Daily Mashriq


فرار ہوگئی ہوتی کبھی روح مری

فرار ہوگئی ہوتی کبھی روح مری

ہیروئن کے عادی افراد کے علاج کیلئے قائم ہسپتال سے38نشئی فرار ہوگئے۔ ہاتھ کر گئے منشیات مارے ہوش مندوں کیساتھ اور جب ہوش کے ناخن لئے اہل خرد نے تو پانی سر سے گزر چکا تھا۔ ان کے سر پر پاؤں رکھ کر بھاگ جانے کی خبر، خبر بن کر اخبارات میں آچکی تھی اور پھر یوں ہوا کہ الیکشن 2018 کی چیختی چنگھاڑتی خبروں نے اس خبر کو ایسا سونگھا کہ کسی کو خبر ہی نہیں ہوئی اس خبر کے خبر نہ رہنے کی۔ سابقہ وزیر اعظم اور ان کی تربیت یافتہ لاڈوں پالی کی جیل یاترا کیلئے وطن واپسی کی خبرکے علاوہ اوپر تلے ہونیوالے خود کش حملوں کی خبروں نے بہت سی خبروں کی کاک ٹیل میں اس چھوٹی سی خبر کو ملاکر یوں ہڑپ کرلیا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ کہاں چلے گئے ہسپتال سے بھاگنے والے منشیات زدہ مریض۔ کہاں جا چھپے۔ گندے نالوں، گٹروں اور تعفن زدہ جگہوں پر جاچھپتے ہیں منشیات کے عادی قسمت ہارے لوگ۔ ایسی جگہوں پر جہاں سے انکو پکڑنے والے ناک پر رومال ڈال کر بھی گھسنے کی کوشش کریں تب بھی وہ ان تک رسائی حاصل نہ کرسکیں۔ یہ جب تک کسی ہسپتال نامی جیل کے بندی وان تھے منشیات فروشوں کو اپنے مال کے کم کم فروخت ہونے کی تشویش تھی لیکن اب ان کے گاہکوں میں ایک بار پھر اضافہ ہوگیا۔ یہ 38لوگ محنت مشقت یا حق ہلال کی کمائی پیدا کرنے سے رہے۔ بھیک مانگیں گے، جیبیں کاٹیں گے، چوری چکاری کریں گے، گتے اور کاغذ کے ٹکڑے اکٹھے کرکے بیچیں گے، اگر وہ ایسا نہ کر سکے تو موقع پاتے ہی کہیں سے لوہے کا جنگلہ، کسی گٹر کاڈھکنا، کسی گھر کا پرنالہ، کسی نلکے کی ٹونٹی، کسی نمازی کی جوتیاں غرض جو کچھ ان کے ہاتھ لگے گا موقع پاتے ہی لے اڑیں گے اور کسی کوڑا کباڑ خریدنے والے کے ہاں بیچ کر مستعار زندگی کا ایک آدھ دم لگالیں گے۔

واللہ کسی شوق کے مارے نہیں پیتا

پیتا ہوں اسلئے کے جل جائے جوانی

یہ شعر ہم نے کسی سگریٹ پھونکنے والے دل جلے سے سنا تھا۔ اس کا کہنا تھا سگرٹ پینے والا کبھی بوڑھا نہیں ہوتا۔ اس کی یہ بات اس وقت سو فی صد سچ ثابت ہوئی جب وہ بوڑھا ہونے سے پہلے کھانسی، ٹی بی، کینسر جیسی جان لیوا بیماریوں کو پیارا ہوگیا۔ کسی چرسی سے سن رکھا تھا کہ چرس ملنگی بوٹی ہے۔ شائد ہم کسی چرسی کی اس لا ابالی پر یقین نہ کر پاتے اگر ہم عرس یا میلوں کے موقع پر پھیپڑا پھاڑ کھانسی کرتے چرسیوں کے منہ اور ناک سے نکلتے مرغولوں کا منظر نہ دیکھ پاتے۔ تم جسے بدبو کہتے ہو وہ چرسیوں کی من بھاتی خوشبو ہے ایک بہت پڑھے لگھے بندے کی زبان سے ادا ہونے والا یہ جملہ ہمیں یاد رہ گیا ۔ کسی زمانے میں شراب کے نشے کو پر شباب زندگی کی علامت گردانا گیا اور یوں ہمارے ادب میں خمریات نامی صنف شاعری نے جنم لیکر عمر خیام جیسے بے بدل شاعر پیدا کرنا شروع کردئیے اور غالب جیسے شاعر پکار اٹھے کہ

