Daily Mashriq


ڈینگی کی روک تھام میں غفلت کی گنجائش نہیں

ڈینگی کی روک تھام میں غفلت کی گنجائش نہیں

کے ممکنہ پھیلاؤ کی روک تھام کیلئے رخصت شدہ دور حکومت میں سرکاری طور پر باقاعدہ پلان مرتب کیا گیا تھا لیکن اس پر عملدرآمد نہ ہو سکا۔ سیاسی حکومتیں آتی جاتی ہیں لیکن سرکاری ملازمین اور حکام موجود ہوتے ہیں جن کی ذمہ داری خواہ حکومت جس کی بھی ہو اور جو بھی ہو اپنے فرائض کی ادائیگی کا متقاضی ہوتا ہے۔ وہ حکومت تو نہیں رہی لیکن سرکاری عمال تو موجود ہیں۔ پھر ڈینگی کی وباء کی روک تھام کیلئے کیوں تساہل سے کام لیا جا رہا ہے۔ اگرچہ ڈینگی وباء کی صورت اختیار کر جانے کی کوئی رپورٹ نہیں لیکن ڈینگی کے مریضوں کی ہسپتال آمد شروع ہو چکی ہے جس کا نگران حکومت اور خاص طور پر وزیر صحت کو نوٹس لینا چاہئے۔ صوبائی دارالحکومت پشاور کے علاوہ خوش قسمتی سے صوبے کے دیگر علاقوں سے کوئی ایسی اطلاع نہیں آئی لیکن کسی ایک علاقے میں ڈینگی کے وبائی صورت اختیار کر لینے سے تشویش میں اضافہ اور حفاظتی اقدامات پر توجہ سے صرف نظر ممکن نہیں۔ متعلقہ حکام کی جانب سے شہریوں کو مناسب احتیاط اور اقدامات کے حوالے سے انتباہ بہرحال سامنے آیا تھا۔ ہمارے تئیں ٹائیروں میں پانی رکھنے اور گھروں ودکانوں کے باہر پانی میں پودے رکھنے سے روکنا ایک سطحی قدم ہوگا جب تک شہر میں جابجا کھڑے پانی کے تالاب نما گڑھوں کو نہ بھر دیا جائے۔ برسات کے موسم میں مچھروں کی افزائش ویسے بھی معمول سے زیادہ ہوتی ہے۔ صوبائی دارالحکومت پشاور میں مچھروں کی بہتات اپنی جگہ لیکن چونکہ ڈینگی بخار کا مچھر صاف پانی میں پیدا ہوتا اور پلتا ہے۔ برسات کا موسم ڈینگی مچھروں کی افزائش کیلئے موزوں سمجھا جاتا ہے۔ عالمی ادارے کے مطابق ہر سال دنیا بھر میں ڈینگی کے 39کروڑ مریض سامنے آتے ہیں جنہیں اگر بروقت تشخیص اور علاج میسر ہو تو ان کی جان بچائی جا سکتی ہے۔ محکمہ بلدیات اور محکمہ صحت کے حکام کو خاص طور پر اس ضمن میں متوجہ ہونے کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کیلئے جہاں شہریوں میں شعور وآگہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے وہاں اس سے نمٹنے کیلئے بھی ممکنہ احتیاط وتدابیر اور تدارکی اقدامات میں کوتاہی کی گنجائش نہیں۔ بہتر ہوگا کہ ڈینگی کی روک تھام کے اقدامات کیساتھ ساتھ ہسپتالوں میں اس کے علاج کے انتظامات اور ادویات کی موجودگی کو یقینی بنانے پر توجہ دی جائے۔ عوام کو احتیاطی تدابیر سے بار بار آگاہ کیا جائے جبکہ عوام کا بھی فرض بنتا ہے کہ وہ خود احتیاط سے کام لیں اور ممکنہ بچاؤ کے طریقوں پر عمل کرنے میں کوتاہی نہ کریں۔ ڈینگی کے خدانخواستہ بڑے پیمانے پر پھیلاؤ کے خطرے کا بروقت احساس کیا جائے اور پانی سر سے اونچا ہونے سے قبل حفاظتی اقدامات اور اس کی روک تھام کا بندوبست کیا جائے۔

قابل مذمت صورتحال

بعض ایسے سیاسی رہنماؤں کی جانب سے ایسے الفاظ کا استعمال اور خیالات کا اظہار جس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا نہایت افسوسناک ہے۔ اس طرح کے عناصر کے بیانات کو الیکشن کمیشن کو ازخود نوٹس لیکر انتخابات میں حصہ لینے سے روکنے کی ضرورت ہے۔ الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کی دھجیاں کافی عرصے سے اڑائی جا رہی ہیں جو زباں جلسوں اور دھرنوں میں مستعمل چلی آرہی تھی انتخابات کی گرما گرمی کے دنوں میں رہی سہی کسر بھی پوری ہوگئی۔ جس قسم کا لب ولہجہ سیاست میں مروج کر دیا گیا ہے گوکہ اس کا بانی ایک خاص جماعت ہی ہے لیکن دوسری جماعتوں کے افراد بھی کسی سے پیچھے نہیں۔ ایک جماعت کے رہنماؤں کو نجانے کیا ہوگیا ہے کہ وہ دین اسلام کے شعائر کا بھی احترام ملحوظ خاطر رکھنے کی زحمت نہیں کرتے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہر دو قسم کے ان تمام لیڈروں کو سیاسی رنگ سے باہر کر دیا جائے۔ جہاں تک خیبر پختونخوا کا تعلق ہے خیبر پختونخوا میں جو روایتی پختون اور اسلامی معاشرہ قائم تھا اور پختون روایات اور اقدار کے باعث یہ ایک قابل فخر معاشرہ گردانا جاتا تھا جہاں بزرگوں کا احترام، خواتین کی عزت اور بچوں پر شفقت کیساتھ معاشرے کے بزرگوں کی رہنمائی کا فریضہ انجام دینے جیسے اصلاحی اقدامات معاشرے میں ہم آہنگی اور پرسکون زندگی گزارنے کا باعث سمجھے جاتے تھے اب بدقسمتی سے یہ صفات پختون معاشرے سے رخصت ہو چکی ہیں اس میں بدلتے زمانے اور جنریشن گیپ کے باعث سامنے آنے والے مسائل تو فطری ہیں لیکن پختون معاشرے سے اب وہ بنیادی اقدار بھی رخصت ہو چکے ہیں جس کی بناء پر پختون معاشرے کو ایک بہتر معاشرہ سمجھا جاتا تھا۔ بدلتی دنیا میں پختون معاشرہ کس قدر تیزی سے بدل گیا ہے اس کا اندازہ ماضی قریب اور حال میں ہونیوالے واقعات اور انداز بیان سے لگایا جاسکتا ہے۔ بڑے دکھ کی بات ہے کہ انتخابات کی مہم کے دوران رہے سہے معاشرتی اقدار کا بھی جنازہ نکل گیا ہے۔ کسی کی محبت اور کسی سے نفرت میں اس قدر آگے جانے سے گریز کیا جائے جس کے نتیجے میں مخاصمت کی فضا پیدا ہو۔ انتخابات گزر جائیں گے لیکن پیدا کردہ منافرت اور مسائل برقرار رہیں گے۔

متعلقہ خبریں