خطے کی سیاست' فیصلہ کن لمحات

خطے کی سیاست' فیصلہ کن لمحات

چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے سربراہ جنرل زبیر حیات نے کراچی میں پاک بحریہ کی پاسنگ آئوٹ پریڈ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ''را''سی پیک کے خلاف افغانستان سے کام کررہی ہے ۔اسی مقصد کے لئے بلوچستان میں عدم استحکام پیدا کیا جا رہا ہے مگر کوئی غلط فہمی میں نہ رہے دشمن کے عزائم کو ناکام بنایا جائے گا ۔جنرل زبیر نے کشمیر میں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں ہونے والے قتل عام پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا ۔جنرل زبیر حیات کے بیان سے کچھ ہی پہلے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ایک چونکا دینے والی رپورٹ منظر عام پر آئی تھی جس میں اقوام متحدہ اور عالمی عدالت انصاف سے کہا گیا تھا افغانستان میں قائم بھارت کے 65قونصل خانے پاکستان میںدہشت گردی میں ملوث ہیں اور انہیں بند کرکے ہی جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کا خاتمہ ہو سکتا ہے ۔ان قونصل خانوں میں بھارت ،اسرائیل اور افغانستان کی ایجنسیوں کے لوگ دہشت گردوں کو تربیت دے کر پاکستان میں داخل کرتے ہیں۔ایمنسٹی کی اس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں امرناتھ یاتریوں پر حملہ بھی اسی نیٹ ورک کی کارستانی تھی ۔اس حملے میں مرنے والے نچلی ذات کے ہندو تھے۔عین اسی دوران واشنگٹن میں امریکی ایوان نمائندگان نے ایک ایسے بل کی منظوری دی ہے جس میںپاکستان کی فوجی امداد کو قدر کڑی شرائط سے جوڑ دیا گیا جن پر عمل شاید ہی ممکن ہو اس کے برعکس اس بل میں بھارت کے ساتھ فوجی تعاون بڑھانے کی منظوری دی گئی ہے ۔ایسے موقع پر جنرل زبیر حیات کی طرف سے بہت کھلے لفظوں میں حالات اور واقعات پر تبصرہ کرنا بہت معنی خیز ہے ۔پاک فوج اس وقت خطے میں بھارت کی پھیلائی گئی دہشت گردی اور عدم استحکام کی بارودی سرنگوں کو مختلف آپریشنوں اور غیر عسکری مہمات کے ذریعے صاف کر رہی ہے ۔یہ کوئی معمولی کام نہیں بلکہ جاں جوکھوں میں ڈالنے کا معاملہ ہے۔بھارت کی تمام سرگرمیوں کا مقصد پاک چین اقتصادی راہداری کو ناکام بنانے اور اس کی ایٹمی صلاحیت کو ختم کرنے سے تھا ۔دو دہائیوں سے یہ کھیل بہت تیز رفتاری سے جا ری رہا ۔پاکستان کے مختلف حصوں میں تصادم اور کشیدگی کے شعلے بھڑکائے گئے ۔بغاوتوں کی سرپرستی کی گئی اورپاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے والا ہر کام کیا گیا ۔ایسے ہر گروہ کی سرپرستی اور معاونت کی گئی جو پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لئے اپنا کردار کسی نہ کسی انداز سے ادا کررہا تھا ۔پاکستان کو معاشی اور سیاسی طور پر اس سطح پر لانے کی کوشش کی گئی جہاں یہ ایک دیوالیہ ریاست قر ار پاتا اور پھر اس کی نئے انداز سے تشکیل کا عمل شروع کیا جاتا ۔تشکیل نو او رتعمیر نو کچھ اس انداز سے کی جاتی کہ بھارت خطے کا بالادست ملک قرار پاتا اور پاکستان ،نیپال ،بھوٹان نہ سہی بنگلہ دیش طرح کا ملک ہوتا۔ایک بار امریکہ کی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن اسلام آباد میں اس حسین صبح کا تصوراتی منظر یہ کہہ کر دکھا گئی تھی کہ بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر ہونے کے بعد پاکستان کی معیشت راکٹ کی رفتار سے ترقی کر ے گی ۔پاکستان کے لئے بھارت کا ضمیمہ اور چھوٹا بن کر ترقی کا یہ تصور قطعی قابل قبول نہیں تھا ۔یوں لگ رہا تھا کہ پاکستان کو پہلے اپنوں کے ہاتھوں گرانا مقصود ہے اور پھر اسے بھارت کے ذریعے اُٹھانا مقصد ہے تاکہ ماہ وسال کی طویل گردش اور خوں ریز جنگوں سے تشکیل پانے والا پاکستان کا تصور دشمن تبدیل ہوجائے اور بھارت کی شبیہ ایک دشمن کی بجائے ''سانتا کلاز'' جیسے کسی مہربان کردار کی ہوکر رہ جائے ۔آج ستر برس بعد بھارت میںانسان اہم ہے یا گائے ؟کا سوال شد ومد سے اُٹھ رہا ہے اور حالات بتارہے ہیں کہ تیزی سے بدلتے ہوئے بھارت میں گائے ایک بھارتی مسلمان سے زیادہ اہمیت اختیار کرتی جا رہی ہے۔اسلامو فوبیا کا جو بیج مغرب میں بویا گیا اس میں وہ پوری طرح یوں برگ وبار لاچکا ہے کہ اب مسلمان عورتوں کو مغرب میں حجاب کی بنیاد پرحملوں کا نشانہ بنایا جانے لگا ۔برطانیہ میں ایک طالبہ پر تیزاب پھینک دیا گیا مگر شاید ایسی عورتوں کی کہانیاں فلمانے کے لئے مغرب میں نہ تو کوئی شرمین عبید چنائے سامنے آئے گی اور نہ اسے ایوارڈ ز سے نواز ا جائے گا کیونکہ یہ سب ایک منظم اور سوچی سمجھی سکیم کا حصہ ہے ۔اسی طرح مغرب سے متاثر ہو کر بھارتی انتہا پسندوںنے اسلاموفوبیا کا جو بیج بو یا تھا آج وہ بھارت کے گلی کوچوں میں مسلمانوں پر ہونے والے بدترین تشدد کے واقعات کی صورت میںاس کی شاخیں اور پتے پھیلتے دکھائی دے رہے ہیں۔پاکستان نے مصنوعی ''سانتاکلاز'' کے دستِ مہربان سے ٹافیاں وصول کرنے سے انکار کرکے سی پیک کی صورت میں اپنی الگ شناخت اور اپنے الگ اقتصادی اورسیاسی مستقبل کا انتخاب کیا تو یہ بات بھارت کو ہضم نہیں ہو سکتی تھی ۔اس لئے بھارت نے پاکستان کو گھیرنے کے لئے افغان سرزمین کو استعمال کرنا شروع کر رکھا ہے ۔پاک فوج خطے میں بھارت کے مقابلے میں ڈیٹرنس ہے۔ یہ جابجا بھارت کے فوجی عزائم کی سدِراہ بنی ہوئی ہے ۔اس لئے پاک فوج کے جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے سربراہ کی طرف بھارت کی سازشوں کا ذکر اور کشمیر کی بات بہت اہمیت کی حامل ہے ۔پاک فوج خطے میں چین کی ریڈ آرمی کی شراکت دار ہے اور دونوں افواج بھارتی فوج کے ساتھ بہت کشیدہ حالات میں ہیں۔

اداریہ