Daily Mashriq

پاکستان کے مشکل پڑوسی

پاکستان کے مشکل پڑوسی

بھارت کو تو ہندوستان کے مسلمان جنم جنم سے جانتے ہیں،لیکن ہندوستان پر جب مسلمان حکمران تھے، تب حالات اور تھے اور جب سے بھارت میں انگریز کی حکومت آئی تب سے ہندوستان کے ہندوئوں کے تیور زمانے کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتے چلے گئے۔ پاکستان پر ہند کے مسلمانوں بالخصوص پاکستان کی طرف ہجرت کرنے والے مسلمانوں کے ساتھ متعصب ہندوبلوائیوں اوران کے اُکسانے پر مشرقی پنجاب کے سنگدل سکھوں نے جو بہیمانہ ظلم کیا وہ تاریخ کا انمنٹ حصہ بن چکا ہے۔ سکھ برادری کے بڑوں کو بعد میں اس کا احساس ہوا اور اُنہوں نے وقتاً فوقتاً اپنے پُرکھوں کے اس کردار پر معذرت اور پشیمانی کا اظہار بھی کیا یہی وجہ ہے کہ آج پاکستانیوں اور دنیا بھر میں آباد سکھوں کے درمیان بالخصوص پاکستان کی سکھ برادری کے ساتھ بہترین اور احترام باہمی پر مبنی تعلقات قائم ہیں۔ اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ نوجوت سنگھ کی عمران خان کی تقریب حلف برداری میں آمد کے موقع پر پاکستان آرمی کے چیف آف آرمی سٹاف سے جھپی اور اس قسم کے تعلقات کے نتیجے میں کرتارپور کی زیارت کے لئے سکھوں کو خصوصی سہولیات فراہم کرنا ممکن ہوا۔ لیکن1947ء سے لیکر آج تک ہندوستان کے متعصب اور تنگ نظر ہندوئوں کا ذہن وفکر پاکستان کے بارے میں بہتر تو کیا ہونا تھا ، وقت گزرنے کے ساتھ خراب ہی ہوتا رہا۔ بھارت میں آج تک جتنے بھی دہشت گردانہ حملے ہوئے اُس کا الزام بغیر کسی ٹھوس سائنٹیفک ثبوت کے پاکستان پر لگایا گیا۔حالانکہ پاکستان9/11کے بعد خود بد ترین دہشت گردی کا شکار رہا ہے اور ان زخموں کے درد سے بخوبی واقف ہے ۔اس کے علاوہ پاکستانیوں کے دلوں میں اللہ اور رسولؐ کی محبت کے صدقے انسانیت اور ہمسائے پن کے جذبہ کے تحت ہندوستان کے لوگوں کے لئے جذبہ خیر سگالی کے سوا کچھ نہیں ہے لیکن معلوم نہیں آر ایس ایس کے پتھر دلوں میں پاکستان کے حوالے سے کب تبدیلی آئے گی؟۔ لگتا ایسے ہے کہ آر ایس ایس کے تربیت یافتہ ہندو پاکستانیوں کا یہ گناہ کہ اُنہوں نے بھارت کو تقسیم کر کے پاکستان بنایا کبھی معاف کرنے کے لئے تیار نہیں ہونگے۔ حالانکہ اب تو صدی کے قریب زمانہ گزر گیا ہے اور دونوں ملکوں میں نئی نسلیں وجود میں آئی ہیں۔ لیکن پلوامہ حملے پر نریندر مودی کا ردعمل دیکھ کر معلوم ہوا کہ وہ پاکستان کو’’سبق سکھانے‘‘ کا ناقابل عمل لیکن نفرت وانتقام سے بھرپور احساسات ہندوستان کی نئی نسل کو بھی منتقل کئے بغیر نہیں رہنا چاہتے ۔حالانکہ اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کے حل طلب سلگتے مسائل کو دواچھے پڑوسیوں کی طرح خوش اسلوبی کے ساتھ حل کئے جائیں تاکہ ا س خطے کی تقریباً2ارب آبادی سکھ کا سانس لے ،غربت ختم ہو ، تعلیم،علاج معالجہ اور روزگار اور کم از کم معیاری زندگی کی سہولیات اس خطے کے ہر آدمی کو میسر ہوں۔۔۔لیکن بھارت تکبر،غروراور طاقت کے جس نشے میں ہے ،وہ اُسے اس قسم کے معاملات کے بارے میں سوچنے کے مواقع نہیں دیتے ۔لیکن بہر حال اب بھارت کو یہ تو معلوم ہی ہے کہ وہ دن گئے جب بھارت پاکستان کو دھمکیاں دیکر مونچھوں کو تائو دیا کرتا تھااور اب یہ گیڈر بھبکیاں صرف اپنے عوام کو ورغلانے اور آئندہ انتخابات میں ووٹ حاصل کرنے کے لئے دیتے رہتے ہیں۔بھلا ایسا بھی کہیں ہوا کہ ادھر دہشت گردوں نے دھماکے کئے اُدھر بھارت کو پتہ چلا کہ اس کے پیچھے پاکستان ہے۔بھارت اور ایران کی افواج پر دہشت گرد حملوں میں وہ عناصر ملوث ہوسکتے ہیں جو سعودی ولی عہد کے دورہ پاکستان پر معترض ہیں ۔بھارت کو معلوم ہے کہ پاکستان میں سعودی سرمایہ کاری سے پاکستان معاشی مسائل کے دلدل سے نکلنے میں کامیاب ہوگا، سی پیک اور سعودی سرمایہ کاری سے پاکستان میں ایک نئی دنیا وجود میں آنے والی ہے اور عمران خان کی قیادت میں ان کے غربت کے خلاف افکار تازہ سے جہان تازہ کی نمود اب کوئی دور کی بات نہیں ۔

