Daily Mashriq

صلح کرلو یگانہؔ غالبؔ سے

صلح کرلو یگانہؔ غالبؔ سے

بزرگوں کی باتوں میں حکمت ہوتی ہے اسلئے صدیوں پہلے کہی ہوئی بات جو اب ضرب المثل بن چکی ہے اس کے بارے میں سوچنا ضروری بھی ہے اور اس پر عمل کرنا لازمی بھی مگر مسئلہ تو یہی ہے کہ کوئی عقل ودانش کے موتیوں سے جڑے الفاظ کو درخور اعتناء نہیں سمجھتے اور جوش و ولولے میں آکر بلاسوچے سمجھے بڑھکیں مارنے سے بھی باز نہیں آتے۔ جس بات کی جانب اشارہ مقصود ہے وہ کچھ یوں ہے کہ پہلے تولو پھر بولو‘ مگر جب ہم اپنے اردگرد نظر دوڑاتے ہیں تو ان نصیحت آموز باتوں کی نفی ہی نفی دیکھنے کو ملتی ہے اور جب اپنی غلطی کا احساس ہوتا ہے تو پھر ہم ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں مگر ایسے موقعوں پر ایک اور ضرب المثل ہمیں اپنی جانب متوجہ کرتی دکھائی دیتی ہے کہ اب پچھتاوے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔ اب یہی دیکھ لیجئے کہ بالآخر اپنی غلطی کا احساس کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے ایک اہم رہنماء خواجہ سعد رفیق نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں تقریر کے دوران ایسی باتیں کہہ دی ہیں جن پر پہلے تولو پھر بولو کا اطلاق کیا جائے تو غلط نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں زرداری کو گھسیٹنے کے حوالے سے ہم نے جو بات کی تھی وہ غلط تھی‘ وہ بات نہیں کرنی چاہئے تھی‘ خواجہ صاحب نے اور بھی بہت سی باتیں کی ہیں جن میں سے کچھ تو اسی طرح ماضی کے حوالے سے محولہ محاورے ہی کے زمرے میں آتی ہیں مثلاً انہوں نے کہا کہ ولی خان‘ اکبر بگٹی اور جی ایم سید محب وطن تھے لیکن ان کو غدار قرار دیا گیا‘ پہلے غداری کا الزام عائد ہوتا تھا اب لوٹ مار کے الزامات لگائے جاتے ہیں‘ ہم نہیں چاہتے گیلانی اور زرداری کی طرح عمران خان کی حکومت بھی ختم ہو کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ اس سے نظام کو خطرات لاحق ہوں گے‘ وزیراعظم کنٹینر سے واپس آئیں‘ یاس یگانہؔ چنگیزی نے کہا تھا

صلح کرلو یگانہؔ غالبؔ سے

وہ بھی استاد‘ تم بھی اک استاد

اچھا ہی ہوا کہ یاس یگانہ چنگیزی کی طرح مسلم لیگ(ن) کے رہنماؤں کو بھی احساس ہوگیا ہے کہ

ریختہ کے تم ہی اُستاد نہیں ہو غالب

کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میرؔ بھی تھا

یعنی آصف زرداری کی حیثیت کو بالآخر تسلیم کرتے ہوئے انہوں نے ماضی میں زرداری کو سڑکوں پر گھسیٹنے اور اس کا پیٹ پھاڑ کر مبینہ طور پر لوٹی ہوئی دولت نکال باہر کرنے جیسے بیانات سے رجوع کر ہی لیا ہے‘ تاہم اب اس بات کا بھی جواب دینا چاہئے کہ اس مبینہ لوٹ مار کے الزامات کو ثابت کرنے کیلئے سالوں جو مقدمات چلائے گئے‘ قومی دولت کا ضیاع کیاگیا‘ زرداری کو جیل میں رکھا گیا مگر پھر بھی ثابت کچھ نہ ہوسکا اس کا ذمہ دار کون ہے؟ اور آج اگر زرداری گلہ تو کرتا ہے مگر یہ نہیں کہتا کہ ’’جج صاحب‘ میری جوانی کے وہ مہ وسال مجھے واپس کون کرے گا جو جرم بے گناہی میں آہنی سلاخوں کے پیچھے میں نے گزارے‘‘ تو اس پر انصاف اور قانون کا رویہ کیا ہونا چاہئے

رعونت تاج کی مٹی میں آخر مل گئی ساری

مکافات عمل ہونا تھا عبرت کی کہانی میں

یہ ساری ڈرامے بازی اس کے باوجود ہوتی رہی کہ دونوں جماعتوں کے مابین ایک میثاق جمہوریت پر بھی اتفاق ہوا تھا‘ کم ازکم اس معاہدے ہی کا پاس کرتے ہوئے ملک میں حقیقی جمہوریت کے قیام کی سعی کی جاتی‘ مگر تلخ حقیقت یہ ہے کہ دونوں جانب نیتوں میں فتور تھا‘ اس فتور کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں کہ لوگ بہت کچھ جانتے ہیں۔ اب ایک بار پھر میثاق جمہوریت کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گزشتہ روز اس حوالے سے کہا تھا کہ میثاق جمہوریت پر نظرثانی کرکے اس میں ضروری ترامیم کی جائیں گی اور دیگر جماعتوں کو بھی اس میں شامل کیا جائے گا۔ نظر بظاہر تو یہ درست سوچ ہے کہ تقریباً بارہ تیرہ برس پہلے ہونے والے ’’جمہوری سمجھوتے‘‘ میں حالات کے پیش نظر تبدیلی ناگزیر ہے یعنی ایک تو معروضی حالات میں بہت بدلاؤ آچکا ہے اور دوسرے یہ کہ دونوں جماعتوں کو ماضی کے اپنے رویوں میں در آنے والی غلطیوں اور کمزوریوں کا بھی احساس ہوچکا ہے۔ اسی لئے میثاق میں حالات کے مطابق ترامیم کرنا انتہائی ضروری ہے‘ تاہم باقی جماعتوں کو تو اس وقت بھی لندن بلوا کر اس معاہدے کی نوک پلک سنوارنے میں شامل کیا گیا تھا اور انہوں نے بھی معاہدے پر دستخط کرکے میثاق کا حصہ بننا قبول کیا تھا مگر بعد میں میثاق کا کھیل صرف دونوں بڑی جماعتیں ہی آپس میں کھیلتی رہتی تھیں اور جب چاہتیں میثاق جمہوریت کی دہائی دینے لگتیں‘ جب چاہتیں اسے طاق نسیان میں رکھ بھول جاتیں‘ اسی وجہ سے تو سڑکوں پر گھسیٹنے اور پیٹ پھاڑ کر لوٹی ہوئی دولت نکال لینے کی بڑھکیں سامنے آتی رہیں اور اس کی وجہ یہ بھی تھی کہ میثاق جمہوریت ایک ڈھونگ کے طور پر سامنے لایا گیا تھا کہ محترمہ جنرل مشرف کیساتھ این آر او کرنے کیلئے اسے دباؤ ڈالنے کے حربے کے طور پر استعمال کرنا چاہتی تھیں تو میاں برادران بھی سیاست میں دوبارہ انٹری چاہتے تھے اور انہیں بھی کسی میثاق کے سہارے کی ضرورت تھی‘ گویا دونوں جانب نیت صاف نہیں تھی‘ یعنی بقول ایوب صابر

دس بیس نہیں ایک ہی انسان بتا دو

ایسا کہ جو اندر سے بھی باہر کی طرح ہو

خواجہ سعد رفیق نے جس تلخ حقیقت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بالآخر اسے تسلیم کرلیا ہے‘ کم ازکم آئندہ تو اس سے توبہ تائب ہونے میں کوئی وقتی مصلحت حائل نہ ہو‘ اور یہ کڑا وقت گزر جائے جو بالآخر گزر ہی جائیگا کہ وقت ساکت کبھی نہیں رہتا‘ تب اقتدار رہے یا نہ رہے کم ازکم حقیقی جمہوری کلچر کو فروغ دینے اور ذاتی مفادات کی خاطر الزام تراشیوں سے گریز کو اپنی اپنی ذات کیلئے لازم قرار دیا جائے تاکہ ایک بار پھر پچھتانے کی ضرورت تو محسوس نہ ہو‘ کیونکہ ہماری سیاست کا خلاصہ تو یہی ہے کہ بقول حبیب جالبؔ

تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا

اس کو بھی اپنے خدا ہونے پہ اتنا ہی یقیں تھا

متعلقہ خبریں