Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

اگر آپ جہیز لیتے ہیں اور جہیز سمیت شادی کرتے ہیں تو آپ کاذہن قید ہے ۔آزاد کرادیں۔ سسرال کے پیسے کی طرف نہ دیکھیں مسلمان اللہ کے ہر حکم کو مانتے ہیں قرآن میںخمر اور میسر سے بچنے کا حکم ہے میسر کا مطلب ہے مفت پیسہ کمانا، ہر وہ پیسہ جو بغیر محنت کے کمایا جائے وہ حرام ہے ۔ اسی طرح جہیز بھی مفت کی رقم ہے اس لئے وہ بھی حرام ہے ایک بھارتی پروفیسر کی نوجوانوں سے خطاب کی ویڈیو واٹس ایپ پر زیر گردش ہے ۔ ویڈیو دیکھ اور سن کر ہی خیالات سے مکمل آگاہی حاصل ہوسکتی ہے البتہ اس کا مفہوم وموضوع بنیادی طور پرجہیز کی لعنت ہے۔ پروفیسر صاحب اپنی تقریر میں یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ بیٹیوں کو اپنے والدین سے بڑی محبت ہوتی ہے اگر دولہا ان کے والدین کو زیر بار کرے گا تو وہ کبھی بھی ان سے محبت نہیں کرے گی سسرال والوں سے تو بالکل نہیں ۔ میسر کا حقیقی مفہوم انہوں نے جو بتایا اسے ذہن قبول ہی نہیں پسند بھی کرتا ہے باقی علمائے کرام ہی اس کی بہتر تشریح کرسکتے ہیں ۔ ہمارے ہاں جہیز کے خلا ف قانون سازی تو ہو رہی ہے لیکن اس کے خلاف نہ تومنبروں پر بات ہوتی ہے نہ مساجد میں اور نہ ہی علمائے کرام اور معاشرے کے مصلحین وسول سوسائٹی اور نہ ہی عورتوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے کام کرنے والی خواتین اس پر بات کرتی ہیں حالانکہ معاشرے میں خواتین کے استحصال کا سب سے بڑا ذریعہ جہیز ہے۔ جس کے باعث شادیوں میں تاخیر ہوتی ہے کوئی مرد اگر خود کو مرد کہتا ہے اور زور بازو پر ناز ہے تو پرائی دولت سے گھر کیوں بنائے خود کما کر کیوں نہ گھر آباد کرے۔با بائے مشرقیات کا خیال ہے کہ جہیز اگر ضرورت کی چند اور ضروری چیزوں ہی کی صورت میں ہو اور ضرورت کی ایسی چیزیں جو والدین بہ آسانی اپنی بیٹی کو دے سکیں یاتھوڑی سی دقت کے ساتھ اس کا انتظام کرسکیں تو رواہیں جہیز کو حرام قرار دینے سے حضرت فاطمہؓ کو ملنے والا جہیز جو گوکہ نہایت ضروری اشیاء کی صورت ہی میں تھا پرسوال اٹھے گا۔ علاوہ ازیں بھی کونسا باپ نہیں چاہے گا کہ اپنی بیٹی کیلئے ضرورت کی اشیاء کا بندوبست کرے۔ ایک طرح سے یہ اس کا حق ہے جہیز کا جو مطلب ہمارے معاشرے میں رائج ہے وہ یہ کہ خواہ سسرال والوں کے پاس جہیز رکھنے کی گنجائش ہی نہ ہو بیٹی کو جہیز دے کر رخصت کرنا ہے خواہ سسرال والے اسے بازار لیجا کر بیچ ہی دیں۔ آجکل جہیز کا سامان مکمل اور سستا مل رہا ہے جہیز فروخت کرنے والے سستے داموں بیچ کر جان چھڑا تے ہیں اور یہیں سے بہو کی دل شکنی کا آغاز ہوتا ہے۔ جہیز لینے سے جب تک لڑ کے والے انکار ی نہیں ہوں گے یہ لعنت رہے گی ۔ جہیز کی صورت میں گھر کی ساری اشیاء یکبارگی پورا ہونے کا مطالبہ بیٹیوںکا بھی ہوتا ہے اگر بیٹیاں بھی سسرال جا کر دھیرے دھیرے ضرورت کی اشیاء پوری کرنے کا تہیہ کریں اور دونوں خاندان بغیر کوئی بھاری بوجھ سہنے ،قرضوں میں جکڑے بغیر بہو اور داماد کو گھریلو اشیاء دلوائیں تو کیا یہ بہتر طریقہ نہ ہو۔

متعلقہ خبریں