Daily Mashriq

بی آر ٹی، روز ایک نیا مذاق

بی آر ٹی، روز ایک نیا مذاق

پشاور ریپڈ بس منصوبے کے لئے آر ٹی ایس سسٹم ، بی آر ٹی سگنل ، ٹریفک لائنز ، اسٹیشنز کے قیام کی تکمیل 27کلو میٹر روٹ پر آزمائشی بنیادوں پر چمکنی سے فردوس تک اور حیات آباد سے یونیورسٹی ٹائون تک چلانے کے انتظامات ادھورے ہونے کے باعث اس سے مسافروں کو کسی قسم کی سہولت نہ ہونا تقریباً یقینی ہے۔بی آر ٹی کے دوسروں کے روٹ کی تعمیر اور ایچ ٹو کی تعمیر ادھوری ہونے کے باعث ایچ ون اور ایچ تھری پر 23مارچ سے بیس بسوں کی سروس شروع ہونا مذاق سے اس لئے کم نہ ہوگا کہ ایک روٹ پر چلنے والی دس بیس نہ تو کافی ہوں گی اور نہ ہی سواریاں آدھے روٹ پر سفر کو ترجیح دیں گی۔ متعلقہ حکام اس امر کی کیا وضاحت دیں گے کہ ان دوسروں کے درمیان کا سفر مسافر کیسے طے کریں گے۔ ہمارے تئیں اس کا ایک ممکنہ حل ان بسوں کے آنے سے حل ہوسکتا ہے جسے فیڈر روٹس پر چلانے کا عندیہ دیا گیا تھا لیکن مسئلہ یہ ہے کہ فیڈرروٹ کی ایک بس بھی ابھی نہیں پہنچی۔ بسوں کی تعداد میں بھی کمی کردی گئی ہے خدشہ ہے کہ کہیں فیڈرروٹ کی بسیں سرے سے ہوں ہی نہ یا پھر فیڈر بسوں کی تعداد اتنی کم ہو کہ عوام کوا یک مرتبہ پھر روایتی بسوں میں دھکے کھا کر بی آر ٹی سٹیشنز آنا پڑے۔ حکام کے آئے روز کے دعوئوں اور اقدامات سے روز ایک نئی صورتحال اور نئے سوالات اٹھ کھڑے ہو رہے ہیں جن کاجواب نہ ملنے پر عوام کی اس اہم منصوبے سے بیزاری ولاتعلقی بڑھ رہی ہے۔ بی آرٹی منصوبے کے آغاز سے اب تک اتنی غلط بیانیاں اور جھوٹے وعدے اور دعوے ہوچکے ہیں کہ اب عوام کا اس پر اعتماد برقرار نہیں رہا۔ ایک نامکمل روٹ پر دس دس بسوں سے اس اہم منصوبے کا افتتاح کر کے جگ ہنسائی کی بجائے درمیانی روٹ کی جلد سے جلد تکمیل کی سعی کی جائے اور مزیدبسوں اور فیڈر روٹس کی بسوں کا بندوبست کیا جائے۔ بیس بسوں سے بی آرٹی کا منصوبہ تو کجا ایک نجی ٹرانسپورٹ بھی شاید نہ چلے۔

انسداد پولیو مہم پر سوالیہ نشان

پاکستان پولیو اریڈکیشن پروگرام کی جانب سے گزشتہ ماہ کیے گئے ماحولیاتی سروے میں 10شہروں کے گٹر کے پانی میں پولیو وائرس کی تشخیص تشویشناک اورپریشان کن معاملہ ہے جس سے پولیو کے خاتمے کی بجائے اس کے پھیلنے کا ثبوت ملتا ہے۔قومی ہنگامی آپریشنز سینٹر کے مطابق راولپنڈی، فیصل آباد، لاہور، کراچی، سکھر، قلعہ عبداللہ، کوئٹہ، ڈیرہ اسمعیل خان، پشاور اور جنوبی وزیرستان سے جنوری کے مہینے میں جمع کیے گئے سیوریج کے نمونوں میں پولیو وائرس پایا گیا۔واضح رہے کہ پولیو مہم کی کامیابی جانچنے کے لیے گٹر کے پانی کے نمونوں کو جانچا جانا بنیادی طریقہ کار ہے۔بڑی تعداد میں لوگوں کے ایک شہر سے دوسرے شہر آنے جانے پر پولیو کیس کسی بھی شہر سے سامنے آسکتا ہے تاہم اس وائرس کی سیوریج میں موجودگی ظاہر کرتی ہے کہ علاقے میں پولیو مہم اپنا ہدف حاصل نہیں کرسکی۔انسداد پولیو کے ماہرین کو ان وجوہات کا ایک مرتبہ پھر بغورجائزہ لینے اور خاص طور پر قطرے پلانے کے عمل کے سوفیصد یقینی ہونے بارے مزید اقدامات اور طریقہ کار میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے ۔ اب تو افغان مہاجرین کی آمد اور قبائلی علاقہ جات سے بڑے پیمانے پر شہری علاقوں میں مراجعت ونقل مکانی کا بھی عمل رک چکا ہے۔ شہری علاقوں میں پولیو قطرے پلانے کی مزاحمت ومخالفت بھی نہیں اس کے باوجود راولپنڈی، فیصل آباد،کراچی اور پشاور جیسے بڑے شہروں میں بھی پولیو وائرس کا پایا جانا حیران کن ہے ۔ پولیو قطرے پلانے والی ٹیموں کی مزید نگرانی کے ساتھ ساتھ ان کے معاوضے میں اضافہ اور خاص طور پر ان کو تسلسل کے ساتھ بلاکٹوتی معاوضہ کی ادائیگی یقینی بنائی جائے تاکہ پولیو مہم میںکوئی سقم نہ رہ جائے اور پولیو کے وائرس کے خاتمے کی کوششوں میں کامیابی کی شرح بہتر ہو۔

سرکاری جامعات میں سکالروں کی مشکل

وفاقی حکومت نے ملک بھر کی پرائیویٹ یونیورسٹیز کے ماسٹر، ایم فل اورپی ایچ ڈی کرنیوالے طلباء و طالبات کو ریسرچ کے وقت پراجیکٹ کی تیاری کیلئے فنڈز دینے پر غور اعلیٰ تعلیم کے فروغ میں اہم قدم ثابت ہوگا۔ہمارے تئیں اس سے بھی اہم قدم سرکاری جامعات میں ایم فل، ایم ایس اور پی ایچ ڈی کے سکالروں کی بروقت فراغت ہے ہائیر ایجوکیشن کمیشن کو سرکاری جامعات کی سست روی اور اس کے باعث تعلیم ادھوری چھوڑ جانے والوں کی تحقیقات کے بعد متعلقہ کورس سپروائزروں کو آئندہ کیلئے نا اہل قرار دینے کا اقدام کرنا چاہیئے تاکہ طلبہ سرکاری جامعات میں داخلہ لینے میں تذبذب کا شکار نہ ہو۔

متعلقہ خبریں