Daily Mashriq

نواز شریف کا نعرہ

نواز شریف کا نعرہ

سابق وزیر اعظم نواز شریف کے نعرے ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کے سمجھنے کیلئے ان ارتکائی مراحل کا جائزہ لیا جا ہے جن سے گزر کر اس نعرے نے موجودہ شکل اختیار کی ہے۔ یہ ایک مطالبہ ہے۔ یہ مطالبہ کس سے ہے! لگتا ہے عدالتوں سے ہے۔ پاناما کیس کی سماعت شروع ہونے سے پہلے میاں صاحب نے کہا تھا کہ وہ عدالت کا فیصلہ من و عن تسلیم کریں گے۔ جب عدالت نے انہیں بیرون ملک اقامہ اور منفعت بخش ملازمت کو انتخابی گوشواروں میں ظاہر نہ کرنے کی بنا پر عوامی عہدوں کے لیے نااہل قرر دے دیا تو پہلے تین دن یہ لگا کہ انہوں نے فیصلہ کو اپنے اعلان کے مطابق من و عن تسلیم کر لیا ہے۔ لیکن اس کے بعد انہوں نے راولپنڈی سے لاہور تک احتجاجی ریلی نکالی۔ اس ریلی کے دوران انہوں نے جو تقریریں کیں ان میں انہوں نے شکایت کی کہ پانچ ججوں نے بیس کروڑعوام کا مینڈیٹ حاصل کرنے والے کو چلتا کر دیا۔ اور سوال اٹھایا کہ ’’مجھے کیوں نکالا؟‘‘ اس سوال کا جواب عدالت کے فیصلے میں موجود تھا ۔ اس کے باوجود یہ سوال ظاہر کرتا ہے کہ ان کیلئے فیصلہ قابلِ قبول نہ تھا۔ ججوں کی تعداد اور بیس کروڑ عوام کے مینڈیٹ کے موازنے سے اندازہ کیاجا سکتا ہے کہ وہ عدلیہ پر اکثریتی ووٹ کی بالادستی کے علمبردار ہیں۔ انہوں نے ریلی کے دوران جگہ جگہ تقریریں کیں۔ کہا کہ فیصلہ عوام کے مینڈیٹ کی توہین ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگلا پروگرام وہ لاہور جا کر دیں گے لیکن ایسا کوئی پروگرام انہوں نے نہیں دیا۔ اس کے بعد وہ اپنی مسلم لیگ کی انتخابی مہم کو کامیاب بنانے میں مصروف ہو گئے۔ ملک کے مختلف علاقوں میں جلسے منعقد کیے اور ان جلسوں کے دوران انہوں نے اس نعرے کو موجودہ شکل دی۔

