مسلم لیگ(ن) کی آزمائش

مسلم لیگ(ن) کی آزمائش

نیب کے سابق چیئرمین جنرل(ر) امجد کا کہنا ہے کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اپنی مرضی سے اوربغیر کسی جبر کے اعترافی بیان دیا تھا۔جنرل(ر) امجد اس وقت چیئرمین نیب بنے تھے جب مشرف دور میںنیب کی تشکیل کی گئی تھی۔اس ادارے کے قیام کامقصد نوازشریف کے ساتھیوں کو ڈرا کرمسلم لیگ ن کو کمزور کرنا اور ق لیگ کو مضبوط کرنا تھااور یہ مقصد پوری طرح حاصل کیا گیا تھا۔یہ وہ عہد پر آشوب تھا جب مسلم لیگ ن سے وابستہ ہر شخص اپنی جان،مال اور عزت بچانے کے لئے پوری قوت سے ہاتھ پائوں مار رہا تھا اس لئے اسحاق ڈار کے بارے میں یہ کہنا کہ انہوں نے رضاکارانہ طور پر اعترافی بیان دیا تھا سچائی اور حقائق کی دھجیاں اڑانے کے مترادف ہے۔

بارہ اکتوبر ننانوے والے دن تک مسلم لیگ ن ایک بہت بڑی اور موثر سیاسی قوت تھی لیکن مارشل لاء کے بعد بدترین ریاستی جبر نے چند ماہ کے اندر اندر اس کا شیرازہ بکھیر کر رکھ دیا تھا۔پولیس مسلم لیگیوں کو اسی طرح سے ذلیل کر رہی تھی جس طرح ضیاء الحق کی پولیس جیالوں کی تذلیل کر رہی تھی۔آٹھ سال تک ملک پر آمریت کے سائے تلے صرف وہی سیاسی ورکر محفوظ تھا جو حاکم وقت کے سامنے سجدہ ریز ہوا۔اس طویل اور منحوس شب کی صبح ہوتے ہوتے مسلم لیگ ن کا شیرازہ بری طرح بکھر چکا تھا۔اس بکھرے آشیانے کے تنکے جوڑ کر نوازشریف نے جس طرح تباہ حال مسلم لیگ کو منظم کیا وہ ان کی لگن، حوصلے اور کمٹمنٹ کی ایک اعلیٰ مثال ہے۔نواز شریف کی سیاسی ولادت ایئر مارشل اصغر خان کے زیر سایہ ہوئی اور انہوں نے سیاسی بلوغت ضیاء الحق کے عہد سیاہ میں حاصل کی۔بعدازاں جب ان کی پہلی وزارت عظمیٰ پر ان ڈائیریکٹ شب خون مارا گیا تو انہیںاندازہ ہوا کہ خون آشاموںکے دانت کتنے تیز اور زہریلے ہیں۔یہی وہ ٹرننگ پوائنٹ تھا جب انہیں یقین ہو گیا کہ اگر اس ملک میں جمہوریت کے لئے ایک بڑی اور طویل لڑائی نہ لڑی گئی توچوہے اور بلی کا کھیل کبھی ختم نہیں ہوگا چنانچہ ہم نے دیکھا کہ دوسری بارو زیراعظم بننے کے بعد انہوں نے اس لڑائی کا با قاعدہ آغاز کر دیا جو ان دنوں بام عروج پر پہنچی دکھائی دیتی ہے۔ان کا پہلا ٹاکرا جہانگیر کرامت کے ساتھ ہوا جس کا نتیجہ جنرل کی رخصتی کی صورت نکلا ۔دوسری مڈبھیڑ مشرف کے ساتھ ہوئی جس کا نتیجہ انہیں اقتدار کے خاتمے کی صورت بھگتنا پڑا۔بعدازاں ملک بدری،دیار غیر میں والد کی وفات اور کاروبار کو پہنچنے والے شدید نقصان نے نواز شریف کے اس خیال کو مزید پختہ کر دیا کہ اگر پاکستان کو آگے بڑھانا ہے تو اس کے لئے اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی کردار کو لگام ڈالنی ہوگی اور ظاہر ہے کہ ٹکر لینے والے کو اس کی قیمت بھی چکانی پڑے گی۔ حالیہ دور حکومت میں نواز شریف کو پہلا دھچکا اس وقت لگا جب دھرنا نمبر ایک سٹیج کیا گیا۔