Daily Mashriq


نئے میثاق جمہوریت کی کارگر تجویز

نئے میثاق جمہوریت کی کارگر تجویز

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ تمام جمہوری جماعتوں سے نئے میثاق جمہوریت پر بات کرنے کیلئے تیار ہیں۔ پارلیمنٹ میں آنے والے سیاسی قائدین بنیادی اصولوں پر سمجھوتہ نہ کریں۔ 2018 کی آئی جے آئی بن رہی ہے، کٹھ پتلوں کا پہلے سامنا کیا اب بھی مقابلہ کریں گے۔ عام انتخابات میں رکاوٹیں تمام پارٹیوں کیلئے لمحہ فکریہ ہیں۔ نواز شریف کی سزا سے کوئی فائدہ نہیں اٹھاؤں گا۔ الیکشن ملتوی کرنے کی ہر کوشش کے سامنے دیوار بن جائینگے۔ خوف کا ماحول پیدا کر کے انتخابی مہم روکنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ دہشتگردی کے خاتمے کیلئے کاغذی نہیں عملی پلان اپنانا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے زرداری ہاؤس میں پریس کانفرنس اور بعدازاں بارہ کہو میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ نواز شریف اور شہباز شریف کیساتھ ماضی کا ہمارا تجربہ مثبت نہیں رہا لیکن میثاق جمہوریت کی نئی قسم پر بات کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں۔ بنیادی حقوق پر سمجھوتا کسی صورت نہیں کریںگے۔ پی پی پی کے نوجوان قائد بلاول بھٹو زرداری کا نئے میثاق جمہوریت کی تجویز اور اس حوالے سے پی پی پی کی آمادگی کا عندیہ صرف ایک تجویز ہی نہیں بلکہ حالات کے مارے اور ستم رسیدہ سیاستدانوں کے پاس اب متحد ہو کر حالات کا مقابلہ کرنے کے سوا کوئی اور صورت نہیں۔ سیاسی جماعتوں کا جو اکٹھ تحریک بحالی جمہوریت ایم آر ڈی کی صورت میں تھی اب تحفظ جمہوریت کیلئے اسی طرز کے وسیع البنیاد اور کثیر الجماعتی اکٹھ کی ضررت ہے۔ بعض سیاسی جماعتوں کو جس میں پیپلز پارٹی بطور ایک متاثرہ جماعت ہے آزادانہ طریقے سے انتخابی مہم چلانے کے مواقع نہیں مل رہے ہیں۔ سیاسی رہنماؤں کو خودکش حملے کا نشانہ بنانا، ان کے قافلوں پر حملہ کرنا اور گھروں پر فائرنگ وہ ظاہری واقعات ہیں جن کو چھپایا نہیں جاسکتا جو غیر مرئی دباؤ ہے اس کی تشریح ہی مشکل ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ان حالات میں الیکشن لڑنا یقیناً سیاسی جماعتوں کیلئے نہایت مشکلات کا حامل معاملہ ہے۔ اس کے باجود سیاسی جماعتوں کی قیادت انتخابات کے بائیکاٹ یا انتخابات کے التوا کی حامی نہیں لیکن جس بڑی تعداد میں امیدواروں کے معاملات عدالتوں میں ہیں انتخابات سے ایک ہفتہ قبل تک اس قسم کی صورتحال کے باعث بیلٹ پیپرز تک نہیں چھپ سکے ہیں جن کی چھپائی اور ترسیل عمومی حالات میں الیکشن سے ہفتہ عشرہ قبل مکمل ہو جایا کرتی تھی۔ اس ایک ہفتے یا چھ دنوں میں اب یہ ممکن ہی نظر نہیں آتا کہ الیکشن بروقت کرانے کیلئے یہ انتظامات مکمل کئے جاسکیں گے۔ بہرحال اس سے قطع نظر کہ انتخابات کے انعقاد کی کیا صورت ہوتی ہے سیاسی جماعتوں کیلئے یہ ایک مناسب موقع ضرور ہے کہ وہ حالات سے نمٹنے کیلئے قبل از انتخابات ہی کوئی لائحہ عمل مرتب کرکے ایک دوسرے کے ہاتھ بصورت انتخابی حمایت کے مضبوط کریں لیکن چونکہ آخری لمحات میں ایسا ممکن نہیں تو یہ ایک زریں موقع ضرور ہے کہ حالات کے جو تھپیڑے ان کو منجدھار کی طرف سختی سے ہانک کر ایک خاص جماعت کو جس طرح ہموار سطح کی موافق فضا کی سہولت دے رہے ہیں اس کے انتخابی عمل پر اثرات کا مرتب ہونا فطری امر ہے۔ اصولی طور پر تو سیاسی جماعتوں کو ان حالات کا کھل کر مقابلہ کرنے کیلئے میدان میں آنا چاہئے تاہم اگر کسی مصلحت کے تحت یہ ممکن نہیں تو سیاسی جماعتوں کے درمیان حکومت سازی کے مرحلے پر بھرپور مقابلہ اور مسکت جواب کیلئے لائحہ عمل مرتب کر لینا چاہئے خواہ اس کی صورت ایک نئے میثاق جمہوریت کی صورت میں سامنے آتا ہے یا کوئی دوسرا طریقہ کار اور فارمولے طے کر لیا جاتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ستم رسیدہ اور چنیدہ عناصر سے ہٹ کر ملک کی چھوٹی بڑی اور قابل ذکر جماعتیں سبھی کی قیادت اگر ہاتھ ملانے کا فیصلہ کریں تو بازی پلٹنے کا امکان ہے۔ جہاں تک ماضی میں سیاسی جماعتوں کی چپقلش اور میثاق جمہوریت سے انحراف کا سوال ہے سینیٹ کے انتخابات میں ہی میثاق جمہوریت سے انحراف کرنے والوں کو سبق نہیں ملا بلکہ جن حالات کا ان کو سامنا ہے یہ بھی خود کردہ لاعلاج نیست کے زمرے میں آتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کے جوانسال چیئرمین نے گرگ باراں دیدہ گان کو جو راستہ دکھایا ہے اس پر غور کرکے اور اختیار کرکے ہی حالات کا مقابلہ ممکن ہوگا۔ سیاسی قیادت کیساتھ انتخابات میں جو رویہ روا رکھا گیا اس کے پیش نظر ان کا ازخود اس نتیجے پر پہنچنا فطری امر نظر آتا ہے کہ وہ انفرادی اور ٹکڑیوں کی صورت میں حالات کا مقابلہ نہیںکر سکتے۔ اگر انہوں نے اس امر کا بروقت ادراک کرکے لائحہ عمل نہ اپنایا تو بعدازاں کی صورتحال کا ان کیلئے مشکل ہونا نوشتہ دیوار ہے۔ وطن عزیز میں جمہوریت کے استحکام اور عوام کی حکمرانی کیلئے بھی جمہوری قوتوں کا باہم تعاون ناگزیر نظر آتا ہے جس کے بغیر ملک میں مضبوط جمہوری حکومت کا قیام ممکن نہیں۔ بے ساکھیوں کے سہارے جو حکومت بنے گی اس کی کارکردگی اور ترجیحات کا مختلف ہونا عجب نہ ہوگا۔ اس قسم کی صورتحال عوام اور سیاستدانوں دونوں ہی کیلئے کسی خیر کا باعث نہیں ہوگا۔

متعلقہ خبریں