Daily Mashriq

 بھارت کیوں پریشان ہے؟

بھارت کیوں پریشان ہے؟

بھارت کی پریشانی سمجھ میں آتی ہے۔ وہ بے چارے مسلسل اس خوف میں مبتلا ہیں کہ اب پاکستان میں ان کے دوست حکمران نہیں رہے۔ حکومت وقت کچھ اور کرے نہ کرے حمیت کی بات ضرور کرے گی‘ ملکی سا لمیت کا نعرہ ضرور لگائے گی‘ کسی بین الاقوامی دبائو میں نہ آنے کا علم ضرور بلند کرے گی۔ اس حکومت کا خیال بالکل واضح ہے۔ یہ لوگ پاکستان سے مخلص ہیں‘ ان کے اسی اخلاص پر آمنا و صدقنا کہتے ہوئے ملک میں عوام نے انہیں ووٹ دیا ہے۔ عوامی اعتماد کا دبائو ان کے لئے کسی بھی بین الاقوامی طاقت کے دبائو سے کہیں زیادہ ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ کئی بین الاقوامی قوتیں ان کے خلاف بر سر پیکار تھیں لیکن عوام کے اعتماد نے انہیں حکومت بخشی ہے۔ وہ یہ بھی بخوبی جانتے ہیں کہ اب اس خطے کے عوام کی ایک بڑی اکثریت جس میں پاکستان اور بھارت د ونوں کے ہی لوگ شامل ہیں یہ سمجھ چکے ہیں کہ محض نفرتوں کو بنیاد بنا کر حکومتیں کرنے والے ان کے ملک کے دوست نہیں ہوسکتے۔ غربت کی گرفت سرحد کے دونوں جانب ہی بہت مضبوط ہے اور اس سے جان چھڑانے کا راستہ خطے کے دوسرے ملکوں سے بہتر تعلقات اور معیشتوں کی بہتری کے نتیجے میں ہی واضح ہوسکتا ہے۔ وہ پاکستان کو معاشی طورپر مضبوط کرنا چاہتے ہیں تبھی تو کرتار پور راہداری کھولنے کا اقدام کیاگیا۔ تعصب اور نفرت کاخاتمہ کرنا ہی علاقے میں تعلقات کی بہتری کا باعث بنے گا۔ سرحدیں کھولی جائیں گی تو معیشتوں کو سہارے ملیں گے اور جب معیشت مضبوط ہوگی غربت اپنے آپ کم ہونے لگے گی۔ لیکن بھارت اس وقت پریشان ہے‘ بھارت میں اس وقت جو مکتب فکر حکمران ہے اس کے لئے اپنی اور اپنے عوام کی بہتری سے زیادہ اہم وہ نفرت ہے جس کا وہ مسلسل اظہارکرتے ہیں جو انہیں مسلمانوں سے محسوس ہوتی ہے جس کے باعث خود بھارت میں موجود ایک دوسرے طبقہ فکر کے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ سوچ‘ یہ تعصب اور یہ نفرت ہی دراصل بھارت کے حصے بخرے کرنے کا سبب بنے گا۔ میں اور آپ یہ سمجھ سکتے ہیں کہ موجودہ بھارتی حکمرانوں کی پریشانی اس لئے بھی سوا ہو رہی ہے کیونکہ امریکہ کی طاقت میں بھی خاطر خواہ کمی ہے‘ روس سے دوستی بھارت خود ہی سرد مہری کاشکار کر چکا ہے جبکہ گزشتہ چند سالوں میں پاکستان کی خارجہ پالیسی میں کچھ بہتری پیدا ہوئی ہے۔ پاکستان سے امریکہ کی محبت میں کچھ کمی ہے۔ موجودہ حکومت نہ تو امریکی دبائو ماننے کے لئے تیار ہے اور نہ ہی آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کی شائق ہے۔ دونوں ہی باتیں امریکہ کی طرف پاکستان کے جھکائو نہ ہونے کے علمبردار ہیں۔ دوسری جانب روس کی معیشت مضبوط ہو رہی ہے اور آہستہ آہستہ روس نے دوبارہ اقوام عالم میں اپنا قد بڑھانا شروع کردیا ہے۔ اس خطے نے آنے والے سالوں میں دنیا کی سیاست میں اہم سے اہم ترین ہوتے چلے جانا ہے۔ چین کا جھکائو پہلے ہی پاکستان کی طرف بہت واضح ہے۔ اگرچہ چین اپنے تجارتی تعلقات بھی بھارت سے استوار رکھتا ہے اس حوالے سے بھی ان کی پالیسی بالکل واضح اور نہایت عقلمندانہ ہے لیکن پاکستان سے معاملات میں چینی حکومت محبت کا برتائو رکھتی ہے۔ روس بھی اب پاکستان کی جانب مائل بہ کرم ہے۔ اس کی وجوہات ایسی نہیں کہ ہمیں معلوم ہی نہ ہوں۔ پاکستان کی گرم پانی کی بندر گاہیں روس کو اپنی جانب متوجہ کرنے کا سبب ہیں۔ یہ معاملات اسی نہج پر چلتے رہیں اور پاکستان میں یہ سوچ غالب آجائے جہاں ہم اپنے وسائل سے خوفزدہ ہونے کے بجائے انہیں اپنے معاشی مفاد کے لئے استعمال کرنے کے اہل ہوسکیں تو افغانستان کے لئے بھی پاکستان سے تعلقات مکدر رکھنا ممکن نہ رہ جائے گا۔ یہ وہ وقت ہے جب پاکستان کی اصل قدر و قیمت اس خطے کے اکثر ممالک جان رہے ہیں۔ گوادر کی صورت میں پروردگار کی طرف سے اس ملک کو ایک ایسا تحفہ دیاگیا ہے کہ صرف اس بندر گاہ کا بہتر استعمال اس ملک کی غربت دور کرسکتا ہے۔ یہ بات پاکستان دیکھ سکے یا نہ دیکھ سکے یا اپنے بہترین مستقبل کے مکمل شواہد جانچ سکے لیکن یہ طے ہے پاکستان کے ہمسایوں کو اس بات کا پورا ادراک ہے۔ بھارت کی پریشانی بھی یہی ہے۔ اس پریشانی کا اپائے تبھی ممکن ہے جب بھارت اپنے دل سے پاکستان کی نفرت دور کرے۔ معاشی پریشانیوں کا حل کبھی بھی نفرتوں میں پنہاں نہیں ہوتا کیونکہ معاشی پریشانیوں کو دور کرنے کے لئے محنت کرنا پڑتی ہے۔ تعاون سے آسان راہیں تلاش کرنا پڑتی ہیں‘ لوگوں کے‘ دوسری پارٹیوں کے مفاد کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ نفرتوں کو نبھانے میں بھی بہت قوت اور وسائل خرچ ہوتے ہیں‘ آنے والے وقت میں اس سب کا کوئی فائدہ نہیں۔ دنیا میں لوگ اس حد تک ذہنی بلوغت تک پہنچ چکے ہیں کہ وہ سمجھ سکتے ہیں کہ بے وجہ نفرت اور تعصب توانائی کے زیاں کا باعث ہے‘ اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ جب تک مودی سرکار اور اسی طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ یہ نہ سمجھیں گے وہ اس پریشانی میں اور جلاپے کا شکار رہیں گے۔

متعلقہ خبریں