ووٹ کو یعنی پارلیمان کو انہوں نے خود کتنی عزت دی ، وہ ان کی اپنی پارٹی کے منتخب ارکان ِ پارلیمنٹ کے شکووں سے اور خود ان کے پارلیمان کے اجلاسوں میں نہایت کم شرکت سے ظاہر ہے۔ تاہم انہوں نے اور ان کی پارٹی نے اس نعرے کو مقبول عوام بنانے کی پوری کوشش کی ہے اور اب یہ مسلم لیگ ن کے ہر جلسہ کا نعرہ ہے۔ ووٹ کو عزت دو کے مطالبے کا ایک مطلب ہے کہ منتخب نمائندے جو فیصلے کریں ‘ جو قوانین بنائیں عدالتیں انہیں مسترد نہ کرسکیں۔ منتخب نمائندوں کے بنائے ہوئے قوانین پر عدالتیں آئین کے تحت نظرِ ثانی نہ کر سکیں۔ لیکن آئین بھی ملک کا متفقہ آئین ہے ۔ اس پر پارلیمنٹ میں آئین سازی کے وقت موجود تمام پارٹیوں کے دستخط ہیں ۔تو آئین کا احترام ہی دراصل ووٹ کا احترام ہے۔اس کے تحت عدالتوں کو جو اختیارات حاصل ہیں وہی عزت کے لائق ہیں۔ اس کے باوجود یہ نعرہ لگانا کہ ووٹ کو عزت دو کچھ عجیب سا لگتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ووٹ کو توقیر حاصل نہیں ہے جب کہ آئین جو پارلیمان کے متفقہ ووٹ سے کے ذریعے بنا اسے ملک میں توقیر حاصل ہے ۔ لیکن کوئی اس آئین سے اختلاف نہیں رکھتا۔ اگر مسلم لیگ ن یہ سمجھتی ہے کہ ووٹ کو عزت دینے کے لیے عدالتوں کو پابند کر دیا جائے کہ وہ پارلیمان اور اکثریتی رائے کے فیصلوں کے خلاف فیصلے نہ دے سکیں۔نعرہ مبہم ہے ، اس میں یہ نہیں کہا گیا کہ منتخب نمائندوں یا اکثریتی پارٹی کے قائدین کو عزت دو۔ موجودہ شکل میں نعرہ ووٹ کی عزت کا مطالبہ کرتا ہے جو ایک مستحسن بات ہے کہ ہر رائے کا احترام کیا جانا چاہیے خواہ اس سے کسی کو اختلاف ہو۔ ہر شخص کو اپنا مذہب‘ اپنا مسلک ‘ اپنا نقطۂ نظر رکھنے کی اجازت ہونی چاہیے اور اس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ اور پاکستان کے آئین میں اس حق کا احترام کیا گیا ہے۔ جب کسی کی رائے کا اظہار یا کسی کا کوئی اقدام کسی دوسرے کے حقوق کو متاثر کرے تو قانون حرکت میں آتا ہے۔ یعنی ووٹ/رائے کو عزت حاصل ہے ۔ ہر رائے کا احترام کسی آئین اور قانون کے تحت ہی ممکن ہے ۔ آئین اور قانون کے بغیر کسی کے ووٹ یا رائے کی عزت ممکن نہیں ہے۔ اس لیے نعرہ یہ ہونا چاہیے کہ آئین کا احترام کرو لیکن میاں صاحب کا نعرہ یہ نہیں ہے۔ اگر ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ اکثریتی ووٹ کی توقیر ہونی چاہیے تو کیا اقلیتی رائے کو نظر انداز کر دیا جانا چاہیے۔ خواہ اقلیتی رائے اخلاق‘ قانون اور آئین کے مطابق ہو۔ اکثریتی رائے کی برتری کا مطالبہ لاقانونیت کا مطالبہ ہے ۔ اگر کسی کو جبر دھونس اور قوت کے بل پر اکثریتی رائے کی حمایت حاصل ہو تو کیا اسے اقلیتی رائے پر یا کمزوروں پر اپنی مرضی نافذ کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ کراچی میں لوگوں نے خود ہی ایک مبینہ بھتہ خور کو پکڑا اور اسے سرِ بازار آگ لگا د ی جس کی وجہ سے وہ مر گیا۔ اسی طرح چوری کے الزام میں لوگوں نے کسی کو پکڑا اور مار مار کر مار ڈالا۔ لاہور کی ہائی کورٹ کے قریب ایک خاتون کو جو مرضی کی شادی کے مقدمے میں پیشی کے لیے آئی تھی اس کے ڈیڑھ سو رشتہ داروں اور ان کے حامیوں نے اینٹیں مار مار کر ہلاک کردیا۔ مختاراں مائی کا کیس ایک اذیت ناک مثال ہے جس میں پنچائیت کے ارکان نے اور سارے مجمعے نے جس میں پولیس والے بھی موجود تھے اکثریتی رائے سے مختاراں مائی کو اس کے بھائی کے قصور کو جواز بنا کر شرمناک سزا سنائی اور اس پر عمل درآمد بھی کیا۔قانون کی بالادستی سے روگردانی کے یہ چند واقعات ہیں۔ ایسے اور بھی متعدد واقعات رونما ہو چکے ہیں۔ مثال کے طور پر ولی خان یونیورسٹی کے طالب علم مثال خان کو یونیورسٹی کے احاطے میں ایک گروہ نے مار مار کر جاں بحق کر دیا۔ ایسے تمام واقعات میں موقع پر موجود لوگوں کی اکثریتی رائے کام کر رہی تھی۔ جو آئین اور قانون کی توہین کر رہی تھی۔ قانون کی بالادستی سے انحراف نہ ہوتا تو ایسے واقعات رونما نہ ہوتے ۔ آئین اور قانون کے دائرے میں ہی اکثریتی رائے کو مقام دیاجا سکتا ہے۔ آئین اور قانون ہی قوم کے ضمیر اجتماعی کے تقاضوں کے مطابق اجتماعی اخلاق کا آئینہ دار ہوتا ہے اور اس کی تشریح عدالتوں کا کام ہے۔ کسی اکثریتی رائے کو اس پر فوقیت نہیں دی جا سکتی اور نہ اسے عدالتوں پر بالادست تسلیم کیا جا سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں