکت کا سوچ کر یوں کانپ اٹھنے چاہئیں کہ ان میں قدم بڑھانے کی ہمت نہ پڑے۔

عدالت عالیہ سے سب مائوں کو اپیل کرنی چاہئے کہ فیصلہ کرنے کے ساتھ سزا کی جگہ کا تعین بھی کردیں تاکہ معاملات سیاست دانوں کے ہتھے نہ چڑھیں کیونکہ ان کے لئے ہر معاملہ صرف سیاست ہے‘ نمبر بڑھانے اور بنانے کا ایک ذریعہ ہے۔ ان کے لئے نہ ہمارے دکھوں کی کوئی اہمیت ہے اور نہ ہی ہمارے بچوں کی زندگی اہم ہے۔ وہ صرف اپنے مفاد سے جڑے ہیں۔ عدالت اس ملک اور معاشرے کی اصلاح کے لئے ہی اس معاملے کا فیصلہ اس طور کردے جس سے یہ شخص عبرت کا نشان بن جائے تاکہ ہمارے بچے محفوظ ہو جائیں کیونکہ امید تو صرف عدالت سے ہی ہے۔

اداریہ