Daily Mashriq

گربہ کشتن روز اول

گربہ کشتن روز اول

کل امریکہ سے آئے ہوئے ایک دوست نے فون کیا کہ میں اس وقت قصہ خوانی بازار میں اپنی شریک حیات کے ساتھ گھوم رہا ہوں لیکن بہت زیادہ پریشان ہوں ہم نے ان سے پریشانی کی وجہ پوچھی تو کہنے لگے قصہ خوانی اور چوک یادگار میں لوگوں کا زبردست ہجوم ہے کھوے سے کھوا چھل رہا ہے راہ چلنا مشکل ہے میں تو خیر جیسے تیسے ان بازاروں کے ہجوم سے نبٹنے کی صلاحیت رکھتا ہوں لیکن میری شریک حیات رش کی وجہ سے حواس باختہ ہے مجھے بھی جلی کٹی سنا رہی ہیںکہ کہاں لے آئے ہو؟ہم نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ جس برتن میں دو کلو دودھ کی گنجائش ہو اور اس میں تین کلو ڈال دیا جائے تو دودھ ابل کر باہر گرپڑتا ہے پشاور شہر کے ساتھ بھی یہی معاملہ چل رہا ہے آبادی اتنی زیادہ بڑھ چکی ہے کہ ہمارا پیارا شہر مسائل کی آماجگا ہ بن چکا ہے دوسرے دن ہمیں ان کی میزبانی کا شرف حاصل ہوا تو دو چار بچپن کے دوستوں کی رفاقت میں بہت سی پرانی یادوں پر بات ہوئی اس وقت کے پشاور کو یاد کیا گیا جب راوی چین ہی چین لکھتا تھا ایک ستم ظریف نے یہ کہہ کر موضوع گفتگو بدل دیا کہ یار وقت کے ساتھ ساتھ یہ سب کچھ ہونا تھا ہمارے چاہنے نہ چاہنے سے کیا ہوتا ہے ہم نے اس مسائل کے ساتھ ہی جینا ہے تو پھر انہیں برداشت کرنے کی عادت ڈالنی ہوگی امریکہ پلٹ دوست کہنے لگے کہ بیوی نے کل بڑا تنگ کیا خود بھی پریشان تھی اور مجھے بھی خوب پریشان کیا ان کا یہ کہنا تھا کہ بہت سے دوستوں کے دل کے پھپھولے جل اٹھے اور سب نے اپنے اپنے تجربات سے نوازنا شروع کردیا ایک مہربان کہنے لگے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ شادی قسمت کی بند پڑیا ہے کوئی بھی نہیں جانتا کہ شادی کے بعد پڑیا سے کیا نکلتا ہے۔ہمارے ایک دوست بڑی صلاحیتوں کے مالک ہیں جب ان کی شادی ہوئی تو انہوں نے دوستوں کی سب محفلوں کو خیر باد کہہ دیا اور اپنے گھر تک محدود ہوکر رہ گئے ایک دن ہم نے ان سے پوچھا کہ آپ کا سارا وقت گھر پر گزرتا ہے ۔ آپ کے کسی دوست کو آپ کے گھر آتے جاتے نہیں دیکھا۔آپ کے گھر تو دوستوں کی بڑی بڑی محفلیں ہوا کرتی تھیں قہقہوں کی صدائیں بلند ہوتی تھیں۔وہ بڑی حسرت کے ساتھ ہماری طرف دیکھ کر کہنے لگے یار کیا بتائوں ایک دن بیٹھک میں دوستوں کی محفل جمی ہوئی تھی خوب گپ شپ لگ رہی تھی کہ اچانک ہماری نیک پروین سر سے چادر لپیٹ کر بیٹھک کے دروازے پر آ کھڑی ہوئی اور گرجنے برسنے لگی ہم گھبراہٹ اور شرمندگی کی وجہ سے اس کی باتیں تو نہ سن سکے لیکن اس دن کے بعد پھر ہمارا کوئی دوست نہیں آیا۔اور ہم بھی گھر کے ہو کر رہ گئے۔

مرد حضرات کب نچلے بیٹھتے ہیں انہوں نے بھی ہر دور میں شریک حیات کو ڈرانے دھمکانے کے نت نئے گر ایجاد کیے جو کبھی چل گئے اور کامیابی مل گئی تو کیا کہنے ورنہ بصورت دیگر وہی ڈھاک کے تین پات۔کچھ سپر مین شادی کے شروع کے چند سالوں میں بیگم صاحبہ کو زیر کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں لیکن یہ کامیابی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ناکامی میں تبدیل ہونا شروع ہو جاتی ہے ۔ فارسی میں کہتے ہیں کہ گربہ کشتن روز اول ۔ یعنی رعب پہلے ہی دن بیٹھتا ہے۔اس کہاوت کے ڈانڈے ایک دلچسپ واقعے سے جوڑے جاتے ہیں کہتے ہیں کہ چند دوستوں کی شادیاں کچھ دنوں کے وقفے سے ہوئیں ظاہر ہے شادی کے شروع کے دنوں میں دوست ایک دوسرے سے بیویوں کے مزا ج اور عادات کے بارے میں پوچھتے ہیں سب دوستوں نے ایک ہی کہانی سنائی کہ ہماری بیویاں بد مزاج اور بات بات پر ہنگامہ کھڑا کرنے والی ہیں بس اپنی عزت بچانی ہے سر جھکائے زندگی کے دن گزار رہے ہیںشادی کا بندھن تو انتہائی نازک ہوتا ہے اگر ہم بھی سرکشی اختیار کریں تو یہ رشتہ ٹوٹنے کا خطرہ ہے معاشرے میں رہنا ہے صبرو تحمل سے وقت گزار رہے ہیںایک دوست ایسا تھا جس نے کہا کہ اس کی بیگم کی تو اس سے جان نکلتی ہے بڑے مزے سے زندگی کے دن گزر رہے ہیںسب حیران ہو کر پوچھنے لگے یار یہ کیسے ممکن ہے کچھ ہمیں بھی تو پتہ چلے وہ قہقہہ لگا کر کہنے لگا شادی کا پہلا دن تھا ہم کھانا کھانے کے لیے بیٹھے تو دستر خوان کے قریب ایک بلّی بھی آ کر بیٹھ گئی میں نے اسے بھگانے کے لیے آواز نکالی لیکن وہ ٹس سے مس نہیں ہوئی اور بڑے مزے سے اپنی جگہ پر بیٹھی رہی بس پھر کیا تھا میں نے آئو دیکھا نہ تائو ایک بڑی سی لکڑی اٹھا کر اس کے سر پر دے ماری وہ بیچاری وہیں پر ڈھیر ہوگئی بس وہ دن اور آج کا دن ہماری نیک پروین ہم سے بری طرح دبتی ہے وہ سوچتی ہو گی کہ اس نے معمولی سی بات پر بلّی کا خون کر دیا تو نجانے میرا کیا حشر کرے گا۔ایک دوست نے اس کی یہ ساری بات گرہ میں باندھ لی گھر آتا تو بڑا سنجیدہ رہتا اب وہ اس موقعے کی تاک میں رہنے لگا کہ کبھی بلّی سامنے آئے تو اسے مارا جائے تاکہ بیوی پر رعب تو پڑے اور اس کی آئے دن کی فرمائشوں سے جان تو چھوٹے۔ ایک دن اسے یہ موقع مل ہی گیا بلّی کو بھگانے کی غرض سے چیخا اور پھر لکڑی لے کر اسے مارنے کے لیے اس کے پیچھے بھا گا بیوی یہ سارا تماشہ دیکھ رہی تھی اسے اپنی سہیلی کے میاں کا بلّی مارنے والا واقعہ بھی معلوم تھا جب یہ حضرت لال پیلی آنکھیں نکالتے ہوئے غیض و غضب سے مغلوب وا پس آکر بیٹھے اور شریک حیات کا جائزہ لینے کے لیے اس کی طرف دیکھا تو وہ نیک بخت ہنس کر کہنے لگی گربہ کشتن روز اول !اب تم ہزار بلّیاں بھی مار ڈالو میں تمھارے رعب میں آنے والی نہیں ہوں !

اداریہ