Daily Mashriq

جے آئی ٹی کے ارکان پراعتراضات کیوں؟

جے آئی ٹی کے ارکان پراعتراضات کیوں؟

وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے بچوں کے خلاف تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی کی رپورٹ پر سپریم کورٹ میںسماعت کا آغاز ہو گیا ہے اور شریف خاندان کی جانب سے اس رپورٹ پر اعتراض اُٹھائے گئے ہیں۔ شریف خاندان نے سپریم کورٹ میںاس رپورٹ کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ جے آئی ٹی نے جانبداری کامظاہرہ کرتے ہوئے اپنی حدود سے تجاوز کیا ہے۔ خیال رہے کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے 10جولائی کوسپریم کورٹ میںپیش کی گئی اپنی حتمی رپورٹ میں کہا تھاکہ وزیراعظم نواز شریف اور ان کے بچوں کے رہن سہن اور معلوم آمدن میںبہت فرق ہے۔لیکن وہ کہتے ہیں ناں کہ سچ چھپائے نہیںچھپتا اور نہ ہی سچ کو شکست دی جاسکتی ہے۔ یہ سچ چاہے جے آئی ٹی کے لوگوں کی طرف سے بولا جا رہاہو یا مسلم لیگ ن کی جانب سے۔ اگر جھوٹ یہ سمجھتا ہے کہ وہ سچ کو مات دے دے گا یا اپنے خزانوںسے سچ کو جھٹلا کے رکھ دے گا تو وہ ایک خاص مدت کے لیے ہوتا ہے،جسے اللہ تعالیٰ ڈھیل دینے کی صورت میںبڑھائے چلے جاتا ہے تاکہ اس کانافرمان اپنے جھوٹ کی شان پراکڑنے کے لیے اپنے جھوٹ کے بہتان پر ذاتی فائدے اُٹھانے کے لیے جس حد تک جا سکتا ہے چلا جائے کیونکہ شکست اور ذلت ازل سے ابد تک جھوٹ کی شکست سے منسوب ہے اور سچ ہر قسم کے جھوٹ پر غالب آتا رہا ہے۔ جے آئی ٹی کے چھ ارکان نے دنیا جہاں کے ہر لالچ اور خاندان سمیت خود کو ملنے والی خوفناک قسم کی دھمکیوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑے رہ کر یہ ثابت کر دیاہے کہ ہرشخص کو خریدا نہیں جا سکتا۔ ذرا تصورکریں کہ جب جے آئی ٹی کے ارکان اپنے بیوی بچوں اور خاندان بارے سوچتے ہوں گے تو بحیثیت انسان انہیں کیسے کیسے خیال آتے ہوں گے ،جب وہ بھاری پیشکشوں کو ٹھکراکر اپنی عاقبت سنوارنے میں ہی مگن تھے تو نہاں خانے میں اپنے بچوں کا مستقبل بھی نظروں کے سامنے آتا ہوگا۔لیکن انہوں ان تمام تر خیالات اور وسوسوں کے باوجود ضمیر کے آواز پر لبیک کہا او راپنی ذمہ داری پوری دیانت داری کے ساتھ ادا کی ۔جے آئی ٹی کے چھ ارکان کی طرح اگر ملک کے دیگر ادارے دنیاوی خوف اور لالچ کو اپنے فرائض پر غالب نہ آنے دیں ، پاکستان کے پرچم سے سجی ہوئی وردی پہن کرحکمرانوںاور ان کے خاندان کے بچوںمیںبیٹھنے کی بجائے دنیا بھر کے تمام لالچ قائد اعظم محمد علی جناح کے اس فرمان پر قربان کر دیں کہ ''سرکاری ملازمین کسی کے غلام نہ بنیں ' کسی بھی حکمران ' اس کے وزیروں ' مشیروں اور حواری سیاستدانوں کی چاپلوسی اور خوشامد کرنے کی بجائے صرف پاکستان اور اس کے عوام سے وفاداری نبھائیں'' تو یہ ملک کسی کامحتاج نہیں ہوگا۔''سبز ہلالی پرچم کی شناخت سے دنیا بھر میںپہچانے جانے والے میرے وطن عزیز پاکستان کا ہر سرکاری اہلکار ' ہر تاجر اور کاروباری ، سپاہی سے انسپکٹر جنرل تک ' نائب قاصد اورچوکیدار سے چیف سیکرٹری تک سب جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کے ان چھ ارکان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے انہیں اپنی زندگی کی منزل بنالیں ، انہیں اپنا رہبر بناتے ہوئے تمام لالچ اور ذاتی مفاد سچ اور انصاف پر قربان کر دیں کیونکہ سچ اور انصاف اللہ کی شان سے منسوب ہے اور اگر آپ بڑی بڑی کرسیوں اور دولت کے مقابلے میںظلم ' ناانصافی اورجھوٹ کا ساتھ دیںگے تو پھر … قہر خداوندی کے لیے تیار رہنا ہوگا۔ حکومتی حلقوں کی طرف سے جے آئی ٹی کے ان چھ ارکان کو مسلسل تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ حاصل بزنجو نے تو جے آئی ٹی ارکان کوبددیانت تک کہہ دیا۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ لیگی حلقے جے آئی ٹی کی تشکیل سے پہلے خودجے آئی ٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں جب سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی تشکیل دی تب بھی حکومتی حلقوںنے مٹھائیاںتقسیم کیں۔ آج اگر جے آئی ٹی کے ارکان حکومت بارے بے ضابطگی ' بے قاعدگی ' خردبرد اور ذرائع سے زیادہ آمدن کی بات کررہے ہیں تو جے آئی ٹی کے ارکان متنازع کیوں؟جے آئی ٹی کے چھ ارکان نے0 6دن میںصرف انکوائری کی ہے فیصلہ نہیں سنایا ۔ اسی انکوائری کی حتمی رپورٹ سپریم کورٹ میںجمع کی گئی ہے ، حتمی فیصلہ سپریم کورٹ کرے گی۔ اس کے خلاف لیگی حلقے سپریم کورٹ میںاپیل کر سکتے ہیں ، لیکن کسی کویہ حق نہیں دیا جاسکتاکہ وہ سپریم کورٹ کی تشکیل کردہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے ارکان پر کیچڑ اچھالے۔ اگرشریف خاندان یہ سمجھتا ہے کہ اس نے کسی طرح کی کوئی مالی بے ضابطگی نہیں کی ہے تو پھر قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کیس کاسامنا کرے۔ دھمکیاںدینے کا صرف اور صرف ایک ہی مقصد ہے کہ جس طرح سے نظام صدیوںسے چلتا آرہا ہے اسی طرح چلنے دیا جائے ، جیسے کرپشن ہوتی چلی آرہی ہے اسے ہونے دیا جائے،جس طرح مسلم لیگ ن دیگر کی کرپشن پر خاموش ہے باقی بھی اس کی کرپشن پر خاموش رہیں ۔اس تناظر میں دیکھا جائے تو جے آئی ٹی کے ارکان نے نامساعد حالات کے باوجودجس جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے حاکم وقت کے خلاف رپورٹ جاری کی ہے اس سے امید پیدا ہو چلی ہے کہ اب بھی ایسے لوگ باقی ہیں جو ملک کی فلاح کو مقدم رکھتے ہیں اورجنہیں دنیا کی کوئی طاقت خریدنہیں سکتی۔ 

اداریہ