Daily Mashriq


امریکا کی پاکستان کیخلاف گریٹ گیم

امریکا کی پاکستان کیخلاف گریٹ گیم

پاکستان نے امریکہ کے ڈومور کے مقابلے میں جب سے نو مور کہہ کرامریکہ کو آنکھیں دکھائی ہیں امریکہ اوچھے ہتھکنڈوں پراُتر آیا ہے، افغانستان اور بھارت کے ذریعے پاکستان پر دباؤ ڈالنے سمیت ہر وہ طریقہ اختیار کیا جا رہا ہے جس سے پاکستان کو نقصان پہنچایا جا سکے، شروع میں امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہم پاکستان کی امداد بند کر دیں گے، جب پاکستان نے اس کی پرواہ نہ کی اور کہا کہ پاکستان امریکی امداد کے بغیر بھی رہ سکتا ہے تو دھمکی دی کہ پاکستان کو بھیانک نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا اور اب امریکہ نے اپنے چند حواریوں کیساتھ مل کر پاکستان کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی عالمی منصوبہ بندی کی ہے جس کی وضاحت ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے میڈیا بریفنگ میں کرتے ہوئے بتایا کہ امریکا سمیت چند ممالک پاکستان کو گرے ممالک کی لسٹ میں شامل کرانے کی کوششیں کر رہے ہیں، جن کا مقصد پاکستان کی اقتصادی ترقی پر اثر انداز ہونا ہے، پاکستان کو فنانشل ٹاسک فورس کے نئے طریقہ کار پر تحفظات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فروری2012ء میں پاکستان ایف اے ٹی ایف کے گرے ممالک کی فہرست میں شامل تھا، بعد ازاں پاکستان کی قابل ستائش کاوشوں کے باعث اس کو اس فہرست سے نکال دیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ 6 جنوری 2018ء کو پاکستان نے اپنی تازہ رپورٹ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کو جمع کرائی تھی۔ دفتر خارجہ کی جانب سے بالکل بجا طور پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے امریکا اور اس کے حواری ممالک کے دباؤ میں آکر پاکستان کی اقتصادی رینکنگ کم کر دی تو اس سے پہلے سے مسائل اور دباؤ کا شکار ملکی معیشت مزید مشکلات کا شکار ہو جائے گی اور پھر ممکن ہے پاکستان کو اپنی معیشت کو سہارا دینے کیلئے ایک بار پھر آئی ایم ایف اور دوسرے عالمی مالیاتی اداروں سے رابطہ کرنا پڑے‘ جبکہ اگر ایسا ہوا تو یہ وطن عزیز میں مہنگائی کا ایک نیا سیلاب لانے کا باعث بنے گا‘ جس سے ملک کے ہر باسی کی زندگی مالی لحاظ سے متاثر ہوگی۔فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کیا ہے؟ یہ جی سیون کی تحریک پر1989ء میں قائم کی گئی ایک بین الاقوامی تنظیم ہے‘ جس کا مقصد ابتدائی طور پر منی لانڈرنگ کے تیزی سے پھیلتے اور شدت اختیارکرتے ہوئے مسئلے کا حل تلاش کرنے کے سلسلے میں پالیسیاں مرتب کرنا تھا۔ بعد ازاں2001ء میں دہشتگردوں کو ہونیوالی فنانسنگ کا پتا چلانا اور اس عمل کا تدارک کرنا بھی اس تنظیم کی ذمہ داریوں کا حصہ بن گیا۔ امریکا پاکستان پر اسی حوالے سے دباؤ ڈلوانے کی کوشش کر رہا ہے اور اقتصادی ماہرین اسی لئے اسے امریکا کی پاکستان کیخلاف گریٹ گیم قرار دے رہے ہیں اور ان کا یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ اس کے پاکستانی معیشت پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔ اس کے نتیجے میں یہاں غیر ملکی سرمایہ کاری کم ہو جائے گی اور پاکستان کی بین الاقوامی تجارت پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے اور اس کا گراف بھی نیچے آسکتا ہے۔یہ تنظیم باہمی جانچ پڑتال کے ذریعے اپنی پیش کردہ سفارشات پر عمل درآمد کے سلسلے میں ہونیوالی پیش رفت کی مانیٹرنگ کرتی رہتی ہے اور اس کے مطابق نئی سفارشات مرتب کرتی رہتی ہے، چنانچہ اس پر امریکا اور بعض دوسرے ممالک کی جانب سے دبائو ڈالا جا رہا ہے کہ پاکستان کو معاشی لحاظ سے کم تر درجے میں رکھا جائے تاکہ اس کو اقتصادی لحاظ سے کمزور کیا جا سکے اور اس کی ترقی کی رفتا کو کم کیا جا سکے۔ اس طرح امریکا پاکستان کو دباؤ میں لاکر دراصل اپنے اس ایجنڈے کی تکمیل چاہتا ہے جس کا اعلان امریکی صدر ٹرمپ نے گزشتہ برس اگست میں امریکا کی نئی افغان پالیسی پیش کرتے ہوئے اور پھر سال رواں کے پہلے روز اپنے ٹویٹ میں کیا تھا۔ ترجمان دفتر خارجہ کا یہ کہنا تو درست ہے کہ پاکستان فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا براہ راست رکن نہیں‘ لیکن یہ واضح ہے کہ اس کی جانب سے پاکستان کی ڈی گریڈنگ سے ہمارے لئے مسائل بڑھ جائیں گے‘ اسلئے اس معاملے میں تحفظات کا اظہار بالکل بجا ہے‘ چنانچہ اس اقتصادی ڈی گریڈنگ کو روکنے کیلئے بھی کچھ کوششیں ہونا چاہئیں جو یہ ہو سکتی ہیں کہ پاکستان کے دوست ممالک کو اس معاملے میں اعتماد میں لیا جائے تاکہ وہ پاکستان کا مقدمہ بہتر طور پر پیش کر سکیں اور اس طرح اس ڈی گریڈنگ سے بچا جا سکے۔یاد رہے کہ گرے لسٹ کا مطلب ہوتا ہے کہ نشان زدہ ملک کے معاشی واقتصادی معاملات ٹھیک نہیں ہیں۔ اس بارے میں شک وشبہ کی کوئی گنجائش باقی نہیں کہ امریکا پاکستان کیخلاف متحرک ہو چکا ہے اور جو یہ سوچا جا رہا تھا کہ وہ اپنی امداد بند کر دے گا اور بس‘ تو یہ سوچ غلط ثابت ہو رہی ہے‘ کیونکہ اس نے عالمی فورموں پر بھی پاکستان کیخلاف پابندیاں لگوانا شروع کر دی ہیں اور یہ صورتحال واقعی تشویشناک ہے، تاہم یہ بات خوش آئند ہے کہ اس کے تدارک کیلئے سفارتی کوششیں شروع کر دی گئی ہیں۔ ایک کوشش تو یہی دفتر خارجہ کی بریفنگ ہے جبکہ یہ بھی پتا چلا ہے کہ وزیر خارجہ خواجہ آصف‘ وزیر داخلہ احسن اقبال اور فنانس‘ ریونیو اور اکنامک افیئرز کے وفاقی مشیر مفتاح اسماعیل اس سلسلے میں مصروف کار ہیں اور توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ یہ کوششیں کامیاب ہوں گی۔اس کیساتھ ساتھ ہمیں خطے کے دوست ممالک کیساتھ روابط بڑھانے چاہئے تاکہ امریکہ کی طرف سے پابندیوں کی صورت میں ان کا اعتماد حاصل کیا جاسکے۔

متعلقہ خبریں