Daily Mashriq

میری زینب ان کی ترجیحات میں نہیں

میری زینب ان کی ترجیحات میں نہیں

لوگ جب زینب کے علاوہ کوئی اور بات کرنے لگتے ہیں تو مجھے ان کی ہمت پر حیرت ہوتی ہے ۔ جب کوئی یہ ذکر کرتا ہے کہ زینب کے قتل میں تین لوگ شامل تھے ، تفتیش کا دائرہ کار وسیع کر لیا گیا ہے ۔ اب ایک ہزار لوگ اس تفتیش میں شامل ہوگئے ہیں ۔ نئی جے آئی ٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے اور اس کا اجلاس روز ہورہا ہے ۔ جب وزیراعلیٰ پولیس کے اعلیٰ افسران کو ہیلی کاپٹرمیں روز قصور جانے کی ہدایت کرتے ہیں لیکن درحقیقت کچھ بھی نہیں ہوتا ۔ جب اتنے روز گزر جاتے ہیں ، بے شما ر سی سی ٹی وی کیمرہ فوٹیج بھی دکھائی دیتی ہے لیکن پھر بھی قاتل پکڑا نہیں جاتا ۔ جب قیاس آرائیاں کرنے والے یہ بھی کہنے لگتے ہیں کہ وہ شخص بھیس بدل کر ہر کچھ عرصے بعد وار کرتا ہے لیکن کہیں سے سچ کی کوئی خبر نہیں آتی تو دل او ب جاتا ہے ۔ یہ کیسا ملک ہے میں کہا ں رہتی ہوں جہاں میرے بچے محفوظ نہیں ۔ میں اس ملک سے محبت کیسے کر سکتی ہوں یہاںہر وقت مجھے اپنے بچوں کے تحفظ کا خیال مسلسل ستاتا ہے ۔ میں اس ملک سے کیسے محبت کروں میں اس سوچ میں غلطاں ہوں ۔ میں سوچ رہی ہوں کہ لاہور کے مال روڈ پر سیاست دانوں کا ایک مینا بازار لگا ہے ۔ لوگوں کی زندگیوں میں یوں ہی روشنی باقی نہیں اور انہیں اپنی سیاست کی سیاہ کاریوں سے فرصت نہیں ملتی ۔ یہ کیسے لوگ ہیں ؟ یہ کون لوگ ہیں ؟ انکے لیے زینب کی موت بس ایک سیاسی سنگ میل تھی اور یہ اس سے آگے بڑھ گئے ہیں ۔ جس حکومت کا تختہ اُلٹ دینے کو یہ سب اکٹھے ہوگئے ہیں اس سب میں کسی کا بھی کیا اصولی موقف ہے ۔ یہ کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اس کا کیا فائدہ ہے ۔ اس ملک میں جہاں زینب درندگی کا شکار ہو کر قتل ہو جاتی ہے ۔ ایک دن میں گیارہ بار یہ قصہ ہوتا ہے انہیں اپنے اقتدار کی فکر ستار ہی ہے ۔ وہ اس بات پر مجتمع ہوتے ہیں کہ انہیں موجودہ حکمرانوں کا تختہ اُلٹ دینا چاہیئے جبکہ اس اقتدار کو تویوں ہی ختم ہونے میں پانچ ماہ باقی رہ گئے ہیں ۔ انکے لیے کسی زینب کی کوئی اہمیت نہیں ۔ ہم جیسے عام لوگ اپنے گھروں میں اپنی بچیوں کو غیر محفوظ تصور کرنے لگے ہیں ۔میڈیا تو حسب معمول زینب کو بھولتا جارہاہے لیکن میں اور آپ اس معصوم بچی کے چہرے کی مسکراہٹ نہیں بھول سکتے۔ اس کے ماں باپ اپنا الم نہیں بھول سکیں گے لیکن مال روڈ پر اس وقت تین سیاسی جماعتیں موجود ہیں اور ان کازینب کے دکھ سے کوئی تعلق نہیں۔ انہیں کسی زینب سے کوئی سروکار نہیں کیونکہ رانا ثناء اللہ جو باتیں بھول دیتے ہیں یہ لوگ ان باتوں کو دل میں رکھتے ہیں اور ان پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کا نہ زینب سے کوئی تعلق ہے نہ ہی ہمارے کسی دکھ اور خوف سے کوئی واسطہ ہے‘ بس سیاست دان ہیں۔