Daily Mashriq

کیا’’سبھی کوسبھی سے خطرہ ہے‘‘؟

کیا’’سبھی کوسبھی سے خطرہ ہے‘‘؟

چوں کفرازکعبہ ہر خیز دکجا ماند مسلمانی، ہم تو ان ناکہ بندیوں کو روتے رہتے ہیں جو یا تو شہر کے مختلف علاقوں میں گزشتہ کئی برس سے لگائے گئے تھے اور جن کی وجہ سے عام لوگوں کا جینا دوبھر ہوگیا تھا، لمبی لمبی قطاریں لگ جاتیں اور منٹوں کا سفر گھنٹوں میں طے ہوتا، یاپھر ان جلوسوں ،دھرنوں اور روڈ بلاک سے پریشان تھے بلکہ اب بھی ہیں جو بعض لوگ اپنے مطالبات منوانے یا حکومتی اداروں کے خلاف احتجاج کے ہنگام جمع ہو کر عوام کی نقل وحرکت کو زبردستی بند کر دیتے ، ناکوں کی صورتحال تو اب بڑی حد تک بہتر ہوگئی ہے جس کیلئے ہمیں عدلیہ کا شکرگزار ہونا چاہیئے کہ اس حوالے سے سوموٹو نوٹس لیکر بلا ضرورت لگائے جانے والے ناکوں سے عوام کی جان چھڑادی گئی ہے تاہم اب بھی ان سے مکمل گلو خلاصی نہیں ملی کہ بعض جگہوں پر اسی طرح نہ صرف یہ ناکے موجود ہیں بلکہ جن علاقوں میں یہ صورتحال ہے وہاں عام شہریوں کے ساتھ روا رکھا جانے والا سلوک بھی نامناسب ہی قرار دیا جا سکتا ہے البتہ اس نامناسب کو بھی وہاں ڈیوٹی دینے والوں کی اپنی ذہنی کیفیت کے ساتھ جوڑا جا سکتا ہے کہ پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں اور بعض افرادکا رویہ بہت ہی مہذبانہ ہوتا ہے، نہایت احترام سے ایک آدھ سوال کرکے آپ کو جانے دیا جاتا ہے اور جن کا رویہ اور لہجہ اگر کھردرا ہونے کی شکایت سے جوڑا جائے تو شاید اس لئے کے ساراسارادن مختلف لوگوں کے ساتھ ڈیل کرتے ہوئے عین ممکن ہے کہ خود آپ سے پہلے وہاں سے گزرنے والوں نے ڈیوٹی پر مامور اہلکاروں کے ساتھ سخت رویہ اختیار کیاہو جس کا ردعمل بعد میں وہاں سے گزرنے والے چند افراد کو بھگتنا پڑتا ہو، خیر جانے دیجئے یہ معمولی باتیں ہیں جن سے درگزر ہی کرنا چاہیئے کہ بہ حیثیت مجموعی اب حالات بہت بدل گئے ہیں اور اب کم از کم ناکوں پر پہلی والی صورتحال نہیں رہی،البتہ خود عوام ہی اگر مطالبات(جائز یا ناجائز) کیلئے دھرنے دیں،جلوس نکال کر شاہراہوں کو بند کریں تو حالت کیا ہوگی اس پر کوئی دورائے تو ہو ہی نہیں سکتی ، اور اس قسم کی صورتحال سے مہذب دنیا میں کیا پیغام جاتا ہے اس بارے میں ہم نے کبھی سوچا ہی نہیں، بلکہ سوچنے کی زحمت ہی نہیں کرتے کہ دوسرے ممالک میں عام لوگوں کی نقل وحمل کو بلاوجہ روکنے سے ان کی زندگیوں پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں اور دوسروں کے حقوق سلب کر کے سڑکیں،شاہراہیں بلاک کرنے والوں کو اس بات کی اجازت کیوں کر دی جاسکتی ہے؟مگر بقول شاعر

