Daily Mashriq


تحفظ کا مؤثر نظام قائم کرنے کی ضرورت

تحفظ کا مؤثر نظام قائم کرنے کی ضرورت

خیبر ایجنسی کے دور افتادہ اور پاک افغان سرحدکے قریب علاقہ راجگل میں دہشت گردوںکے ٹھکانوں پر آپریشن خیبر فور کے تحت کارروائی سے جہاں علاقے میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور ان کی موجودگی کا ایک مرتبہ پھر اشارہ ملتا ہے وہاں دہشت گردوں کے نیٹ ورک کی جانب سے حیات آباد میں ایف سی کی گاڑیوں کے قافلے کو خود کش حملے کا نشانہ بنانے سے ان کی شہری علاقوں سے بھی مکمل صفایا نہ ہونے کا تاثر ملتاہے۔ ہمارے تئیں اب کسی آپریشن کو نہ تو کوئی خاص نام دیا جائے اور نہ ہی داعش اور لشکر اسلام یا طالبان جیسے گروپوں اور عناصر کے خلاف کسی کارروائی سے منسوب کیا جائے کیونکہ ایسا کرنے پر دہشت گرد عناصر اپنی موجودگی اور جوابی صلاحیت کا جو اظہار کرتے ہیں اس سے وہ ایک مرتبہ پھر یہ تاثر دینے میں کامیاب ہوتے ہیں کہ وہ کسی بھی قسم کے رد عمل کی صلاحیت کے ساتھ سامنے آسکتے ہیں حالانکہ حقیقت یہ ہوتی ہے کہ چوری چھپے ارد گرد کہیں چھپا کوئی دہشت گرد کسی نہ کسی طرح خود کش حملہ کرلیتا ہے وگرنہ ان کی صفوں کا ہی صفایا نہیں ان کی مکمل بیخ کنی بھی ہوچکی ہے۔ ہمارے تئیں اگر کسی مخصوص آپریشن یا گروہ کے خلاف کاروائی کی بجائے راجگل میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی یا جنوبی و شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے جیسے الفاظ استعمال کئے جائیں تو بات وہی ہوگی کیونکہ ہمارے نزدیک لشکر اسلام ہو' داعش یا طالبان یا پھر کوئی اور گروہ یا تنظیم جو لوگ بھی وطن عزیز کی حکومت ' انتظامیہ اور عوام' پاک فوج کے خلاف تخریبی عزائم رکھتے ہوں وہ من حیث المجموع دہشت گرد ہیں اور دہشت گرد کہلائیں گے جن کے خلاف قوم اور فوج دونوں کو مل کر لڑنا ہے اور آخری دہشت گرد کے خاتمے تک لڑنا ہے۔ اس لڑائی کی طوالت ' پیچیدگی اور حساسیت کا بھی ہمیں بخوبی ادراک ہے اس لئے وقتاً فوقتاً دہشت گردی کی کسی کارروائی سے نہ تو ہمارے حوصلے پست ہوں گے اور اگر بہت عرصے تک کوئی کارروائی سامنے نہ آئے تو اس کا بھی یہ مطلب ہر گز نہیں کہ دہشت گردی کا مکمل طور پر قلع قمع ہوچکا اور د ہشت گرد حوصلہ ہار چکے۔ ہمارے تئیں ایک طویل عرصے تک ہمیں ہر قسم کے امکانات کو مد نظر رکھ کر اس کے لئے خود کو تیار رہنا ہوگا اور کسی واقعے پر کوئی کمزور تاثر قائم کرنے کی بجائے اپنے عزم ' ہمت اور حوصلے کو قائم رکھنا ہوگا۔ دہشت گردوں کی حکمت عملی اب واضح طور پر عوامی سطح کی بجائے عسکری اہداف کو نشانہ بنانا ضروری بن گیا ہے لیکن ہمارے لئے ان کی یہ حکمت عملی خطرے کے احساس میں کمی کا باعث نہیں ہونا چاہئے۔ فوجی جوان وردی پہنے فوجی گاڑیوں میں فرائض کی انجام دہی کے لئے جا رہے ہوں یا جہاں بھی ہوں وہ ہمارے ہی بھائی بند اس مٹی کے بیٹے اور ہم ہی میں سے ہیں۔ اس وطن کے کسی پولیس افسر کو نشانہ بنایا جائے' کسی فوجی گاڑی کو نشانہ بنایا جائے یا کسی عوامی شخصیت اور افراد کو نشانہ بنایا جائے ہمارے لئے دہشت گردی کے واقعات ہیں جن کا مقابلہ پوری قوم نے مل کر کرنا ہے اور پوری عزم و قوت کے ساتھ اس وقت تک من حیث القوم کھڑے رہنا ہے جب تک اس ناسور کی جڑیں نکالنے کے بعد وہ زمین بنجر نہ ہو جائے جہاں سے ان کی جڑیں نکال لی گئی تھیں۔ جہاں تک حیات آباد میں جائے وقوعہ اور اس کارروائی کا تعلق ہے گو کہ حیات آباد میں سیکورٹی کا نظام کافی معقول ضرور ہے لیکن مخصوص وقت میں مخصوص روٹ پر سیکورٹی فورسز کی آمد و رفت رہتی ہے۔ اس روٹ پر ایف سی کے موٹر سائیکل سوار جوانوں کے دستے بھی توقف کے ساتھ گزرتے ہیں لیکن کسی موٹر سائیکل سوار کی بطور خود کش حملہ آور شناخت کسی کے لئے بھی مشکل کام ہے بہر حال یہ امر توجہ طلب ضرور ہے کہ یہ خود کش حملہ آور موٹر سائیکل پر اس حساس علاقے میں پہنچنے میں کامیاب کیسے ہوا۔ اس کا خیبر ایجنسی سے صبح سویرے حیات آباد میں داخلہ اور فورسز کی گاڑیوں کا کسی نزدیکی چوراہے سے پیچھا کرتے ہوئے سگنل پر گاڑیوں کے رکنے پر موٹر سائیکل ٹکرانا ممکن ہوا یا پھر وہ رنگ روڈ سے حیات آباد میں داخل ہوا یا پھر حیات آباد کے اندر ہی وہ کہیں مقیم تھا ان سارے سوالوں کا ابتدائی جواب بہر حال کیمروں کی مدد سے حاصل ہوچکا ہوگا خواہ جو بھی تھا ایک خود کش حملہ آور کا پوری تیاری سے آمد اور حملہ کرنے کا موقع پانا کسی نہ کسی جگہ اور کہیں نہ کہیں احتیاط کے تقاضوں میں نرمی اور تساہل کا نتیجہ ضرور قرار پاتا ہے۔ اس طرح کی صورتحال سے بچنے کے لئے حیات آباد میں داخلے کے ان تمام راستوں کو مکمل طور پر بند کرنے کی ضرورت ہے جو دیواروں میں دراڑیں ڈال کر اور دیواریں توڑ کر بنائی گئی ہیں۔ حیات آباد میں داخلی و خارجی راستوں پر اور حیات آباد کے اندر اچانک و خلاف معمول اور بار بار چیکنگ کی ضرورت ہے۔ صوبائی دارالحکومت پشاور کے داخلی و خارجی راستوں' مضافات اور خاص طور پر معروف راستوں پر چیکنگ اور تلاشی کو معمول بنا لینا چاہئے اس عمل کا اس امر سے کوئی تعلق نہ رکھا جائے کہ اطلاع ملے اور دہشت گردوں کے داخلے کے خدشات ہوں۔ حفاظتی انتظامات کے تحت محولہ عمل کو معمول بنا لینا صرف دہشت گردی کے خلاف موثر حکمت عملی نہ ہوگی بلکہ بھتہ خوری' اغواء برائے تاوان' گاڑیاں چھیننے اور سٹریٹ کرائمز کے خلاف بھی یہ کارگر اقدامات ہوں گے۔

متعلقہ خبریں