Daily Mashriq

سعودی ولی عہد کا دورہ اور مثبت پہلو

سعودی ولی عہد کا دورہ اور مثبت پہلو

سعودی ولی عہد کے اعزاز میں دئیے گئے عشائیہ سے قبل وزیر اعظم ہائوس میں مفاہمت و تعاون اور سرمایہ کاری کی متعدد یادداشتوں پر دونوں ملکوں کے وزراء نے دستخط کئے۔ ولی عہد کہتے ہیں 20ارب ڈالر کی سرمایہ کاری آغاز ہے اس میں ہر سال اضافہ ہوگا۔ پاکستان کی طرف سے سعودی عرب کو سی پیک میں شمولیت کی دعوت پر چین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب سمیت کوئی بھی ملک سی پیک میں شامل ہوسکتا ہے۔ ساعت بھر کے لئے رک کر ایک عرض سن لیجئے۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان کے موقع پر وزیر اعظم ہائوس کے عشائیہ اور ایوان صدر کی تقریب میں حزب اختلاف کو مدعو نہ کرنا پارلیمانی روایات کے برعکس ہے۔ مہمان کسی جماعت یا فرد کے ذاتی مہمان نہیں بلکہ مملکت پاکستان کے مہمان تھے۔ اپوزیشن کو مدعو نہ کرنے کے حوالے سے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کے ارشادات عالیہ سے کوئی بھی ذی شعور اتفاق نہیں کرسکتا۔ مختلف نوعیت کے مقدمات اور الزامات اگر اپوزیشن رہنمائوں پر ہیں تو پی ٹی آئی کے وفاقی و صوبائی وزراء ایک وزیر اعلیٰ سمیت در جن بھر سے زیادہ ذمہ داران کو بھی مختلف الزامات کے حوالے سے تحقیقات کا سامنا ہے۔ خود جناب وزیر اعظم کے خلاف ہیلی کاپٹر والے معاملے میں نیب تحقیقات میں مصروف ہے۔ اپوزیشن کو سعودی مہمان کے اعزاز میں منعقدہ تقریبات سے دور رکھنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔ اخلاقی‘ قانونی اور سیاسی کوئی بھی نہیں۔ سیاسی بالغ نظری اور ملکی مفادات کے ساتھ اگر اتحاد و اتفاق کاعملی مظاہرہ کیا جاتا تو درست ہوتا۔ اب لکیریں پیٹنے کافائدہ کوئی نہیں پھر بھی یہ عرض کرنا از بس ضروری ہے کہ آپ ہی اپنی ادائوں پر غور کیجئے۔ ہم اصل موضوع کی طرف پلٹتے ہیں سعودی ولی عہد نے کہا پاکستان کا مستقبل بہت روشن ہے ہم مل کر چلیں گے۔ اچھے اور برے وقت میں اکٹھے رہے ہیں ان کا پر تپاک استقبال یاد گار ہے۔ دونوں ریاستیں سیاسی خارجی اور معاشی تعاون کی اہمیت کو سمجھ رہی ہیں۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ وزیر اعظم ہائوس میں دئیے گئے عشائیہ میں وزیر اعظم عمران خان نے سعودی ولی عہد کو سعودی عرب میں مقیم لاکھوں پاکستانی محنت کشوں کو درپیش مسائل اور چھوٹے موٹے الزامات کے تحت سعودی جیلوں میں بند 3ہزار پاکستانیوں کے مسائل کی طرف متوجہ کرتے ہوئے ذاتی دلچسپی لینے کی درخواست کی جواباً ولی عہد نے نہ صرف خوش دلی سے یقین دہانی کروائی بلکہ یہ بھی کہا کہ مجھے سعودیہ میں پاکستان کا سفیر سمجھیں۔ سعودی جیلوں میں بند پاکستانیوں کی بڑی تعداد پر مقامی قوانین کی خلاف ورزی کے الزامات ہیں کچھ وہ ہیں جن کے خلاف ان کے کفیل نے شکایات کیں اور وہ گرفتار ہوئے۔ چند ایک پر مارپیٹ اور جھگڑوں کے الزامات ہیں۔ بہت سارے قیدی وہ ہیں جنہوں نے طویل عرصہ تک تنخواہیں نہ دئیے جانے پر اپنے مالکان اور کمپنیوں کے خلاف احتجاج کیا اور دوران احتجاج گرفتار ہوئے۔ مادر وطن سے دور ان محنت کشوں کے مسائل و مشکلات کی طرف ولی عہد کو متوجہ کرنے پر وزیر اعظم کا شکریہ اپنے وطن کو بھاری زر مبادلہ بھیجنے والے ان محنت کشوں کی آڑے وقت میں سعودی عرب میں پاکستانی سفارتخانے نے کوئی مدد نہیں کی۔ افسر شاہی ایک سی ہوتی ہے محنت کش ان کے نزدیک انسان نہیں غلام ہوتے ہیں۔ ہمیں امید کرنی چاہئے کہ وزیر اعظم اور وزیر خارجہ پاکستانی سفارتکاروں کے غیر ذمہ دارانہ رویوں کا بھی نوٹس لیں گے۔ ولی عہد نے اس مسئلہ کو ذاتی طور پر دیکھنے کا وعدہ کیا ہے سو ہمیں یقین ہے کہ اگلے کچھ دنوں یا ہفتوں میں ان محنت کشوں کے حوالے سے اچھی خبریں سننے کو ملیں گی۔ حاجیوں کی امیگریشن کے حوالے سے وزیر اعظم نے ولی عہد سے جو درخواست کی وہ بھی قابل ستائش ہے۔ اہم انسانی مسئلوں پر سعودی ولی عہد کو متوجہ کرنے کے اس عمل کی بھد اڑانے کی ضرورت نہیں۔ کسی نے تو اس سنگین ہوتے مسئلہ پر بات کی۔امر واقعہ یہ ہے کہ مملکتوں کے تعلقات مذہب و عقیدوں اور بھائی چارے کی ٹافیوں پر نہیں چلتے بڑھتے ریاستیں بہر طور اپنے معاشی و خارجی مفادات کو مد نظر رکھتی ہیں۔ دنیا بھر میں سعودی سرمایہ کاری کے نئے دور میں دوست ملک کا پاکستان میں 20ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے لئے آمادگی اور معاہدے کرنا احسن ہے۔ امید کی جانی چاہئے کہ ولی عہد کے وعدہ کے مطابق اس میں سالانہ اضافہ ہوگا۔ سعودی عرب اس وقت برطانیہ اور بھارت میں بڑے بیرونی سرمایہ کاروں میں پہلے نمبر پر ہے۔ بھارت میں سعودی یا دوسرے عرب دوستوں کی سرمایہ کاری ہو یا بھارت ایران تعلقات ان پر ناک چڑھانے کی بجائے اس امر کو مد نظر رکھنا ہوگا کہ سوا ارب کی آبادی والے ملک کی منڈی میں سرمایہ کاری کی گنجائش بہر طور بائیس کروڑ کی آبادی والے ملک سے پانچ سو فیصد زیادہ ہے۔ ہمارے لئے مناسب یہ ہے کہ ہم کسی کے کسی کے ہاں سرمایہ کاری پر منہ بسورنے کی بجائے بیرونی سرمایہ کاری لانے کے لئے دوست ممالک کے سرمایہ کاروں کا اعتماد حاصل کریں۔ ہاں اس سے پہلے اگر مقامی سرمایہ کاروں اور حکومت کے درمیان اعتماد سازی کے لئے کوششیں کرلی جائیں تو برا ہر گز نہیں‘ بیرونی سرمایہ کار ہمیشہ کسی ملک میں سرمایہ کاری کرتے وقت اس کے سرمایہ کاروں کا رجحان دیکھتا ہے۔ بنگلہ دیش‘ ملائیشیاء اور امارات میں سرمایہ کاری کرنے والے مقامی سرمایہ کاروں کو وطن عزیز میں سرمایہ کاری کے لئے اگر حکومت آمادہ کرلیتی ہے تو اس کا بیرونی سرمایہ کاروں پر خوشگوار اثر ہوگا۔ خوش آئند ترین بات یہ ہے کہ 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدے ہوئے ہیں۔ گرانٹ اور قرضے صرف 8ارب روپے کے ہیں۔ کوشش یہی ہونی چاہئے کہ قرضے لینے کی بجائے سرمایہ کاری پر آمادہ کیا جائے اور پاکستانی اشیاء کی عرب ریاستوں میں فروخت کے لئے سہولتیں حاصل کی جائیں۔ ایڈ کی بجائے ٹریڈ سے طویل المدتی بہتری لائی جاسکتی ہے۔

متعلقہ خبریں