ہزار طعنے سنے گا خجل نہیںہوگا

یہ وہ ہجوم ہے جو مشتعل نہیں ہوگا

طعنوں سے مشتعل کیوں ہو، ہجوم تو پہلے ہی اپنے مقاصد کے حصول کیلئے مشتعل ہورہا ہوتا ہے پھر بھلا اسے کچھ سنائی کہاں دیتا ہے ، مگر اصل مسئلہ یہ نہیں بلکہ کچھ اور ہے اوروہ یہ ہے کہ جب حکومت خود شہر کو ’’تالے لگادے‘‘۔اور عوام کو کہے کہ گھروں میں بیٹھ کر ٹی وی دیکھتے رہو،بابائے قوم کے اس فرمان کی دھجیاںہم کب کی اڑا چکے ہیں کہ، کام کام اور بس کام‘‘بلکہ بیوروکریسی کے ایک خاص طبقے نے تو ایک کی بجائے دوہفتہ وار چھٹیوں کو قوم پر مسلط کر کے محولہ پیغام کو دفن کردیا ہے، اوپر سے ایک معزز مہمان کی آمد پر جڑواں شہر میں چھٹی کراکے عوام کو موج میلہ کرنے کی کھلی چھٹی دیکر خدا جانے ہم دنیا کو کیاپیغام دینا چاہتے ہیں یعنی خدانخواستہ یہی کہ ہمارے ہاں مہمانوں کی جان کو عام لوگوں سے بھی خطرہ لاحق ہوسکتا ہے؟ یہ کہاں آگئے ہم، ترے ساتھ چلتے چلتے؟ اب اگر دوسرے ممالک کو چھوڑ دیجئے ہمارا ازلی بد بخت دشمن ہی اگر ہمیں اس بات کے طعنے مارے کہ جس ملک میں باہر سے آنے والے معززمہمان کو بھی’’خطرات‘‘ لاحق ہوں اس ملک میں اور کس کی جان محفوظ ہوسکتی ہے تو ہمارے پاس کیا جواز ہوگا اورہم ان طعنوں کے جواب میں کیا کہہ سکیں گے؟ جون ایلیاء نے بھی تو کہا تھا

اب نہیں کوئی بات خطرے کی

اب سبھی کو سبھی سے خطرہ ہے

اسلام آباد کو بند کر نے والوں نے شاید یہ شعر سن رکھا ہوگا اور وہ جون ایلیاء کی پیشگوئی سے متاثر ہوئے ہوں گے تبھی کہیں سے یہ تجویز فائل پر لکھ کر آگے بڑھا دی گئی ہوگی کہ کیوں نہ معزز مہمان کی سیکورٹی کو فول پروف بنانے کیلئے شہریوں کو گھروں میں’’نظر بند‘‘ کر کے شہر کی سڑکوں ،شاہراہوں، گلیوں کے ساتھ وہی سلوک روا رکھا جائے جومرزا یار کیلئے خالی کرانے کی سوچ کے ساتھ صدیوں پہلے وابستہ ہے اور ضرب المثل کی صورت پنجابی ادب کا حصہ ہے یعنی

گلیاں ہوں سنجیاں وچ مرزا یار پھرے

حالانکہ مہمان معظم کا تعلق جس سرزمین سے ہے(کالم کے چھپنے تک’’تھا‘‘ ہو جائے گا)وہ ہمارے بلکہ پورے عالم اسلام کیلئے قابل صد احترام ہے اور جملہ مسلمانان عالم وہاں کی مٹی کو اپنی آنکھوں کا سرمہ قرار دیتے ہیں،بھلا ایسے مہمان مکرم کیلئے عام پاکستانیوں سے(خدانخواستہ) کیا خطرہ ہوسکتا ہے،بلکہ ایسے مہمانوں کا تو دیدارہی ہم باعث خیر وبرکت سمجھتے ہیں،مگر دارالحکومت کو’’خالی‘‘ کراکے مہمانوں کو کیا تاثر دیا گیا؟سیکورٹی لازمی تھی اور ہونی چاہیئے مگر صرف اس وقت تک جب ایئر پورٹ سے ایوان وزیراعظم تک ان کا استقبالی قافلہ بہ خیریت گزرنہ جاتا،یعنی دوتین گھنٹے کیلئے متعلقہ شاہراہیں بند کردی جاتیں اور مہمانان گرامی اپنے رہائشی مقامات پر پہنچ جاتے،

(باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں