Daily Mashriq


دشنام طرازی کی سیاست سے جمہوری ادارے کمزور ہوں گے

دشنام طرازی کی سیاست سے جمہوری ادارے کمزور ہوں گے

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کاپارلیمنٹ پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسمبلیوں سے استعفے دینے کا عندیہ اور اس معاملے پر اپنی جماعت سے مشاورت کا فیصلہ کس حد تک سنجیدہ ہے اور کس حد تک سٹیج پر موقع کی مناسبت سے تقریر کا حصہ ہے اس کا اندازہ آگے چل کر ہوگا لیکن بہر حال تحریک انصاف کے استعفوں کے تجربات کی بناء پر ایسا ہوتا دکھائی نہیں دیتا کیونکہ وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے عمران خان کی تقریر سے قبل ہی عوامی تحریک کے رہنما کی جانب سے اسمبلیوں سے استعفوں کے دعوے کی تردید کی تھی۔ دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ وہ جب چاہیں حکومت ختم کر سکتے ہیں اور انہیں اس کام میں دیر نہیں لگے گی۔اپنے خطاب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ اسمبلی سے استعفے سے متعلق شیخ رشید کی باتوں سے متفق ہیں۔عمران خان نے اپنی تقریر میں پارلیمان کے لیے انتہائی سخت زبان استعمال کی اور کہا کہ وہ پارلیمنٹ پر لعنت بھیجتے ہیں۔ان کے اس بیان کے بعد پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری نے ٹوئٹر پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی پارلیمان کا احترام کرتی ہے اور ہمیشہ کرتی رہے گی۔لاہور کے قلب مال روڈ پر پاکستان عوامی تحریک کے زیر انتظام ماڈل ٹائون کے مقتولین کے لئے انصاف طلبی کے لئے لگائے گئے سٹیج پر عمران خان اور آصف زرداری کو اکٹھا کرنے کی کوشش کامیاب ہو جاتی تو اس کے سیاسی اثرات واضح ہوتے لیکن بہر حال کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے کے مصداق ان دو جماعتوں کے درمیان ایک دوسرے پر طعن و تنقید کے نشتر چلانے کی بندش بھی کچھ کم اہم نہیں لیکن بہر حال یہ تقریباً طے شدہ معاملہ لگتا ہے کہ پی پی پی اور تحریک انصاف قبل از انتخابات کسی سیاسی قربت کی قائل نہیں دوران الیکشن نشستوں پر خفیہ مفاہمت شاید ہی ممکن ہوگی۔ اس سے زیادہ کی قربت کی دونوں جماعتیں متحمل نہیں ہوسکتیں۔ جہاں تک سانحہ ماڈل ٹائون کے مقتولین کے لئے انصاف کا سوال ہے ان سیاسی جماعتوں اور عوامی تحریک سبھی کو بخوبی علم ہے کہ انصاف سڑکوں پر سیاسی سٹیج لگانے سے لینا ممکن نہیں اس کے لئے باقاعدہ طریقہ کار کے تحت عدالتوں میں مقدمہ لڑنا پڑتا ہے جس میں اب تک عوامی تحریک نے زیادہ دلچسپی نہیں لی۔ ایسا لگ رہا تھا کہ مال روڈ پر ایک بھرپور سیاسی سٹیج سجا نا ہی مقصد تھا مگر اس میں لوگوں کی عدم دلچسپی دکھائی دی جس پر پورا میڈیا متفق ہے۔ دو بڑی سیاسی جماعتوں کے قائدین کی سطح کی شرکت عوامی تحریک کے لاہور میں ہزاروں حمایتیوں کی موجودگی کے علاوہ دیگر چھوٹی بڑی جماعتوں اور تنظیموں کی شرکت کے باوجود مال روڈ پر لگی کرسیاں خالی ہی رہ گئیں جس کے باعث اسی پاور شو کامقصد پورا نہ ہوسکا۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ چونکہ مرکزی انتظام کی حامل عوامی تحریک کے کارکنوں کی خاصی تعداد لاہور میں ہونے کے باعث دیگرجماعتوں نے زیادہ کارکنان لانے پر توجہ نہ دی ہو۔ بہر حال اس جلسے میں کارکنوں کی عدم دلچسپی اور کم شرکت سے پی پی پی اور تحریک انصاف کو کوئی زیادہ فرق نہ پڑنا تھا اور نہ پڑا مگر اس سے عوامی تحریک کی ساکھ ضرور متاثر ہوئی۔ ایسا لگ رہا تھا کہ طاہر القادری کی کرشمہ سازی پر اب خود ان کے کارکنوں کو بھی اعتبار نہ رہا شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ اسلام آباد دھرنا اور لاہور میں احتجاج کی کال کو جس طرح اچانک اور منصوبہ بندی کے بغیر ختم کیاگیا تھا اس کا کارکنوں کے ذہنوں پر برا اثر پڑا ہو۔جہاں تک اسمبلیوں سے استعفوں کا سوال ہے جاری حالات میں اگرچہ استعفوں کا امکان خارج از امکان نہیں لگتا لیکن اس کے باوجود اسمبلیوں سے استعفوں کا فیصلہ کرنے کی کسی سیاسی جماعت کا موڈ اس لئے نہیں لگتا کہ اسمبلیوں سے مستعفی ہوکر پھر عوام سے نئی اسمبلیوں کے لئے منتخب کرنے کے لئے ووٹ کا اصرار مناسب نہیں جبکہ استعفوں سے حکمران جماعت کو سینٹ کی نشستوں میں ممکنہ کمی کی مشکلات پیش آئیں یا نہ آئیں مگر ان کو سیاسی سٹیج پر عوام سے کہنے کے لئے بہت مواقع مہیا ہونا فطری امر ہوگا۔ اسمبلیوں سے استعفے کی خبریں ٹی وی پر چلنے کے بعد عمران خان نے پارٹی رہنمائوں سے اس بارے مشاورت بھی ضرور کی ہوگی جس کی بناء پر انہوں نے اس معاملے کو ٹالنے پراکتفا کیا جبکہ وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے صراحت کے ساتھ اس طرح کے کسی عمل کی تردید کی۔ پارلیمان پر تبرا کرکے سیاسی عناصر خود ہی پارلیمان کو بے وقعت اور کمزور اورخود اس کارکن ہوتے ہوئے بھی اپنے آپ کو بھی لعنت میں شمار کرنے لگیں تو اس صورتحال کا ماتم ہی کیاجاسکتاہے۔ہمارے تئیں سیاستدانوں کا اس طرح کا رویہ خود ان کے حق میں بہتر نہیں۔ اگر سیاستدان ہی پارلیمان پر لعنت بھیجنے لگیں اور پارلیمان کی وقعت یہ رہ جائے تو پھر جمہوری نظام اور جمہوریت کے استحکام کی توقع کیسے کی جائے۔ بہتر ہوگا کہ سیاسی عناصر سیاست کو اس طرح رسوا کرنے سے گریز کریں ‘آپس کے اختلافات اور اقتدار کی جنگ کو اس حد تک نہ لے جائیں کہ پارلیمان کی وقعت متاثر ہو۔

متعلقہ خبریں