Daily Mashriq

درجواب آں غزل

درجواب آں غزل

معاصر مصدق گھمن نے ’’مشرق‘‘ میں 15فروری کو شائع ہونے والے اپنے کالم کے آغاز میں لکھا کہ وہ کالموں کا نیا سلسلہ شروع کرنے لگے ہیں جس میں وہ نئے پاکستان اورپرانے پاکستان پر روشنی ڈالیں گے۔مصدق گھمن نے اپنے سلسلے کا آغاز جس کالم سے کیا ہے وہ ہے پولیس کا نظام۔مصدق گھمن نے اپنے کالم میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ پرانے پاکستان میں نہ پولیس کا نظام درست تھا اورنہ ہی سابقہ حکمرانوں نے پولیس کے نظام کو ٹھیک کرنے کی کوشش کی ،اس سلسلہ میں مصدق گھمن نے سندھ کی مثال دی کہ وہاں پر آج بھی1861ء کا پولیس ایکٹ نافذ ہے۔مصدق گھمن نے پنجاب کے سابق حکمرانوں کے بارے میں کہا کہ وہ پولیس نظام میں اصلاح کے حوالے سے سنجیدہ نہیں تھے اورنہ ہی انہوں نے اس سلسلے میں خاطرخواہ کوشش کی ہے۔مصدق گھمن نے لکھا کہ پی ٹی آئی نے پولیس نظام کو درست کرنے بارے عملی طور پر کوشش شروع کردی ہے اوروزیراعظم اس بارے خاص دلچسپی لے رہے ہیں ،کالم کے آخر میں مصدق گھمن نے عمران خان کی اس اقدام پر ستائش کرتے ہوئے یہ تاثر دیا ہے کہ اب بہت جلد پولیس کا نظام ٹھیک ہو جائے گا۔درج بالا سطور کے بعد میرا سوال یہ ہے کہ کیا محض پولیس اصلاحات کی بات کر دینے سے یا اپنے ایجنڈے کا اظہار کردینے سے ہی پولیس کا نظام درست ہو جائے گا؟اس کا جواب ہے ہرگز نہیں!یہ درست ہے کہ پولیس نظام میں فوری طور پراصلاحات کی جتنی ضرورت ہے شاید دوسرے کسی شعبے میں اتنی ضرورت نہ ہوکیونکہ پولیس کا امن وامان کی بحالی اور قانون کی بالادستی میںاہم کردار ہوتا ہے ۔لیکن پی ٹی آئی کو پولیس کا نظام درست کرنے کیلئے بہت محنت کرنی پڑے گی آئینی معاملات کیلئے اپوزیشن کی حمایت بھی درکار ہوگی ،سب سے اہم یہ کہ پولیس میں سیاسی مداخلت ختم کرنا ہوگی ،کہا جاتا ہے کہ پنجاب کی سیاست تھانہ کچہری کے بل پر چلتی ہے،کیا وزیراعظم پولیس میں سیاسی مداخلت ختم کرنے میں کامیاب ہوپائیں گے؟سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے پولیس اصلاحات کمیٹی (پی آر سی) تشکیل دی تھی جسے پولیس اصلاحات کیلئے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا سکتا ہے۔کیونکہ اس سے قبل روایتی طور پر اصلاحات حکمران طبقوں اور پولیس کے اعلیٰ حکام کے درمیان باہمی مفاہمت سے طے پاتے تھے جبکہ عوامی رائے کی سب سے کم اہمیت ہوتی تھی۔ 1947ء سے اب تک سفارشات پر مبنی 21 رپورٹیں جاری کی گئی ہیں جن پر بمشکل ہی عمل کیا گیا ہے۔ ملک کی داخلی سلامتی کو لاحق سنگین خطرات کے پیش نظر سیاستدانوں کی اس عدم دلچسپی کی وجہ سے پاکستان میں عوام کا تحفظ سمجھوتے کی نذر ہوگیا ہے۔