Daily Mashriq


ہسپتالوں کی ناگُفتہ بہ حالت

ہسپتالوں کی ناگُفتہ بہ حالت

بھی ریاست کی یہ ذمہ داری ہو تی ہے کہ وہ اپنے عوام کو صحت، تعلیم، سر چھپانے کی جگہ اور روزگار مہیاکرے۔بد قسمتی سے پاکستان کے مطلق العنان حکمران گزشتہ70سالوں سے بد انتظامی، کرپشن ،اقربا پر وری اور اپنی نا اہلی کی وجہ سے عوام کویہ تمام بنیا دی سہولیات دینے میں ناکام رہے ہیں۔ اگرکچھ سہولیات میسر بھی ہیں تو اُنکے ثمرات حکمرانوں اور متعلقہ اہل کاروںکی نا قص کار کر دگی ، بد انتظامی اورغفلت کی وجہ سے عام لوگوں تک نہیں پہنچ پاتے۔ بین الاقوامی معیار کے مطابق ایک ہزار افراد کے لئے کم ازکم 2ڈاکٹر، 8 نر سیں اور 1ڈینٹسٹ کاہونا ضروری ہے۔اس وقت پاکستان کی آبادی 21 کروڑ ہے۔ آبادی کے حساب سے پاکستانمیں 4 لاکھ 30 ہزار ایم بی بی ایس ڈاکٹر حضرات، 16لاکھ نر سوں اور 2 لاکھ 10ہزار تک ڈینٹسٹ کا ہونا ضروری ہے ۔ مگر بد قسمتی سے پاکستان میں اس وقت 2 لاکھ9ہزار ڈاکٹر ، 99 ہزار نر سیں اور 21 ہزار کے قریب دانتوں کے معالج ہیں ۔ ہم وفاقی اور صوبا ئی سطحوں پر غُربت، صحت اور تعلیم کی بات کرتے ہیںمگر یہ انتہائی دکھ کی بات ہے کہ صحت کے میدان میں پاکستان افغانستان سے بھی پیچھے ہے۔ ہم ترقی یافتہ اقوام کی بات نہیں کرتے ، جنوبی ایشیاء کی بات کرتے ہیں جہاں پر دنیا کے اکثر لوگ غُربت افلاس ، بے روز گاری کی چکی میں پس رہے ہیں ۔ جنوبی ایشاء میں مالدیپ صحت پر 1996 ڈالر، سری لنکا 369ڈالر، بھارت 267 ڈالر، نیپال 140ڈالر ، افغانستان 167 ڈالر فی کس جبکہ پاکستان سب سے کم یعنی 129 ڈالر فی کس خرچ کررہا ہے۔ما ضی میں گھروں میںدائیاں ڈیلیوری کرتی تھیں جسکی وجہ سے بچوں کی شرح اموات بھی زیادہ تھی۔ مگر آج ہسپتالوںکے ہوتے ہوئے بھی بچوں کی پیدائش ہسپتال کے بر آمدوں، فٹ پاتھ، ٹیکسیوں ، رکشوں اور ہسپتال کے لیبر روم کے باہر ہوتی ہے۔ آئے روز مملکت خداداد پاکستان میں اس قسم کے ان گنت واقعات رونما ہوتے ہیں۔مگر حکمران ٹس سے مس نہیں ہوتے۔حال ہی میں اس قسم کا واقعہ مردان میڈیکل کمپلیکس میں ہوا۔ بچی کی پیدائش لیبر روم سے باہر ہوئی۔ بچی کی جان گئی۔ واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے صوبائی وزیر صحت نے ڈیوٹی پر موجودپانچ ڈاکٹروں اور سٹاف نرسز کو معطل کیا۔ہونا تو یہ چاہئے کہ متعلقہ ہسپتال کے ایم ایس، ڈی ایم ایس کو بھی معطل کیا جاتا۔بات صرف زچہ بچہتک محدود نہیں۔ ہر قسم کے مریض جن میں خطر ناک امراض میں مبتلا مریض بھی شامل ہیں اس قسم کے حالات کا سامنا کرتے ہیںکیونکہ وارڈوں میں بیڈ میسر نہیں ہوتے نتیجتاً مریض وارڈ کے باہر کھلی جگہوں پر اپنی باری کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔مردان واقعے کے بعد خیبر پختون خوا کے مختلفشعبہ سے تعلق رکھنے والے افراد نے ای میلز ، موبائل میسجز بھیجے، جس میں حکام بالا سے گز ارش کی گئی ہے کہ حکومت خا ص کر تد ریسی ہسپتالوں میں گائنی وارڈوں کی ناگُفتہ بہ حالت کی طرف توجہ دے۔اکثر و بیشتر ٹیچنگ ہسپتالوں میں روز ا نہ کی بنیاد پر دو یاتین یونٹوں کے ہوتے ہوئے صرف ایک یونٹ اور ایک لیبر روم میںکام ہوتاہے اور وارڈ کے محدود بیڈز خالی نہیں ہوتے۔ وارڈوں میں جگہ نہ ملنے کی وجہ سے بچوں کی پیدائش لیبر روم کے بجائے برآمدوں اور دوسری جگہوں پر ہوتی ہے۔ مصدقہ اطلاع کے مطابق گا ئنی یونٹ اور وارڈوں میں لیڈی ڈاکٹر سے 18 سے 20 گھنٹے روزانہ ڈیوٹی لی جاتی ہے تو ایسے حالات میں ڈاکٹر مریض پر کیسے مکمل توجہ دے سکتے ہیں۔ زیادہ تر لیڈی ڈاکٹرز اب گائنی سپیشلائزیشن کے لئے تیار بھی نہیں اور جو دائیاں پہلے سے گائنی میں سپیشلائزیشن کر رہی ہیں وہ اپنے انتخاب پر نادم ہیں۔ جولیڈی ڈاکٹر ہائوس جاب کے دوران گائنی یونٹ میںطویل ڈیوٹیاں انجام دیتی ہیںوہ پھر گائنی کے بجائے دیگر شعبوں میں سپیشلائزیشن کرنے کو ترجیح دیتی ہیں۔ایک پروفیسر صاحب نے جب ایم بی بی ایس کی فا رغ تحصیل بچیوں سے پو چھا کہ آپ نے مستقبل کے لئے کیا منصوبہ بندی کی ہے ۔ توسب نے کانوں کو ہاتھ لگایا اور کہا کہ ہائوس جاب کے بعد پا رٹ ٹو کی تیا ری کریں گے۔ جب شعبے کے بارے میں پو چھا گیا تو حیران کُن طور پر گائنی کسی کا شعبہ انتخاب نہیں تھا ۔ انکا کہنا ہے کہ اگر بد انتظامی اور نا قص کا ر کر دگی کا یہی حال رہا توخدشہ ہے کہ اس فیلڈ میں لیڈی ڈاکٹرز کی جگہ مردڈاکٹرز سے کام لینا پڑے گا۔ جو انتہائی شرم ناک عمل ہوگا یا دائیاں یہ فرا ئض انجام دیں گی تو اسکا مطلب ہے کہ ہم پھر100 سال پیچھے چلے گئے ۔ ہر حکومت، صحت اور تعلیم کی بات کرتی ہے مگر نہ تو ہمارے سیاستدان اپنے بچوں کو گورنمنٹ کے ہسپتال کو بھیجتے ہیں اور نہ ان ہسپتالوں میں علاج کرتے ہیں۔حکومت کو چاہئے کہ وہ ٹیچنگ ہسپتالوں میں ڈاکٹر حضرات سے ایک انسان کی طرح ڈیوٹی لیں ، انکو سہولیات دیں ، اپنے انتظامی عملے کو سائنسی انداز میں اداروں کو چلانے کی تربیت دیں ۔ پھر اسکے بعد اگر ڈاکٹروں سے کوتاہی سر زد ہو تو ان سے سختی سے پیش آیا جائے۔

متعلقہ خبریں