Daily Mashriq

بڑی سرمایہ کاری کے بڑے پیمانے پر تحفظ کی ضرورت

بڑی سرمایہ کاری کے بڑے پیمانے پر تحفظ کی ضرورت

برادر اسلامی ملک سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا دوروزہ دورہ پاکستان اور20ارب ڈالر یعنی28کھرب روپے کے معاہدے کو دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کا نیا باب اس لئے نہیں قرار دیا جاسکتا کہ دونوں برادر ممالک کے درمیان تعلقات کی نوعیب اس درجے کی ہے کہ اس میں مزید کوئی نیا باب رقم کرنے کی گنجائش ہی نہیں بہر حال چونکہ دونوں ملکوں کی تاریخ میں اس طرح کا معاہدہ پہلے طے نہیں پایا اس لئے اسے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کا باب زریں قرار دینا غلط نہ ہوگا۔ سعودی عرب متبادل توانائی،ریفائنری ، پیٹرو کیمکل پلانٹ معدنی وسائل ،بجلی کی پیدا وار ، کھیل اور سٹینڈرڈ ائزیشن کے شعبوں میں بھاری سرمایہ کاری کرے گا۔ اسے بد قسمتی ہی قرار دیا جائے گا کہ جب بھی پاکستان میں بھاری سرمایہ کاری کا موقع آیا ہمیں پڑوسی ممالک اور ان ممالک جن کو پاکستان کی ترقی ایک آنکھ نہیں بھاتی وہ نہ صرف تلملانے لگتے ہیں بلکہ پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ پاک چین اقتصادی راہداری کا وقت آیا تو پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کا سامنا کرنا پڑا خاص طور پر بلوچستان میں را کا بہت بڑا نیٹ ورک افغانستان میں غیر ضروری بھارتی قونصل خانوں سے پاکستان میں دہشت گردی اور بدامنی کے واقعات کے انتظامات بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کی صورت میں ہمیں سی پیک مزاحمتی ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔ گوادر پورٹ کوناکام بنانے کیلئے ہمارے پڑوسی ممالک نے چاہ بہار کا متبادل سامنے لانے کی سعی کی اس پر تو معترض ہونے کی گنجائش نہ بھی ہو لیکن کلبھوشن نیٹ ورک کا مرکز ایران کا ہونا پاکستان کیلئے سخت تکلیف دہ معاملہ تھا۔ اب ایک مرتبہ پھر ایک ایسے وقت میں جب پاکستان میں بھاری سعودی سرمایہ کاری کی مد میں ترقی کا ایک باب کھلنے والا ہے پڑوسی ملک کے ساتھ ہمارے تعلقات میں آنے والا بگاڑ اور رخنہ افسوسناک ہے۔ سعودی عرب اور ایران کے درمیان مخاصمت میں پاکستان کوئی فریق نہیں بلکہ پاکستان دونوں ملکوں کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے کی کئی بار کوشش کر چکا ہے اوردرون خانہ معاملات کو ٹھنڈا کرنے میں بھی پاکستان کا کردار کوئی پوشیدہ امر نہیںلیکن اس کے باوجود اس موقع پر برادر اسلامی ملک کا رویہ اور تہران میں پاکستانی سفیر کی طلبی کوئی اچھی صورت نہیں بلکہ اس سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی خوشگواریت پر اثرات پڑنے کا خدشہ ہے۔ ان سارے حالات وواقعات کے تناظر میں اس خدشہ کا اظہار بے سبب نہ ہوگا کہ پاکستان کو خدانخواستہ (خاکم بدہن) ایک نئی مبارزتی صورتحال کا سامنا ہوسکتا ہے جن سے بچنے کیلئے ہماری حکومت اور خصوصاًوزارت خارجہ کو مزیدمتحرک ہونے اور خدشات میںکمی لانے کیلئے دن رات کام کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کی پالیسیوں کے ناقدین کو پاکستان کے فیصلے ہی ہمیشہ غلط دکھائی دیتے ہیں لیکن جاری صورتحال میں ایران سے کشیدگی کم از کم پاکستان کے پیدا کردہ حالات اور پالیسیاں نظر نہیں آتیں بلکہ پانی کو گو لاکرنے کاعمل اغیار اور پاکستان کے خطے کے ممالک کے ساتھ تعلقات میں بگاڑلانے کی خواہشمند قوتوں کا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ بھارت بھی ایک خودساختہ واقعے کے ذریعے پاکستان کو تنازعات اور خطرات میں گھرا ہوا ملک ظاہر کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے۔ بھارت سے کبھی ہمیں خیر کی توقع تھی ہی نہیں اور اس کیلئے ہم ہمہ وقت تیاربھی ہوتے ہیںاس لئے وہ ہمارے لئے اتنا تکلیف دہ اور اس کا مقابلہ مشکل نہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ محولہ حالات میں پاکستان میں داخلی استحکام کی جس قدر ضرورت واہمیت ہے اس کا دوچند احتیاط اور داخلی وخارجی مسائل کا تدبر سے جائزہ لینے اور ان کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ گوکہ ممالک کے درمیان تعلقات ومعاملات برسوں پر محیط ہوتے ہیں اور ان کا ایک تسلسل اور پس منظر ہوتا ہے لیکن اصل اہمیت اور اس کا کریڈٹ بہرحال اسی حکومت کو جاتا ہے جس دور حکومت میں معاملات حتمی شکل اختیار کرتے ہیں اس طرح یہ موجودہ حکومت کی وہ پہلی بڑی اور نمایاں کامیابی قرارپاتی ہے جو موجودہ حکومت کے حصے میں آئی۔ ملک میں سی پیک اور سعودی سرمایہ کاری کی صورت میں جس انقلاب کی آمد ہے اس کی کامیابی قومی اتحاد اور دشمنوں کی چالوں سے ہوشیار رہ کر ہی ممکن بنایا جاسکتا ہے جو حکومت وقت ہی کی نہیں پوری قوم کی اجتماعی ذمہ داری ہے جس سے فرداً فرداًاور اجتماعی طور پر احتراز کی کوئی گنجائش نہیں ۔توقع کی جانی چاہیئے کہ ہماری قومی وسیاسی قیادت اور حکومت سبھی کو اس امر کا بخوبی احساس پہلے سے ہی ہوگا اور وہ اس بارے میں سنجیدہ بھی ہوںگے کہ پاک سعودی اقتصادی ومعاشی تعلقات کے تناظر میں پیدا شدہ حالات اور ممکنہ حالات سے کس طرح سے نمٹا جائے گا اور قومی یکجہتی کا کس طرح ایسا عملی مظاہرہ کیا جائے گا کہ داخلی طور پر ہم ایک مٹھی کی طرح بن جائیں اور اغیار کو سازشوں کا کوئی موقع ہاتھ نہ آئے ۔

متعلقہ خبریں