عوامی مفاد میں ایک تشخیصی حکمت عملی اپنا کر اور مکمل طور پر پروفیشنل پولیس افسران کی ایک باڈی تشکیل دے کر اعلیٰ عدلیہ نے پہلی بار ادارے کے اعلیٰ حکام کے اندر اپنے محکمے میں خود اصلاحات لاسکنے کے اعتماد کو جنم دیا ہے۔ اب یہ ان کا فرض ہے کہ وہ ایک رپورٹ تیار کریں تاکہ پولیس کو کس طرح ایک خود مختار عوامی خدمت کار بنایا جا سکے۔اس سے پہلے پولیس اصلاحات کے لیے پارلیمانی کارروائیاں ترجیح نہیں رہی ہیں۔ انگریز دور کا پولیس ایکٹ 1861ء پولیس آرڈر 2002ء سے تبدیل کر دیا گیا تھا جسے سترہویں اور اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے باقی رکھا گیا۔ بھلے ہی پولیس آرڈر 2002ء نے پولیس کو عارضی طور پر آزادی فراہم کی، مگر اس کی افادیت پرکھے جانے سے قبل ہی اس میں کافی تبدیلیاں کر دی گئیں۔اٹھارہویں ترمیم کے فوائد پر خوشیاں منائی جا رہی تھیں کہ شخصی مفادات کی وجہ سے پولیس آرڈر 2002ء پر سوال اٹھائے جانے لگے۔ قانونی طور پر پولیس آرڈر 2002ء کو ختم کرنے کا اختیار صوبائی اسمبلیوں کے پاس نہیں ہے، مگر ان کی تشریح کے مطابق چونکہ قانون کا نفاذ اب ایک صوبائی معاملہ ہے، اس لیے پولیس قوانین بھی صوبائی دائرہ کار میں آتے ہیں۔ بلوچستان اور سندھ نے پولیس ایکٹ 1861ء کو ترجیح دی، پنجاب نے پولیس آرڈر 2002ء کو کچھ تبدیلیوں کے ساتھ باقی رکھا جبکہ خیبر پختونخوانے 2017ء میں اپنا پولیس لاء نافذ کیا۔ تاریخی طور پر دیکھیں تو قانون کا نفاذ صوبائی معاملہ جبکہ پولیس قوانین وفاقی دائرہ کار میں رہے ہیں۔ تعزیرات پاکستان اور ضابطہء فوجداری کی پیروی تمام صوبے کرتے ہیں جبکہ صوبائی پولیس کے سینئر حکام وفاق کے زیرِ انتظام پولیس سروس آف پاکستان سے آتے ہیں۔ چنانچہ صوبائی اتفاقِ رائے سے یا تو پولیس آرڈر 2002ء یا پھر ایک نیا وفاقی قانون اپنایا جانا چاہیے۔پی آر سی کے شرائط کار میں تفتیش کے معیار کو بہتر بنانے پر تجاویز دینا بھی شامل ہے۔ بھلے ہی پولیس آرڈر 2002ء نے انویسٹیگیشن کو آپریشنز سے الگ کردیا ہے، مگر بڑھتی ہوئی سیکورٹی ضروریات اور تربیت و وسائل کی کمی نے توجہ کا رخ تفتیش (زیادہ عوامی اور نسبتاً آسان کام) سے ہٹا کر آپریشنز کی جانب کردیا ہے جس کی وجہ سے سزاؤں کی شرح میں کمی اور فوجداری نظام انصاف پر بڑھتا ہوا عدم اعتماد دیکھنے میں آیا ہے۔فی الوقت پولیس تربیت کی توجہ تقریباً پوری طرح جسمانی تربیت پر ہوتی ہے جبکہ تفتیش کے جدید ترین طریقہ کار پر توجہ نہیں دی جاتی۔ جہاں کچھ تفتیش کاروں میں ملازمت پر رہتے ہوئے بھی سیکھنے کی جستجو اور لگن ہوتی ہے،

(باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں