Daily Mashriq

 زینب کے بعد اسماء پر بھی سیاست۔۔

زینب کے بعد اسماء پر بھی سیاست۔۔

ہمارے ہاں سانپ گزرنے کے بعد لکیر پیٹنے کی عادت پرانی ہے ۔ اور یہی کچھ ہورہا ہے اسماء قتل کیس میں۔ پہلے زینب پر سیاست اب اسماء پر اور پھر نوشہرہ کی مدیحہ پر بھی یقینا سیاست ہوگی۔ آخر ہم کرنا کیا چاہتے ہیں؟ ہم کب بیان بازیوں سے نکل کر عملی اقدامات کریں گے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ زینب قتل کیس میں پنجاب پولیس نے شروع میں غفلت کا مظاہرہ کیا تھا، رپورٹ درج کرانے میں لیت و لعل سے کام لیا لیکن اس کے بعد درندہ صفت قاتل کی گرفتاری کے لیے حکومت یا پولیس کے اقدامات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں اس کے باوجود سیاست کے بازی گر اپنی دکانداری چمکانے میں مصروف ہیں، سندھ میں ہر سال سینکڑوں بچے غذائی قلت کا شکار ہوکر لقمہ اجل بن جاتے ہیں لیکن سندھ کے وڈیرے بلاول بھٹو زرداری پنجاب میں اپنی سیاست کی بقا کے لیے زینب کا سہارا لیتے ہیں، اس طرح ڈیرہ اسماعیل خان کا واقعہ زیادہ پرانا نہیں لیکن کپتان نے اس واقعے پر کبھی ـ’’مثالی ‘‘پولیس کی سرزنش نہیں کی، انہیں بھی ظلم کے ضابطے پنجاب میں ہی نظر آتے ہیں۔ کپتان بہت رحم دل ہیں کسی سے نا انصافی ہوتے نہیں دیکھ سکتے اور عدل کا ہتھوڑا لیکر فوری پہنچ جاتے ہیں لیکن صرف دیگر صوبوں میں، پختونخوا کی پولیس تو ان کی نظر میں مریخ سے تربیت یافتہ ہے اور پہلے تو یہاں جرائم نہیں ہوتے اگر بالفرض کسی سے جرم سرزد ہوبھی جائے تو مثالی پولیس منٹوں میں ملزمان کو پکڑ کر کیفرکردار تک پہنچاتی ہے۔ اس لیے خان صاحب یہاں سے مطمئن ہیں۔ علی محمد خان زینب کے لیے توقومی اسمبلی میں بہت ہی جذباتی تقریر کرتے ہیں لیکن علی محمد خان کو کبھی فرصت ملے تو اپنے علاقے مردان کے اس بدنصیب خاندان کا حال بھی پوچھے جن کے آنگن کی کلی کو کسی انسان نما درندے نے مسل ڈالا۔ غیرذمہ داری کی انتہا صرف ان دو پارٹیوں کے قائدین پر بس نہیں، وفاق اور پنجاب کی حکمران جماعت کے رہنما بھی کسی سے کم نہیں۔جب ہر کوئی زینب کے ساتھ ہونے والے ظلم کے خلاف آوازاٹھارہا تھا تو لیگی رہنمائوں کا اصرار تھا کہ ایسے واقعات تو خیبر پختونخوا میں بھی ہورہے ہیں ۔ وفاقی وزیر مملکت مریم اورنگزیب نے تو اسماء کا تذکرہ بھی جوابی کارروائی کے طور پرکیا،مطلب اگر آپ پنجاب میں ہونے والے مظالم پر آواز اٹھائیں گے تو ہم خیبرپختونخوا میں صوبائی حکومت کا کچا چھٹاکھول کر رکھ دیں گے۔ ارے اللہ کے بندوں زینب کے ساتھ جو ہوا وہ بھی ظلم تھا اور اسماء کو بھی انسان نے نہیں درندے نے نوچا سب کا اتفاق ہے کہ ان درندوں کو سرعام لٹکایاجائے ایک دوسرے کی بیڈ گورننس کی نشاندہی کے لیے ایسے واقعات کا حوالہ دینے کی قطعاً ضرورت نہیں۔ ہم بات کررہے تھے سیاست کی تو زینب پر خوب سیاست کے بعد اب سیاسی جماعتوں کو اسماء پر بھی سیاست کا موقع مل گیا۔ اسماء کے لاپتہ ہونے کے بعد یہ کالم لکھنے تک پانچ دن گزر چکے ہیں لیکن صوبے کی حکمران جماعت کے سربراہ کو کسی نے مردان آنے کا مشورہ نہیں دیا، صوبے کے چیف ایگزیکٹو کو بھی پانچویں دن ہی خیال آگیا کہ اگر اب بھی نہ گئے تو اپوزیشن کو کھل کر کھیلنے کا موقع ملے گا کیونکہ امیر مقام، سینیٹر روبینہ خالد اور عائشہ گلالئی متاثرہ خاندان سے اظہار یکجہتی کرچکے ہیں ۔ عمران خان اور پرویزخٹک اگر حقیقت میں اس صوبے کے عوام سے مخلص ہیں تو پھر چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر کمیشن کو کیوں کھڈے لائن لگایا گیا۔ تحریک انصاف کی حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے قانون سازی تو کرتی ہے لیکن عملدرآمد کیوں نہیں کرتیں۔ زینب اور اسماء کے واقعات کے بعد والدین اپنے بچوں کے تحفظ کے لیے تو خود ہی آگے بڑھ کر کچھ کریں گے لیکن صوبے کے مختلف اضلاع میں شاہراہوں، فٹ پاتھوں پر بھیک مانگتے ، محنت کرتے ان ہزاروں بچوں کا کیا ہوگا جو انسان نما درندوں کا انتہائی آسان شکار ہوسکتے ہیں؟ حکومت دعوے تو بہت کرتی ہے لیکن حقائق بہت تلخ ہیں اور اس کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ بچے ہمارا مستقبل نہیں حال بھی ہیں۔ اگر ہم ان کے حال کا خیال نہیں رکھیں گے تو ہمارا مستقبل کیسے ہوگا یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں۔

ہم یہ نہیں کہتے ہیں کہ آپ سیاست نہ کریں یا حکومت وقت پر تنقید نہ کریں ،متاثرہ خاندان سے اظہار یکجہتی سب کو کرنا چاہیئے اس طرح ورثاء کا غم کچھ ہلکا ہوجاتا ہے لیکن بد قسمتی سے پاکستان میں یہ سب نمود و نمائش اور نمبرز بنانے کے لیے کیا جارہا ہے۔ یہ سلسلہ رکنا چاہیئے۔ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی اور ہمیں سیاست یا اپنے ووٹرز سے ملنے کے لیے آج بھی کسی سانحے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ زینب کی طرح اسماء کے قتل پر بھی اسمبلیوں میں قرارداد مذمت پیش کی گئیں ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچانے کے مطالبات اور ایسے واقعات کے تدارک کے لیے اقدامات اٹھانے پر زور دیا گیا ۔ کچھ دن تک میڈیا میں خبریں چلتی رہیں گی تو سیاستدان متاثرہ خاندانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے رہیں گے۔ میڈیا کو جب بیچنے کے لیے نیا منجن ملے گا تو یہ واقعہ پرانا ہوجائے گا ، پھر سیاستدانوں کی بھی گلو خلاصی ہوجائے گی اور سب کو انتظار رہے گا ایک اور سانحے کا میڈیا کو بھی اور سیاستدانوں کو بھی،، پھر مذمتیں ہوں گی، ایوانوں میں قراردادیں لائی جائیں گی۔ علی محمد خان جذباتی تقریر کریں گے جس میں خلیفہ دوم کے عدل کا تذکرہ ہوگا شریعت کا بھی تڑکا لگا ہوگا ۔ اگر واقعہ پنجاب کا ہوگا تو کپتان شریف خاندان پر لفظی گولہ باری کریں گے اور اگر واقعہ پختونخوا کا ہوگا تو مریم نواز، مریم اورنگزیب کپتان اور پختونخوا حکومت پر طنز کے نشتر چلائیں گی۔ یہ سلسلہ یونہی چلتا رہے گا ، کچھ بھی نہیں بدلے گا۔

متعلقہ خبریں