یہ اس ملک پر اقتدار کی ہوس سے نچڑے اب کسی نہ کسی سٹیج پر کھڑے نظر آتے ہیں۔ ان کے حلیوں سے دھوکہ کھانے کی ضرورت نہیں۔ یہچادروں کی اوٹ میں کچھ پئیں یا مائیک کے سامنے تیز تیز ہاتھ ہلاتے‘ متشرح حلیے میں تقریریں کریں‘ یہ نظام ٹھیک کرنے کی باتیں کریں یا تبدیلی کے علمبردار ہوں۔ ان کے دعوے ہوں کہ انہیں زینب کی یاد میں رات کو نیند نہیں آتی یا یہ اڑتالیس گھنٹوں میں مجرم تلاش کرنے کے احکامات جاری کرنے والے ہوں۔ یہ سب اس معاملے میں ایک جیسے ہیں۔ زینب ان کا لخت جگر نہ تھی اور ان کی اپنی بیٹیاں اس بیدردی سے قتل کرنے کی کوئی جرأت نہیں کرتا۔ اس لئے انہیں زینب یاد نہیں۔ انہیں زینب کا دکھ ہو بھی نہیں سکتا کیونکہ ان کی اپنی بیٹیاں بھی استحصال کاشکار ہوتی ہوں تو اس معاشرے کی صحیح و غلط کی کسوٹی پر ٹانگ دئیے جانے کے ڈر سے وہ بھی بول نہیں سکتیں ورنہ اس معاشرے کے منہ کو تو کمزور کا خون لگا ہے۔ وہ کمزور اب تک عورت ہی تھی‘ معصوم بچیاں اس میں شامل ہونے لگیں اور اب کم سن لڑکے‘ معصوم بچے اس میں شامل ہوچکے ہیں۔ یہ ایک بیمار گلا سڑا معاشرہ ہے جس میں ہم زندہ ہیں اور مار دئیے جانے کے خوف سے بغاوت نہیں کرتے۔ ہم خوفزدہ ہیں اور اس خوف کے بوجھ تلے ننھے بچوں کو گلی میں کھیلنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ ہم خود گل سڑ رہے ہیں کیونکہ ہماری اقدار کے جسم اس معاشرے کی قبر کے منہ پر پڑے ہیں۔ اس مردہ معاشرے سے جنم لینے والے گدھ ہمارے بچوں کو نوچ رہے ہیں۔ ہماری آنکھیں پھوڑ رہے ہیں لیکن کچھ نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ جنہیں ہم ووٹ دیتے ہیں‘ جنہیں ہم طاقتور دیکھنا چاہتے ہیں ہم ان کی ترجیحات میں ہی شامل نہیں۔ ہمارے بچوں کی زندگیاں ان کے لئے اہم ہی نہیں۔ مجھے آصف زرداری سے کوئی گلہ نہیں‘ ان کی شخصیت کا ہر پہلو ہم سب پر بخوبی عیاں ہے۔ لیکن طاہرالقادری جو لوگوں کے مصائب کی بات کرتے ہیں‘ ماڈل ٹائون سانحے میں بے وجہ مارے جانے والوں کے لئے انصاف کے علمبردا بنے ہیں اور عمران خان جن سے ہم جیسوں کو بے شمار امیدیں ہیں‘ وہ بھی زینب کو بھول سکتے ہیں‘ میں اس بات پر غمزدہ ہوں۔ میں اس دکھ سے رات کو سو نہیں سکتی۔میں زینب کی بے بسی کو بھول نہیں سکتی کیونکہ میں ماں ہوں۔ کوئی ماں بھی اس غم سے اب آزاد نہیں ہوسکتی۔ اس کی کوکھ میں وہ تکلیف ہے جو زینب کی ماں کی کوکھ محسوس کرتی ہے اور یہ لیڈران کس بات پر اکٹھے ہیں۔ میں سوچتی ہوں تو خون کھولنے لگتا ہے۔ یہ اپنی طاقت زینب کے لئے استعمال کرسکتے تھے۔ اپنا اتحاد زینب کے حق میں حکومت کے گلے کا طوق بنا سکتے تھے لیکن بات ترجیحات کی ہے اور میری زینب ان کی ترجیحات میں نہیں۔

متعلقہ خبریں