Daily Mashriq

اسلام آباد کا قدوس بزنجو کون ہوگا؟

اسلام آباد کا قدوس بزنجو کون ہوگا؟

بلوچستان میں حکومت کی تبدیلی کا ’’شاندار‘‘ عمل مکمل ہوا۔ اکثریتی اتحاد میں دراڑیں کیسے پڑیں اور اس انقلاب کی ضرورت کیوں پیش آئی درون سینہ بہت ساری کہانیاں ادھر سے ادھر بھاگ دوڑ رہی ہیں۔ پیپلز پارٹی کے سوشل میڈیا مجاہدین کی منڈلی اسے اپنے امام سیاست آصف علی زرداری کا ’’ہنر‘‘ بتا رہی ہے مگر ق لیگ کی قیادت نے کوئٹہ پہنچ کر پکی پکائی کھیر کھالی۔ حیرانی سعد رفیق کے بیان پر ہوئی۔ فرماتے ہیں ’’ بلوچستان میں ہارس ٹریڈنگ زرداری نے کی۔‘‘ اچھا جی خواجہ میاں بیان دینے سے پہلے اپنے وزیر داخلہ اور وزیر اعظم سے پوچھ لیا ہوتا۔ ہمت ہے تو سوموار کو جاتی امراء کے مشاورتی اجلاس میں اس حوالے سے جو باتیں جناب نواز شریف نے کیں ان کاپچاس فیصد ہی بتا کر دیکھ لیجئے۔ ساڑھے پانچ سو ووٹوں سے کم ووٹ لینے والے عبد القدوس بزنجو پچھلے ساڑھے چار برسوں سے صوبائی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر تھے۔ جب کسی کو یاد نہ آیا کہ ساڑھے پانچ سو سے کم ووٹ لینے والے کو کس نے جتوایا اور کس مقصد کے لئے۔ اب یاد آیا ہے تو رونے کی بجائے مکا منہ پر مار لیجئے۔ بلوچستان میں نیا انتظام کروانے والوں کے پیش نظر سینٹ کے انتخابات ہیں۔ یہ کون لوگ ہیں جو نہیں چاہتے کہ مارچ میں ہونے والے سینٹ کے الیکشن میں مسلم لیگ(ن) سینٹ میں اکثریتی پارٹی نہ بنے؟ سوال کا تجزیہ اپنی ذمہ داری پر کیجئے۔ ہمیں فقیر راحموں نے اس پھڈے میں پڑنے سے منع کردیا ہے۔ سچ یہ ہے کہ بلوچستان کا سیاسی مزاج یہی ہے کہ سرداروں کا ایک طبقہ حکومت میں ایک اپوزیشن اور تیسرا مورچے میں بیٹھا ہوتا ہے۔ 5سو ووٹوں والی ق لیگ نے نواز اچکزئی اتحاد کو چاروں شانے چت کردیا۔ سمجھنے والوں کے لئے اشارے بہت ہیں اس میں اور ٹریفک بلاک بھی نہیں ہے۔ 2018ء کے انتخابات ( اگر ہوئے تو) کی دھمال کا کچھ کچھ نقشہ واضح ہونے لگا ہے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ تبدیلی والے ق لیگ اور پیپلز پارٹی کے ساتھ بیٹھ جائیں گے؟ ضمنی سوال یہ ہے کہ کیا آج کے دو حریف کل اپوزیشن میں اتحادی ہوں گے؟ آپ ان دونوں سوالوں پر غورکیجئے جب تک یہ عرض کرتا ہوں کہ بلوچستان میں جو ہوا وہ اچھا نہیں ہوا لیکن اس غیر اچھے میں سردار اختر مینگل نے حصہ کیوں ڈالا۔ کیا انہیں محفوظ سیاسی و حومتی مستقبل کا گرین سگنل مل گیاہے؟ ظاہر ہے کہ اس کے بغیر وہ کیوں اس عمل کا حصہ بنتے۔ مطلب یہ ہوا کہ مستقبل کے سیاسی نقشے میں نون لیگ 2002ء والے مقام پر ہوگی چند نشستوں کے اضافے کے ساتھ۔ تو کیا آزاد انتخابات کا خواب پھر چوری ہوگا۔ نواز لیگ کے خلاف انتخابی کاروبار کو لے کر احتجاج کا ڈول ڈالنے والے عمران خان کیا کریں گے۔ وہ تو کہہ رہے ہیں کہ آئندہ حکومت ہماری ہوگی۔ ویسے فقیر نے ان سطورمیں سال بھر قبل عرض کیا تھا کہ صلاح مشورہ اس پر ہے کہ ق لیگ‘ پی پی پی اور تحریک انصاف میں ڈھیلے ڈھالے سمجھوتے کی راہ ہموار کی جائے۔ مسئلہ یہ آن پڑا کہ پی پی پی پنجاب کی وزارت اعلیٰ اور ملک کی صدارت مانگ رہی تھی۔ پھر گجرات کے چودھریوں اور جناب زرداری میں مفصل تبادلہ خیال ہوا اورپی پی پی اس شرط پر پیچھے ہٹی کہ اگر وزیر اعلیٰ ق لیگ کا ہوا تو اعتراض نہیں کریں گے۔ پھر ایک مرحلہ ایسا آیا جب پی پی پی کے اندر سے اپنی قیادت پر دبائو آیا کہ تحریک انصاف کے ساتھ بعد از انتخابات کے معاملات پیشگی طے نہ کرے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ گجراتی چودھری اس بعد از انتخابات سمجھوتے کے لئے اپنے تحرک کے دنوں میں یہ تاثر دے رہے تھے کہ وہ یہ سب اس لئے کر رہے ہیں کہ نون لیگ کاراستہ روکا جائے۔ مگر ان کوششوں کو اسٹیبلشمنٹ کے ایجنڈے کا نام ملا تو پیپلز پارٹی مکمل طور پر پیچھے ہٹ گئی۔یہ وہ نکتہ ہے جس کی بنیاد پر یہ عرض کیا جاسکتا ہے کہ پیپلز پارٹی بلوچستان کے کھیل میں فریق نہیں تھی ڈاکٹر قیوم سومرو کی کوئٹہ میں موجودگی اپنے دو رشتہ دار ارکان صوبائی اسمبلی کو فیصلہ کرنے میں مدد دینے کے لئے تھی پھر یہ بھی ہے کہ سوموار کے روز پی پی پی کے چیئر مین بلاول بھٹو نے بلوچستان میں ہوئی تبدیلی میں اپنی جماعت کے کردار کو مستردکردیا۔ بہر طور یہ عرض کردوں کہ پیپلز پارٹی کا موثر حلقہ اسٹیبلشمنٹ کی لائن لینے کو تیار نہیں اس کی رائے ہے کہ ایسا کیا تو یہ پنجاب میں پی پی پی کی سیاست کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا۔ پر دہ کے پیچھے سے کیا برآمد ہوتا ہے انتظار کرلیتے ہیں۔ البتہ یہ امر بجا ہے کہ موجودہ حالات میں پی پی پی کو نواز لیگ اور اسٹیبلشمنٹ دونوں سے فاصلہ رکھنا ہوگا نواز لیگ سے اس لئے کہ اس کا ووٹ بینک پی پی پی دشمنی پر کھڑا ہے اور اسٹیبلشمنٹ سے اس لئے کہ اس کا سیاست میں کوئی کردار نہیں ہونا چاہئے۔ تو کیا پی پی پی اپنے سیاسی سلوگن ’’طاقت کا سرچشمہ عوام‘‘ سے دوبارہ رجوع کرے گی یا مروجہ سیاست کے دھارے کے ساتھ چلنا پسند کرے گی۔ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب پیپلز پارٹی کی عملی سیاست سے مل سکتا ہے اور جواب کے لئے چند دن انتظار میں کوئی حرج نہیں۔اب چلتے چلتے نون لیگ کے اندر شروع ہوئی چودھری نثار اور پرویز رشید کی لڑائی کے تازہ مرحلہ بارے۔ چودھری نثار علی خان سینیٹر پرویز رشید کو وفاقی وزیر اطلاعات بنانے کے حق میں نہیں تھے مگر اس وقت نواز شریف نے ان کی بات نہیں مانی تب موقع ملتے ہی انہوں نے ڈان لیکس والے معاملے میںقدم قدم پر پرویز رشید کو ذمہ دار قراردیا اور ان کے دبائو بلکہ یہ کہہ لیں ان کے بقول فوج کی خواہش ہے کہ پرویز رشید کو منصب سے ہٹایا جائے۔ نواز شریف نے حالات کو بہتر بنانے کے لئے ’’پیغام‘‘ پرعمل کردیا۔لیکن پچھلے دو دنوں سے ان دونوں رہنمائوں کے درمیان ہونے والی بیان بازی اورتند و تیز جملے بلا وجہ نہیں۔ پرویز رشید کو نواز شریف کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ نواز شریف سمجھتے ہیں کہ جو کردار عبدالقدوس بزنجو نے بلوچستان میں ادا کیا چودھری نثار وہی کردار مرکز میں ادا کرنا چاہتے ہیں۔

متعلقہ خبریں