آج کے اس جدید دور مواصلات میں چونکہ معاملات مخفی نہیں رہتے اس لئے مسلم لیگ ن اس نتیجے پر پہنچی کہ دھرنے والوں کو اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی حاصل ہے۔شیخ رشید جیسے اسٹیبلشمنٹ کے دیرینہ مہرے کی عمران خان سے قربت،شاہ محمود جیسے لاڈلے کا عمران خان کے ساتھ فرنٹ فٹ پر کھیلنا،ریحام خان سے بھی زیادہ کپتان سے جہانگیر ترین کا قریب ہونا اس امر کا واضح اشارہ تھا کہ اسٹیبلشمنٹ کی سیاسی دیگ کی بریانی تیار ہو چکی ہے اور چوہدری برادران جیسے آزمودہ کار اپنی اپنی پلیٹیں ہاتھ میں پکڑے اس بریانی کے مزے لوٹنے کو بے تاب کھڑے ہیں۔دھرنا نمبر ٹو اس امر پر مہر تصدیق تھی کہ نواز شریف اب برداشت سے باہر ہو گیا ہے ،سونے پہ سہاگہ اس ''مرد میدان'' کی پشت تھپکی گئی جو فن تقریر کے ذریعے خون گرمانے کا ہنر جانتا تھا۔طاہر القادری نامی اس شخصیت کا ٹریک ریکارڈ نظام کی تبدیلی کے لئے جدوجہد سے خالی تھا ماسوائے پیپلز پارٹی دور میں ایک بے ضرر سے لانگ مارچ اور دھرنے کے چنانچہ ایسے پر تشدد حالات پیدا کئے گئے جن کے ذریعے طاہر القادری کے کندھوں پر درجن بھر لاشوں کا بوجھ پڑا تو کچھ چھپے رستموں کے ساتھ حق دوستی کو نبھانے اور کچھ لاشوں کے اخلاقی بوجھ تلے دب کر علامہ صاحب ایسے پھنسے کہ ان کے لئے جان چھڑانا مشکل ہوگیا چنانچہ کنٹینر میں اے سی لگوا کر اوربستر بچھوا کر وہ اپنے اور عمران کے لوگوں کی شاموں کو گرم گلابی کرتے کرتے اپنے حامیوں کو کفن پہنانے کی انتہا تک گئے لیکن ان کی طبع سے آشنائی رکھنے والوں کو خوب پتہ ہے کہ نظام کی تبدیلی ان کا ذوق نہیں ہے اور وہ پاکستان سے زیادہ پاکستان سے باہر رہنا پسند کرتے ہیں۔خان کی مچلتی خواہشوں،شیخ رشید کی بے تابیوں،جہانگیر ترین کی دھرنوں پر مالی نوازشوں اور جھاگ اڑاتے علامہ قادری کی بوکھلاہٹوں نے باخبر حکمرانوں کو اس سارے ناک نقشے کی خبر دے دی جو کسی ماہر جغادری نے بڑی محنت سے تیار کیا تھا چنانچہ اس کی خبر پیپلز پارٹی کو بھی دے دی گئی اور اپنے مفاد کی خاطر پی پی پی نے نوازشریف کا ساتھ دیا لیکن صرف یہی حمایت دھرنے کو لپیٹنے کے لئے کافی نہیں تھی ،اصل تدبیر وہ بے پناہ صبر،بے حساب برداشت اورغضب کی طاقت رکھنے کے باوجود اس کے استعمال سے گریز تھا جس کا مظاہرہ مسلم لیگ ن کی طرف سے ہوا۔ اب پانامہ کا ہنگامہ،اس بہانے آلہ کاروں کا ڈرامہ،جے آئی ٹی کا شاخسانہ ایک ایسی آب و تاب سے منصہ شہود پر آیا کہ اگر نواز شریف کے پاس مضبوط اعصاب اور دو تہائی اکثریت نہ ہوتی تو وہ اب تک زمین بوس ہو چکے ہوتے۔اب جبکہ وہ ڈٹ جانے کا فیصلہ کر ہی چکے ہیں تویہ بہت اہم نہیں ،اہم یہ ہے کہ وہ اس ٹوٹ پھوٹ کو روکنے میں کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں ۔

اداریہ