Daily Mashriq

انسانیت کی فنا کا راستہ

انسانیت کی فنا کا راستہ

بھارتی آرمی چیف کے حالیہ بیان کے بعد ایک بات تو واضح ہوگئی ہے کہ بھارتی حکمران مکمل طور پر پاگل ہوچکے ہیں اور اپنے جنگی جنون میں وہ پورے خطے کے امن کو خطرے میں ڈالنے پر مصر نظر آتے ہیں۔ پچھلے ہفتے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بھارتی آرمی چیف بپن راوت کا کہنا تھا کہ اگر ان کو نئی دہلی سے احکامات جاری کئے جائیں تو ان کی فوج پاکستان کی نیوکلیئر طاقت کو نظر انداز کرتے ہوئے پاکستان پر حملہ کرنے کے لئے تیار ہے۔ اسی طرح کے ایک اور بیان میں جنرل راوت کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سرحد پار دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں اور اس مقصد کے لئے پاکستان کی سرحد کے اندر بھی کارروائی کرسکتے ہیں۔بھارتی جنرل کے ان بیانات نے سرحد کی دونوں جانب رہنے والی امن پسند اقلیت کے لئے تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ بھارتی میڈیا میں جنرل راوت کے بیان کی حمایت میں بھی کافی بیانات سامنے آچکے ہیں ۔ ایٹم بم کی تباہی اور ہلاکتوں سے کون واقف نہیں ہے اور دنیا کا کوئی بھی ہوش مند شخص اپنے مکمل ہوش و حواس میں ایٹمی جنگ شروع کر نے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ ایٹم بم استعمال کرنے میں پہل نہ کرنے کے معاہدے پر دستخط نہ کرنے کی پاکستان کی ہچکچاہٹ کی بڑی وجہ بھارت کی پاکستان پر عددی برتری ہے کیونکہ اگر روایتی جنگ میں اپنی شکست دیکھ کر پاکستان ایٹم بم کے استعمال کرنے کا اختیار اپنے پاس رکھنا چاہتا ہے۔اگرچہ دنیا میں پاکستان کی اس پالیسی پر تنقید کی جاتی ہے لیکن اگربھارت پاکستان کی جگہ ہوتا تو کیا وہ اس معاہدے پر دستخط کر دیتا ؟ پاکستان کی پالیسی کو سمجھنے کے لئے ہمیں سائنس دان ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ روایتی جنگ میں بھارت کی پاکستان پر برتری سب پر واضح ہے اور اگر دنیا کے کسی بھی ملک کو اپنی بقاء کا خطرہ لاحق ہوگا تو وہ اپنا آخری حربہ ہی استعمال کرے گا۔فرض کریں کہ یورپ کا آبادی کے لحاظ سے بڑا ملک جرمنی یورپ کا سب سے زیادہ اسلحہ اور ایٹم بم رکھنے والا ملک بن جاتا ہے اور سوئیڈن جیسے چھوٹے سے ملک پر حملہ کرنے کی ٹھان لیتا ہے لیکن دوسری جانب سوئیڈن کے پاس بھی ایٹم بم موجود ہے تو کیا اس صورتحال میں سوئیڈن ایٹم بم استعمال کرنے کے اپنے اختیار سے دستبردار ہوجائے گا ؟اگر دنیا کا کوئی بھی ملک اپنے وجود کو ختم ہونے کے ساتھ ساتھ دشمن ملک کو صفحہِ ہستی سے مٹانے کی طاقت بھی رکھتا ہو تو وہ یہ اختیار ضرور استعمال کرے گا۔ بھارتی جنرل کے ایک اور بیان کے مطابق ایسے کوئی ثبوت نہیں ملے کہ پاکستان کشمیری عسکریت پسندوں کی مدد کررہا ہے ۔ کشمیر میں جاری حالیہ احتجاج میں اسلام آباد کا کوئی کردار نہیں تھا بلکہ یہ احتجاج تو بھارتی سیکورٹی فورسز کی جانب سے کشمیری نوجوانوں پر کئے جانے والے بہیمانہ تشدد کا نتیجہ ہے جس کے بعد پورا کشمیر جاگ اٹھا ہے اور گلی گلی میں احتجاج شروع ہو گیا ہے۔ نہتے لوگوں پر پیلٹ گن کے استعمال، کشمیری سیاسی ورکرز کو قید کرنے اور جعلی پولیس مقابلے میں مارنے کا الزام پاکستان پر عائد نہیں کیا جاسکتا ۔ ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں کہ برہان وانی کو پاکستان نے ٹریننگ دی تھی بلکہ برہا ن وانی اور اس جیسے بہت سے کشمیری نوجوانوں نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سیکورٹی فورسز کے مظالم سے تنگ آکر ہتھیار اٹھائے تھے۔کشمیر میں ہونے والے مظالم کی پاکستان کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی برادری کی جانب سے بھی مذمت کی جانی چاہیے کیونکہ یہ مظالم انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور اگر بھارت کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں نہیں کررہا تو انسانی حقوق کی تنظیموں کو کشمیر میں جانے کی اجازت کیوں نہیں دی جاتی ؟ پاکستان اور بھارت کی امن پسند سول سوسائٹی کو جنرل راوت کے اس بیان کے بعد باہر نکلنا چاہیے اور بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے استعمال پر بات کرنے کی کھل کر مذمت کی جانی چاہیے ۔ ایک اندازے کے مطابق ایٹم بم کے استعمال کے ایک ہفتے کے اندر 21 ملین لوگ صفحہ ِ ہستی سے مٹ جائیں گے اور ماہرین کے مطابق اگر برِ صغیر میں ایٹم بم استعمال کیا جاتا ہے تو پوری دنیا میں بسنے والے لوگوں میں سے دو ارب لوگ اس بم کے استعمال کے نتیجے میں آنے والی موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے قحط کا شکار ہوجائیں گے۔ ایک تخمینے کے مطابق پاکستان کے پاس اس وقت موجود ایٹم بموں کی تعداد 110 سے 130 کے درمیان ہے اور پاکستان اپنے میزائلوں کو بھی مزید اپ ڈیٹ کر رہا ہے جن کا نشانہ نیو دہلی، ممبئی، بنگلور اور چنائی جیسے بڑے بھارتی شہر ہیں۔اسی طرح بھارت بھی اپنے میزائل پروگرام پر دن رات محنت کررہا ہے جن کا نشانہ لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی، ملتان، پشاور، کراچی، کوئٹہ اور گوادر جیسے شہر ہیں۔ ماہرینِ ماحولیات کے مطابق کراچی ، کوئٹہ اور لاہور میں ایٹم بم کے اثرات صرف ان شہروں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ بھارت کی سرحد کے اندر اور افغانستان پر بھی ایٹم بم کے اثرات مرتب ہوںگے۔ اس کے علاوہ اوزون کی تہہ کا 25 سے 40 فیصد مکمل طور پر تباہ ہوجائے گا اور جانور اور نباتات ناپید ہوجائیں گے۔ پاکستان اور بھارت کو انسانیت کی بقاء اور دنیا کی فلاح کے لئے جنگی جنون سے باز رہنا ہوگا اور اپنے تمام مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے ڈھونڈنا ہوگا۔ 

(بشکریہ: دی نیوز،ترجمہ: اکرام الاحد)

متعلقہ خبریں