Daily Mashriq


افغان سفیر کا ہم وطنوں کو واپسی کا درست مشورہ

افغان سفیر کا ہم وطنوں کو واپسی کا درست مشورہ

وفاقی حکومت نے پاکستان میں مقیم 14 لاکھ رجسٹرڈ افغان مہاجرین کی واپسی کیلئے ایک ہنگامی پلان بنانے کا فیصلہ کرلیا ہے اس حوالے سے ریاستی اور سرحدی علاقوں (سیفران) کی وزارت کے ایک سینئر اہلکار نے نجی ٹی وی کو بتایا کہ حکومت ملک میں مقیم پناہ گزینوں کے قیام میں مزید توسیع نہیں دے گی۔انہوں نے کہا کہ31جنوری کے بعد ان کے قیام کی مدت میں توسیع نہیں کی جائے گی اور پناہ گزینوں کو اپنے ملک واپس جانا پڑے گا۔دریں اثناء افغان سفیر نے صورتحال بھاپنتے ہوئے اپنے ہم وطنوں کو واضح الفاظ میں کہا ہے کہ وہ واپسی کی تیاری کریں۔پاکستان میں متعین افغان سفیرحضرت عمرذاخیل وال کی جانب سے اپنے ہم وطنوں کو واپس جانے کی تیاری کا مشورہ بروقت اور مناسب ہے جس پر افغان مہاجرین کو سنجیدگی سے غور کرنے اور عملدرآمد کی تیاریوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بجا طور پر کہا ہے کہ بالآخر انہوں نے واپس جانا ہے ۔ افغان مہاجرین اگرپاکستان میں بے آب وگیاہ علاقوں میں شہرآباد کرسکتے ہیں تو افغانستان میں کیوں نہیں؟ان کا یہ کہنا بجا ہے کہ اب ان کے پاس ہنرہے تعلیم ہے ایسے میں انہیں کسی بھی چیز کی ضرورت نہیں ہوگی۔امر واقع یہ ہے کہ خود افغان حکومت ہی افغان مہاجرین کی واطن واپسی میں سنجیدہ نہیں۔صدراشرف غنی نے گزشتہ سال افغان مہاجرین کے وفد کویقین دلایاتھاکہ وطن واپسی پر افغان مہاجرین کے روزگار اورانکی بنیادی سہولیات کو یقینی بنایاجائے گا لیکن ان وعدوں پر پوراعمل درآمدنہیں کیا گیا۔ افغان مہاجرین کی وطن واپسی میں بین الاقوامی طور پر اگر معاہدوں کے باعث مشکلات کاسامنا ہو تو اس امر سے بھی صرف نظر ممکن نہیں کہ بین الاقوامی اداروں نے بھی افغان مہاجرین کی مدد سے ہاتھ کھینچ رکھے ہیں۔ دنیا کے کسی بھی ملک میں تاریخ میں اتنے بڑے پیمانے پر نقل مکانی اور کسی د وسرے ملک کی جانب سے اس قدر طویل میزبانی کی مثال نہیں ملتی۔ ملکی صورتحال اب ایسی ہوگئی ہے کہ افغان مہاجرین کی وطن واپسی میں تاخیر کی گنجائش باقی نہیں رہی۔ قبل ازیں چھ بار ان کو وطن واپسی کی ڈیڈ لائن دی جاتی رہی ہے جس کے دوران لاکھوں افغان مہاجر واپس گئے۔ افغان مہاجروں کو وطن واپسی میں مشکلات سے گھبرانا اس لئے نہیں چاہئے کہ جب وہ بے سر و سامانی کی حالت میں پاکستان آئے اور ان کی ایک نسل نے یہاں پرورش پائی ان حالات سے گزرنے کے بعد اب ان کو واطن واپسی میں بے یقینی کا شکار نہیں ہونا چاہئے بلکہ ان کو واپس جاکر اپنے ملک کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ افغان ہونے کے ناتے ان پر افغانستان کی مٹی کا حق ہے جسے ادا کرنا ان کا فرض ہے۔

زیادتی کے واقعات کو سیاست زدہ نہ بنایا جائے

قصور کی زینب کے بعد مردان کی اسما اور اگلے روز اکبرپورہ کی چار سالہ بچی کے ساتھ زیادتی کے دلخراش واقعات بھی ہمارے ضمیر کو جھنجوڑنے کے لئے کافی نہیں لگتے۔ عام آدمی افسردہ اور غمزدہ ضرور ہے لیکن سیاسی عناصر کی جانب سے خواہ وہ پنجاب کے ہوں یا خیبر پختونخوا کے بچیوں کی بے حرمتی کو سیاسی طور پر ایک ایشو کے طور پر سامنے لانے کی سعی قابل افسوس ہے۔ کسی درندے کا کوئی رنگ اور نسل نہیں ہوتی وہ درندہ ہوتاہے اوراسے درندے کے طور ہی لیا جائے۔ اس معاملے پر بیان بازی اور دورے مناسب نہیں بلکہ مغموم خاندان کو مزید ایذا و تکلیف پہنچانے کے مترادف ہے۔ اس طرح کے واقعات ہر جگہ ہوتے ہیں جس پر غم و غصہ فطری امر ہے لیکن ہمارے تئیں اس کا اظہار اس تھانے کی سطح پر ہی ہونا چاہئے اور یہ اس تھانے کی حدود میں رہنے والے افراد ہی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس پر آواز اٹھائیں صرف آواز اٹھانا اور پولیس کو الزام دینا کافی نہیں اصل اور سنجیدہ صورت مل جل کر اس درندے کو حوالہ قانون کرکے سزا دلوانے کی سعی ہے تاکہ علاقے کی دیگر بچیاں محفوظ رہیں۔ احتجاج کی نوبت اس وقت ہی آنی چاہئے جب علاقہ پولیس درندے کی گرفتاری میں پس و پیش کرے اور ان کو تحفظ دینے کی کوشش کرے۔ اگر پولیس سرگرمی سے اور جانفشانی سے تفتیش کر رہی ہو تو اس کو دبائو میں لانے کی بجائے اس سے تعاون کا مظاہرہ کیاجانا چاہئے۔اس طرح کے واقعات میں متاثرہ خاندان سے سیاسی شخصیات کے اظہار ہمدردی کے جذبے کی مخالفت مقصود نہیں لیکن اس کا طریقہ کار ایسا ہونا چاہئے کہ ان کی وجہ سے متاثرہ خاندان کی مزید تشہیر نہ ہو جس سے وہ آئندہ بھی پیچھا نہ چھڑا سکیں۔ سیاسی قائدین ان کے گھروں میں جاتے ہوئے میڈیا کو ساتھ لے جانے کی بجائے میڈیا سے چھپ کر جائیں اور صحیح صورتحال سے آگاہی حاصل کرنے کے بعد متاثرہ خاندان کو اگر مالی مدد کی ضرورت محسوس کریں تو خاموشی سے ان کی مالی مدد کریں اور اگر علاقہ پولیس سے شکایات ہوں تو اس کو مناسب فورم پر سامنے لائیں تاکہ ملزموں کو جلد سے جلد کیفر کردار تک پہنچانے کا عزم پوراہو۔

متعلقہ خبریں