Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

امام جعفر صادق ؒ راستے میں جارہے تھے کہ آپ ؒ کو ایک آدمی نے گالی دی ۔۔۔آپ ؒ نے اسے انعام بھجوادیا ۔۔۔ساتھ میں فرمایا : آپ نے مجھے ایک عیب بتایا ہے ۔ اللہ تعالیٰ میرے ہزاروں عیب جانتا ہے ۔ اس کا ہزار ہزار شکر ہے کہ اس نے تجھے صرف ایک عیب بتایا ہے ، باقی نہیں بتائے ۔حضرت امام زین العابدین بن سیدنا حسین ؓ نے اپنے ایک غلام کو طلب کیا اور دو مرتبہ اسے آواز دی ۔۔لیکن اس نے لبیک نہ کہا تو حضرت سیدنا زین العابدین ؒ نے اس سے پوچھا کہ تم نے میری آواز نہیں سنی ؟ ۔ اس نے کہا ، کیوں نہیں ، میں آپ ؒ کی آواز سنی تھی ۔۔انہوں نے پوچھا ،پھر تم نے میری آواز پر لبیک کیوں نہیں کہا ؟ اس نے کہا کہ مجھے آپ سے خوف نہیں اور مجھے آپ کے عمدہ اخلاق کا علم ہے ۔ اس لیے میں نے سستی کی ۔ امام زین العابدینؒ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ میراغلام مجھ سے امن میں ہے ۔ (برداشت کے حیرت انگیز واقعات)

حضرت عثمان غنی ؓ کا حلم حضرت عبداللہ بن عمر ؓ راوی ہیں کہ امیر المومنین حضرت عثما ن غنی ؓ مسجد نبوی ؐ شریف میں منبر اقدس پر خطبہ پڑھ رہے تھے کہ بالکل ہی اچانک ایک بد نصیب اور خبیث النفس انسان جس کانام جہجاہ غفاری تھا ، کھڑا ہو گیا اور آپ ؓ کے دست مبارک سے عصا چھین کر اس کو توڑ ڈالا ۔آپ ؓ نے اپنے حلم و حیا کی وجہ سے اس سے کوئی مواخذہ نہیں فرمایا ۔ لیکن خدا تعالیٰ کی قہاری و جباری نے اس بے ادبی اور گستاخی پر اس مردود کو یہ سزا دی کہ اس کاہاتھ گل سڑکر گر پڑا ، اور وہ یہ سزا پا کر ایک سال کے اندر ہی مر گیا ۔

(تاریخ الخلفایٔ)

حضرت ابو عبیدہ ؓ کا لباس اور غذادونوں انتہائی سادہ تھے ۔ ایک مرتبہ سفر شام کے موقع پر حضرت عمر ؓ دوسرے سالاران لشکر کی رومی فیشن کی پرتکلف پوشاکوں کے مقابلے میںحضرت ابوعبیدہ ؓ کا سادہ عربی لباس دیکھ کر بہت خوش ہوئے تھے اور میرا بھائی ، میرا بھائی کہہ کر بغل گیر ہوئے تھے ۔ ان کی رہائش گاہ پہنچ کر جب وہاںبھی ڈھال ، تلوار زرہ اور اونٹ کے پالان کے سوا کچھ نہ پایا تو فرمایا ’’ابو عبیدہ ؓ ! تم کچھ ضروری سامان رکھ لیتے تو اچھا ہوتا ‘‘۔ انہوں نے جواب دیا کہ ’’ہمارے لیے یہی کافی ہے اوریہی ہمیں بہت جلد ہماری آسائش گاہ تک پہنچا دے گا ‘‘۔ اسی موقع پر حضرت عمر ؓ نے ان سے کہا کہ ابو عبیدہؓ ! کیا ہماری دعوت نہیں کرو گے ؟ انہوں نے روٹی کے سوکھے ٹکڑے لا کر آگے رکھ دیئے اور کہا کہ ’’میری تو یہی غذا ہے ۔ پانی میں بھگو کر کھالیتا ہوں ‘‘۔ حضرت عمر ؓ پر رقت طاری ہو گئی ۔ ایک دفعہ ازراہ آزمائش حضرت عمر ؓ نے 4سوطلائی دینار اور 4ہزار نقرئی درہم حضرت ابو عبیدہ ؓ کو بھیجے اور قاصد سے کہا کہ دیکھنا وہ انہیں کیا کرتے ہیں ۔ حضرت ابو عبیدہ ؓ نے وہ ساری رقم قاصد کے دیکھتے ہی دیکھتے حاجت مندوں میں تقسیم کردی ۔ قاصد نے جا کر حضرت عمر ؓ کو بتایا تو انہوں نے فرمایا کہ ’’سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس نے اسلام میں ایسے آدمی شامل کیے ،جو یہ کرتے ہیں ‘‘۔

(سنہرے واقعات)

متعلقہ خبریں