مشرقیات

مشرقیات

مولاناابولکلام آزاد ؒ امام احمد بن حنبل ؒ کی عزیمت و استقامت کے بارے میں لکھتے ہیں کہ تیسری صدی کے اوائل میں جب فتنہ اعتزال و تعمق فی الدین اور بدعت مضلہ ، تکلم بالفلسفہ ،دانحراف عن اعتصام السنہ نے سر اٹھا یا اور صرف ایک ہی نہیں بلکہ لگارتار تین عظیم الشان فرماناوائو ں یعنی مامون ، معتصم اور واثق کی شمشیر استبد اد اور قہر حکومت نے اس فتنے کا ساتھ دیا ۔ حتیٰ کہ بقول علی بن مدینی ؒ کے فتنہ ارتد دو منع زکوٰۃ (بعہد حضرت ابوبکرؓ ) کے بعد یہ دوسرا فتنہ عظیم تھا ، جوا سلام کو پیش آیا ۔ تو کیا اس وقت علمائے امت اور آئمہ شریعت سے عالم اسلام خالی ہوگیا تھا ۔ غور تو کرو ،کیسے کیسے اساطین علم وفن اور اکابر فضل وکمال اس عہد میں موجود تھے ۔ خود بغداد اہل سنت و حدیث کا مرکز تھا ۔مگر سب دیکھتے ہی رہ گئے اور عزیمت دعوت و کمال مرتبہ وراثت نبوت وقیام و ہدایت فی الارض والا مت کا وہ جو ایک مخصوص مقام تھا ، صرف ایک ہی شخص کے حصے میں آیا ۔ یعنی حضرت امام احمد حنبل ؒ ۔
اپنے اپنے رنگ میں سب صاحب مراتب و مقامات تھے ، لیکن اس مرتبے میں تو کسی کو ساجھانہ تھا ۔ بعضوں نے روپوشی اختیار کی اور گوشہ نشینی اختیار کر لی ۔ جب کہ تمام اصحاب کاروطریق کا یہ حال ہورہا تھا اور وہ دین خالص کی بقا و قیام جیسی عظیم الشان قربانی کا طلب گار تھا ۔ صرف امام موصوف ہی تھے ، جن کو فاتح و سلطان عہد ہونے کا شرف حاصل ہوا ۔ انہوں نے نہ تو داعیان فتن و بدعت کے آگے سر جھکا یا ، نہ روپوشی و کنارہ کشی اختیار کی اور نہ صرف بند حجروں کے اندر دعائو ں اور مناجاتوں پر قناعت کر لی ، بلکہ دین خالص کے قیام کی راہ میں اپنے نفس کو و وجود کر قربان کر دینے اور تمام خلف امت کے لئے شبات واستقامت علی السنتہ کی راہ کھول دینے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے ۔ ان کو قید کیا گیا ، قید خانے میں چلے گئے ، بوجھل بیڑیاں پائوں میں ڈالی گئیں ، پہن لیں ۔ لیکن اس پیکر حق ، اس مجسمہ سنت ، اس مئوید بالروح القدس ، اس صابر اعظم کی زبان صدق سے صرف یہی جواب نکلتا تھا : ’’خدا کی کتاب میں سے کچھ دکھلادویا اس کے رسول ؐ کا کوئی قول پیش کر دوتو میں اقرار کر لوں گا ، اس کے سوا میں اور کچھ نہیں جانتا ‘‘۔(تذکرہ ابوالکلام مطبوعہ مکتبہ جمال)
امام صاحب کی بے نظیر استقامت اور ثابت قدمی سے یہ فتنہ خلق قرآن ہمیشہ کے لئے ختم ہوگیا اور مسلمان ایک بڑے خطرے سے محفوظ ہوگئے ۔ جن لوگوں نے اس دینی ابتلا میں حکومت کا ساتھ دیا تھا اور موقع پرستی اور مصلحت شناسی سے کام لیا تھا ۔ وہ لوگوں کی نگاہوں میں گر گئے اور ان کا دینی و علمی وقار جاتار ہا ۔ اس کے مقابل امام صاحب کی شان دوبالا ہوگئی ، ان کی محبت اہل سنت اور صحیح العقیدہ مسلمانوں کا شعار اور علامت بن گئی ۔ ان کے معاصرین جنہوں نے اس فتنہ کی عالم آشوبی دیکھی تھی ، ان کے اس کارنامہ کی عظمت کا بڑی فراخدالی سے اعتراف کیا ہے اور اس کو دین کی بروقت حفاظت اور مقام صدیقیت سے تعبیر کیا ہے ۔ (تاریخ بغداد)

اداریہ