خودی میں ڈوبنے والوں کی عزم وہمت نے

اس آبجُو سے کئے بحر بیکراں پیدا

پاکستان اور سعودی عرب فطری اتحادی ہیں۔لہٰذا کبھی کبھار کی دل گرفتگیوں کے باوجود ایک دوسرے کو مشکلات میں تنہا نہیں چھوڑ سکتے ۔ سعودی عرب نے تازہ اقدامات سے پاکستانی حکومت اور عوام کے دل جیت لئے ہیں ۔ پاک سعودی دوستی زندہ باد ۔۔کاش! ایسی دوستی اور اعتماد کی بنیاد ایران جیسے پڑوسی کے ساتھ بھی پڑتی۔ قریب ترین پڑوسی ہونے کے باوجود بعض اوقات ایسے بیانات دیتا ہے جو زخموں پر نمک پاشی کا سبب بنتے ہیں۔ ابھی تازہ دہشت گرد حملے کے بارے میں یہ کہنا کہ پاکستانی افواج ان دہشت گردوں کی پشت پناہی کرتی ہے یقینادوپڑوسی برادر ملکوں کے درمیان تعلقات میں دراڑیں ڈالنے کا سبب بنتے ہیں اور بھارت جیسے ملک نے ہمیشہ سے اس سے ناجائز فائدہ اُٹھایا ہے ۔ پاکستان نے تو کلبھوشن یادیوکو گرفتار کر کے بھی ایران پر الزام نہیں لگایا بلکہ اتنا کہا کہ یادیو چاہ بہار بندر گاہ پر ملازمت کرتا تھا اور مسلمان کے پاسپورٹ پرایران آیا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ

دیکھا جو تیر کھا کے کمین گاہ کی طرف

اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہوگئی

ایران،پاکستان بھی ایک دوسرے کی ناگزیر ضرورت ہیں لہٰذا الزامات کے بجائے مل بیٹھ کر معاملات ومسائل حل کرنے کی ضرورت ہے ۔ اور یہ بات بہر حال طے ہے کہ پاکستان،سعودی تعلقات ساری دنیا سے الگ ہیں لیکن یہ ایران کے ساتھ تعلقات کی قیمت پر مبنی ہیں۔

متعلقہ خبریں