یہ حساب اتنا مشکل نہیں

یہ حساب اتنا مشکل نہیں

اس وقت اس ملک کا ہر شہری پانامہ کیس کے حوالے سے بات کر رہا ہے۔ طرح طرح کی باتیں سنائی دیتی ہیں۔کوئی تبصرہ کسی جانب سے اٹھتا ہے اور کہیں سے کوئی آواز آتی ہے۔ میڈیا بھی مسلسل اس حوالے سے بات کرتا ہے۔ ایک ملک کے وزیر اعظم پر بد عنوانی کا الزام ہو اس سے زیادہ بھیانک اور پریشان کن اور کیا بات ہوسکتی ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں' مسلسل اسی حوالے سے سوچ رہے ہیں۔ بہت سے لوگ جو اس حکومت کو بھاری مینڈیٹ دلوانے کے شریک جرم ہیں پریشان وہ بھی ہیں۔ کچھ ایسے ہیں جو اپنے حکمرانوں اور اپنی پارٹی کے وفادار ہیں۔ ان کی باتیں سن کر سر پیٹ لینے کو دل کرتا ہے۔ یہ کیسے لوگ ہیں جو سچ جاننے کی کوشش کئے بنا ہی فیصلہ کئے بیٹھے ہیں۔ ایسی اندھی عقیدت میں سمجھنے سے قاصر ہوں۔ انسان جو خطا کا پتلاہے اور خاص طور پر سیاست دان جن کی زندگی ہی اکثر خطائوں پر مبنی ہوتی ہے۔ ایسی اندھی عقیدت بھلا کیسے رکھی جاسکتی ہے اور پھر میری عقل اس منطق کو بھی تسلیم نہیں کر پاتی جب نواز شریف کے حمایتی کہتے ہیں کہ میاں صاحب پر الزام ہیں تو کیا بڑی بات ہے ' دوسرے سیاست دان کونسے پاک صاف ہیں۔ ایسا نا معقول اور نا مناسب رویہ کم از کم اس ملک کے لوگوں کو زیب نہیں دیتا جو سیاسی طور پر خاصے با شعور سمجھے جاتے ہیں۔

