Daily Mashriq

ایک کے بعد ایک نرالا منصوبہ

ایک کے بعد ایک نرالا منصوبہ

خیبر پختونخوا میں جہاں بلا شبہ حکومت وقت کی توجہ و ترجیح صحت اور تعلیم کے محکمے ہیں وہاں ان شعبوں میں ہر طرح کی پالیسیاں بنانے اور لاگو کرنے میں مشکلات و ناکامی بھی کسی سے پوشیدہ امر نہیں۔ تعلیمی ایمرجنسی میں تعلیمی انقلاب کی بجائے میٹرک کے امتحانی نتائج نے بھانڈا پھوڑ دیا تو دوسری جانب کبھی کنٹینر سکول کے منصوبے بنائے گئے اس کے لئے بھاری رقم مختص کی گئی۔ عرصہ تک اس کا پروپیگنڈہ کیا گیا اور انجام کار اب اس منصوبے کو لپیٹ کر متبادل منصوبہ شروع کیاجا رہا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا منصوبہ بندی کے وقت اس کی کامیابی و ناکامی کی شرح کمزوریوں اور حصول اہداف کی مشکلات کا حقیقت پسندانہ جائزہ نہیں لیا گیا تھا۔ بہر حال بظاہر تو چار ارب 30 کروڑ روپے کی لاگت سے سکولوں میں سکرین لگانے کا منصوبہ عدم موجود اساتذہ کے مسئلے پر قابو پانے کا اکسیر نسخہ نظر آتا ہے۔ مگر کیا ہمارے منصوبہ ساز سرکاری سکولوں میں اس مشکل سے لا علم ہیں کہ سر پر بیٹھا استاد جوتا کھینچ کر طالب علم کو مارتا ہے مگر پھر بھی تھوڑی ہی دیر میں کلاس میں دوبارہ سر گوشیاں شروع ہو جاتی ہیں ایسے میں جب کوئی معلم طلبہ کے سر پر موجود نہ ہو سکرین لگا کر بچوں کو فلم تو دکھائی جاسکتی ہے تعلیم نہیں دی جاسکتی۔ جہاں سامنے بیٹھے استاد سے طلبہ سوالات نہ کرتے ہوں کیا سکرین پر پڑھانے والے استاد سے وہ سوالات کریں گے۔ ہمارے تئیں اس طرح کی منصوبہ بندی اور اس پر اتنی خطیر رقم خرچ کرنے کی بجائے بہتر یہ ہوگا کہ یہ رقم سرکاری سکولوں کی حالت زار کی بہتری اور اساتذہ کی تقرریوں پر خرچ کی جائے تو بہتر ہوگا۔ ہمارے سکولوں اور طالب علموں کا معیار اتنا اونچا نہیں کہ بے جاں سکرینوں پر انحصار کیا جائے اور نہ ہی سکولوں کے طلبہ یونیورسٹیوں کے طالب علم ہیں جو سکرینوں پر پڑھائی اور سوال و جواب کو سمجھ سکیں۔ اس طرح کی تجویز اگر جامعات اور کالجوں کی حد تک کے لئے ہوتی تو قابل غور تھا سکولوں کے لئے یہ تجویز اور اقدام قطعی طور پر موزوں ثابت نہ ہوگا۔ اگر سکرینوں اور غیر فطری کلاس کے ماحول میں طالب علم تعلیم حاصل کر پائیں تو انٹر نیٹ کی موجودگی میں کسی معلم و مدرس کی ضرورت نہیں اور نہ ہی سکول جانے کی ضرورت ہے۔ بہتر ہوگا کہ حقیقت پسندانہ تجاویز دی جائیں اور مبنی بر حقیقت منصوبہ بندی کی جائے کبھی کنٹینر اور کبھی سکرینوں پر وسائل اور وقت کا ضیاع نہ کیاجائے تو بہتر ہوگا۔
عوامی نمائندوں کانا مناسب طرز عمل
صوابی میں حکمران جماعت کے ضلعی ممبر کا اے این پی کے ضلع ناظم کی جانب سے سرکاری فنڈز سے لگائے گئے بجلی کے کھمبے اکھاڑنے کا تنازعہ اور فریقین میں تکرار کے بعد فائرنگ کے تبادلے کی نوبت آنا حیرت و استعجاب کا باعث واقعہ ہے۔ اس تنازعے کا حقیقی پس منظر کیاہے اور کیاواقعی ایک عوامی فلاح کا کام ہی ایک دوسرے پر حملے کا باعث بنا اس بارے یقین سے کچھ کہنا مشکل ہے لیکن بہر حال ہمارے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق بجلی کے کھمبوں کی تنصیب کے تنازعے پر صورتحال کشیدہ ہوگئی جو ناقابل یقین امر ہے۔ عوامی نمائندوں کی ذمہ داری اور فرض عوام کی فلاح اور ان کو سہولتوں کی فراہمی ہے۔ محض اس بناء پر کہ فلاح و خدمت کا قدم سیاسی طور پر مخالف فریق کی جانب سے اٹھا یا گیا ہے اس کی مخالفت اور کھمبے اکھاڑ کر پھینک دینا صرف قانون کی خلاف ورزی ہی نہیں عوام سے دشمنی اور عوامی نمائندگی کے نام پر دھبہ لگانے کے مترادف امر ہے جس کی کوئی توجیہہ پیش نہیں کی جاسکتی۔ ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او کو اس معاملے پر فریقین کے درمیان صلح کی سعی نا حق فریق کی سر پرستی اور ان کو موقع دینے کے مترادف ہے۔ انتظامیہ کو ایسے عناصر جن کو عوامی فلاح مطلوب نہ ہو اور وہ قانون ہاتھ میں لینے سے نہ کتراتے ہوں گرفتار کرکے عدالت کے سامنے پیش کرنا چاہئے تھا۔ عوام کی اپنے نمائندوں سے بجا طور پر یہ توقع ہوئی ہے کہ ان کے نمائندے ان کے مسائل کے حل کے لئے نہ صرف بھرپور طور پر کوشاں رہیں گے بلکہ وہ ہر ممکن طریقے سے فنڈز حاصل کرکے اپنے حلقوں میں ترقیاتی کاموں' سڑکوں کی تعمیر و مرمت' بجلی کے منصوبوں' صحت اور تعلیم کی سہولتوں کی فراہمی میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھیں گے۔ یہ عوامی نمائندگی کاحق بھی ہے اور عوامی نمائندوں کی ذمہ داری بھی اور عوام کا ان سے اس طرح کی توقعات کی وابستگی اور اس میں ناکامی پر تنقید فطری امر ہے۔ اگر عوامی نمائندے ہی یہ ذمہ داریاں نبھانے کی بجائے ان ذمہ داریوں کی راہ میں رکاوٹیں بننے لگیں اور ان کو وجہ نزاع بنانے لگیں تو عوام کا تو خدا ہی حافظ۔توقع کی جانی چاہئے کہ عوامی نمائندے اس طرح کے اقدامات سے کم از کم احتراز کریں گے جو ان کی نمائندگی پر داغ لگانے کا باعث بنتے ہوں۔

اداریہ