ہر چند ہو مشاہدہ حق کی گفتگو

بنتی نہیں ہے ساغر و مینا کہے بغیر

سگرٹ، نسوار، گانجہ، گٹکا، صمد بانڈ، لوشن، چرس، افیون، بھنگ اور جانے اس قسم کے اور کتنی نشہ آور اشیاء ہیں جو اس فہرست کو طویل سے طویل تر بنانے کا سبب بن رہی ہیں ۔ میڈیکل سائنس نے انسانی صحت وتندرستی کو بحال کرنے کے لئے یا تکلیف کا زور کم کرنے کے لئے نہت سی نشہ آور ادویات ایجاد کیں جن میں مشروب، گولیاں اور انجکشن شامل ہیں لیکن شومئی قسمت سے منشیات کے عادی لوگ یہ ادویات اپنے نشے کی لت پوری کرنے کے لئے استعمال کرنے لگے۔ کسی زمانے میں ’ٹونال‘ نامی کیپپسول کا بڑا چرچا تھا۔ اور اس کیپسول کے نشے میں دھت نشئی کو’ ٹونالی‘ کہا جا نے لگا تھا۔ پھر یوں ہوا کہ کسی نے ہیروئین نامی نشہ متعارف کرکے منشیات کے عادی لوگوں کی دنیا میں ہلچل مچا دی ، ہیروئن پھونکنے وا لوں کو دنیا والے پوڈری کہہ کر پکارنے لگے ، اور ان کے گندگی سے اٹے وجود سے شدید نفرت کرنے لگے، لیکن اس کے باوجود پوڈریوں کی تعداد میں بے انتہا اضافہ اس بات کا شاہد بن کر سامنے آیا کہ ملک اور قوم کے نوجوان طبقہ کی بہت بڑی تعداد اس موذی نشہ کی عادی ہوکر اپنی ہی نہیں پورے معاشرے کی زندگی کو تباہی کی طرف دھکیل رہی ہے ۔ اب تک منشیات کی جتنی اقسام متعارف ہوئی تھیں ، ان کا کام عادی ہوجانے والے لوگوں کے دماغ کو سن کر دینا اور ان پر مدہوشی طاری کردینا تھا، لیکن آئس میتھ جیسے مہنگے ترین نشہ کے متعارف ہونے کے بعد لوگ مدہوش رہنے کی بجائے اس زہر کے استعمال سے نیند کی نعمت سے کم وبیش اڑتالیس اڑتالیس گھنٹے تک محروم ر رہ کر اپنے آپ کو چاک و چوبند محسوس کرنے لگے، لیکن جیسے ہی اڑتالیس گھنٹے پورے ہوتے ، آئس میتھ پینے والوں کی حالت غیر ہونے لگتی، ان کا بدن ٹوٹنے لگتا اور وہ چیخ چیخ کر اس مہنگے زہر کی طلب میں تڑپنے لگتا ۔ ادھر منشیات کی ورائٹی اور ان کے استعمال کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ منشیات فروشوں کی تعداد میں اضافہ کا باعث بنتی رہی۔ گلی گلی چنڈو خانے کھلتے رہے ادھر ان کا علاج کرنے والے ہسپتالوں میں اضافہ ہوتا رہا ، اور ادھر ہر قیمت پر اس زہر کو اپنی رگوں میں اتارنے والے ان ہسپتالوں کے چنگل سے بھاگ نکلنے کی ترکیبیں کرتے رہے ۔ اور یوں ’ہیروئن کے عادی افراد کے علاج کیلئے قائم ہسپتال سے38نشئی فرار ہوگئے ‘جیسی خبریں جنم لیتی رہیں

فرار ہوگئی ہوتی کبھی روح مری

بس ایک جسم کا احسان روک لیتا ہے

متعلقہ خبریں