ایک زمانے میں اکثر میری بحث اپنے ارد گرد کے لوگوں سے رہا کرتی تھی۔ ان لوگوں کا خیال تھا کہ ہمارے ملک کے لوگ سیاست کے حوالے سے خاصے با شعور اور زندہ ہیں جبکہ میں ان کی اندھی عقیدتوں کے حوالے سے بات کیا کرتی تھی کہ وہ لوگ جو لوگوں کے کردار کو سمجھے بغیر' ان کی حرکات و سکنات پر نظر رکھے بغیر ان سے عقیدتیں کیسے رکھ سکتے ہیں۔ یہ کیسے با شعور لوگ ہیں جو اپنے ہی مجرموں کو اپنا حاکم دیکھنا چاہتے ہیں۔ جو جانتے ہیں کہ یہ حکمران اپنے مفادات کے علاوہ کسی جانب دیکھنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ لیکن اس کے باوجود وہ ان لوگوں سے عقیدتیں رکھتے ہیں۔ اپنی ہی تباہی و بربادی سے کوئی عقیدت کیسے رکھ سکتاہے۔ اپنے نقصان سے کوئی محبت کیسے پیدا کرسکتا ہے۔ میں نہ تب یہ بات سمجھی تھی اور نہ اب سمجھ سکتی ہوں۔
ہم اپنی ترقی معکوس سے پریشان رہا کرتے تھے پھر ہم نے اپنے پیمانے ہی بدل لئے۔ وہ تمام باتیں جو در اصل سیاست دانوں کی گھاتیں تھیں ہمارے مستقبل کے شکار کی کوششیں تھیں۔ انہیں ہم نے اپنے لئے ترقی کا نام دے لیا۔ یہ میٹرو کے نام پر ہمیں لوٹ رہے ہیں' کوئی بات نہیں۔ ترقی اسی کو کہتے ہیں۔ انہوں نے یلو کیب میں بھی ہمیں لوٹا تھا' کوئی بات نہیں وہ بھی ترقی کی ہی کوشش تھی۔ یہ حیلے بہانوں سے ہمیں نقصان پہنچاتے ہیں اس سے بھی ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ترقی کے لئے قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔ ایسے ہی دلائل ہیں جو ہم بار بار سنتے ہیں اور حیرت زدہ رہتے ہیں کہ آخر ہم نے کیا بات کس طور سوچنی اور سمجھنی ہے۔
ہم ایک طویل عرصے تک اپنی حالت زار پر متفکر اور مشوش رہے پھر ہمیں جمہوریت کے خبط میں مبتلا کردیاگیا۔ جمہوریت نہ رہی تو یہ ملک بھی نہ رہے گا۔ اور کسی نے یہ نہ پوچھا کہ ایسی جمہوریت رہی تو کیا یہ ملک' یہ قوم باقی رہ جائے گی۔ لیکن ان حکمرانوں کو کیا دوش دیا جائے۔ انہیں یہاں تک ہاتھ پکڑ کر ہم ہی جیسے لوگ لے کر آتے ہیں۔ وہ جو اپنی چوری کی خواہش کو چھپانے کے لئے چوروں کو حکمران بنا دینا چاہتے ہیں جو اپنی بد عنوانی کے راستے تلاش کرنے کے لئے ان کی بدعنوانیوں سے صرف نظر کرتے ہیں۔ نہ ان کی جیت نئی ہے نہ اپنی ہار نئی' اور ہم اپنی اس ہار میں خوش ہیں کیونکہ کسی کو نکمے بیٹے کی نوکری کی خواہش ہے' کسی کو چند ہزار روپے رشوت کی' کسی نے کہیں سے نلکا چوری کرنا ہے اور کسی نے کسی کا بٹوہ۔ ہم سب چھوٹے چھوٹے چور ہیں اس لئے بڑے چوروں کی باتوں کو برا نہیں مانتے۔ میرٹ' ایمانداری ہمیں دوسروں کے لئے بھاتی ہے اپنے لئے نہیں۔ ہم چاہتے ہیں یہ ملک جنت نظیر ہو لیکن ہماری زیادتیوں پر کوئی ہمیں نہ پکڑے۔ ایک افسر کے کمرے کے باہر کرسی پر بیٹھا پیون اپنی چوری کو جائز سمجھتا ہے اور صاحب کو چوری کے راستے ان کے کان میں بتاتا ہے۔
یہ حکمران ہم سے جدا نہیں یہ ہمارا ہی پرتو ہیں۔ یہ آبدیدہ ہوں تو ہماری آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں۔ ان کی چوریاں بھی درست' ان کی بد عنوانیاں بھی سر آنکھوں پر' یہ ایسے ہیں تو ہماری جانب نگاہ نہیں کرتے۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ بڑا چور اپنی گردن بچانے کے لئے چھوٹے چور کی گردن ضرور مارتا ہے۔ کئی بے گناہ بھی ایسی سزائیں پاتے ہیں کہ جن کا کوئی سر پیر نہیں ملتا۔ ہم با شعور لوگ نہیں ہم بے سمت لوگ ہیں۔ خود اپنے ہی مفاد سے بے بہرہ۔ ہماری مائوف عقل نے ہمیں کوئی سیدھا راستہ کبھی نہیں دکھایا۔ آج بھی ہم میں سے بہت سے بے وقوف سینہ تان کر کہتے ہیں۔ دیکھا ہے ہمارا وزیر اعظم کتنا بہادر ہے وہ جے آئی ٹی کا مقابلہ کرنے کو تیار ہیں اور خرد کے ہنستے ہنستے پیٹ میں بل پڑ جاتے ہیں۔ یہ کیا بہادری ہے۔ وہ اپنی تقصیر اتنی آسانی سے کہاں مانگیں گے لیکن یہ جو ان کے سامنے سینے تانے کھڑے ہیں ان کا انجام کیا ہوگا کبھی کسی نے سوچا ہے۔ کیا کبھی کوئی اندازہ یہ بھی کسی کو ہوا ہے کہ یہ لوگ واقعی مجرم قرا دئیے جاسکتے ہیں۔ کیونکہ سر گوشیاں تو یہ بھی کہتی ہیں کہ بادشاہوں کو اکثر ان کے گھر کے اندر کی سازشیں ہی زہر دیاکرتی ہیں۔
اب ایک ایسا مقدمہ جس میں میاں صاحب کا تمام خاندان ہی ہدف ہے اس کا فائدہ کس کو ہونا ہے۔ تحریک انصاف تو کچھ بھی کہے مضبوط اپوزیشن تو جمہوریت کے چلنے کی بات کر رہی ہے تو پھر سامنے کون آئے گا ذرا سوچئے یہ حساب کتاب اتنا مشکل بھی نہیں۔

اداریہ