Daily Mashriq

چند دن اور

چند دن اور

منظر کے شفاف ہو جانے میں چند ہی دن باقی رہ گئے ہیں۔ امید و بیم کی جس کیفیت کے درمیان اس صورتحال سے وابستہ ہر گروہ جھول رہا ہے وہ سب کی سب واضح ہوجانے والی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کا خیال ہے کہ اب کی بار انہیں موقع ملنے والا ہے۔ وہ باتیں جن سے پاکستان تحریک انصاف کے مخالفین خوفزدہ دکھائی دیتے ہیں ان کا خیال ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کو انتظامیہ کی حمایت حاصل ہے اس لئے انتخابات کے نتائج ان کی حمایت میں آنے والے ہیں حالانکہ ایسا مکمل طور پر نہیں ہے۔ انتظامیہ یا اسٹیبلشمنٹ معاملات میں سے دھاندلی کا عنصر ختم کرسکتی ہے۔ انتظامی امور پر بے وجہ کنٹرول ختم کرسکتی ہے۔ پولنگ سٹیشنوں پر لوگوں کی جگہ مہر نہیں لگا سکتی۔ لوگوں کے دلوں میں خیال پیدا نہیں کرسکتی۔ پی ٹی آئی کی سیاست کی ہماری زندگیوں میں سب سے بڑی اثر پذیری یہ ہے کہ اس نے کئی تاریک گوشوں کو ہمارے لئے روشن کیا ہے۔ بدعنوانی سے نفرت اور اس کیخلاف جدوجہد میں لوگوں کا یقین پیدا کیا ہے۔ اب ہمارے عوام میں یہ سیاسی بصیرت بھی موجود ہے جو انہیں اپنے ووٹ کی اصل طاقت سے آگاہ کر رہی ہے۔ ان انتخابات کی خاص بات ان کے نتائج سے زیادہ وہ رجحانات ہیں جو انتخابی مہم کے دوران ہمیں دکھائی دئیے ہیں۔ پاکستان میں کبھی یہ نہیں ہوا کہ کسی سیاسی لیڈر کی انتخابی مہم کے دوران کسی علاقے کے لوگوں نے یہ بینرز آویزاں کئے ہوں کہ ’’آپ ووٹ مانگ کر شرمندہ نہ کریں کیونکہ آپ نے ہمارے علاقے کیلئے کوئی کام نہیں کیا‘‘۔ کبھی کسی انتخابی مہم کے دوران لوگوں نے لیڈروں سے جواب طلب نہیں کیا کہ وہ اپنے اقتدار کے دوران کہاں رہے اور ان لوگوں کی بھلائی و بہبود کیلئے انہوں نے کیا کام کیا۔ لوگوں کے رویوں میں تبدیلی اور آگہی کے یہ ٹمٹماتے ہوئے جگنو دراصل اس بات کا اعلان ہیں کہ اب پاکستان میں واقعی تبدیلی آسکتی ہے۔ یہ وہ انقلاب ہے جس کا سہرا صرف تحریک انصاف کے ہی سر نہیں میڈیا کے سر بھی ہے جس نے لوگوں کو آگاہ کرنا شروع کیا۔ اگرچہ میڈیا کے کردار کے حوالے سے کئی سوال اٹھائے جاسکتے ہیں اور الیکٹرانک میڈیا میں مختلف جماعتوں اور گروہوں کی جانب واضح جھکاؤ بھی دیکھا جاسکتا ہے لیکن بہرحال بات اس وقت ایک عمومی کردار کی ہو رہی ہے چونکہ لوگوں میں پیدا ہونے والی آگہی میں کچھ کردار ان باتوں کا ضرور ہے جن سے آگاہی میڈیا کے ذریعے ہوتی رہی ہے۔انتخابات چند دن کی مسافت پر ہیں۔ مخلوط اور کمزور حکومت کی باتیں ہو رہی ہیں۔ مخلوط حکومتیں یقیناً کمزور نظام کیلئے بھی مختلف نتائج کی علمبردار ہوسکتی ہے اور انتظامیہ کی طاقت میں اضافے کا باعث بھی بنتی ہیں جس سے یقیناً اس تاثر میں مزید مضبوطی پیدا ہوگی کہ جمہوریت کو کمزور کرنے کی خواہش ایسی منہ زور تھی کہ ایک مخلوط حکومت پر منتج ہوئی لیکن اس وقت ایک لمحہ فکریہ بھی ہے۔ کیا واقعی بات صرف اتنی ہی ہے یا اس کے پس پردہ کوئی اور حقیقت بھی ہے جو ہماری انتظامیہ سے بھی زیادہ طاقتور ہے۔ جس کے عزائم ہماری انتظامیہ کے عزائم سے کہیں زیادہ دور اندیش ہیں اور وہ اپنے مقاصد کیلئے منظر تخلیق کرتے ہیں۔ اپنی پسند کے مستقبل تشکیل دینے کی خواہش میں ان کا قلم قوموں کے حال لکھنا شروع کرتا ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم سمجھتے ہوں کہ اب ہمارے لوگوں میں آگہی ہے‘ عدالتوں میں طاقت ہے اس لئے فیصلے ہو رہے ہیں۔ آج نواز شریف کا چور ہونا ثابت ہوا ہے‘ کل آصف زرداری بھی اس گرفت سے محفوظ نہیں رہیں گے۔ یہ سب کے سب پکڑے جائیںگے اور بات کچھ اور ہی ہے۔ اور عین ممکن ہے کہ دراصل ایسی کوئی بین الاقوامی سازش نہ ہو۔ ایک عرصے سے چونکہ ہم اس اذیت میں مبتلا ہیں کہ ہمارے حکمران ہی ہماری زندگیوں کے فتنہ گر ہیں اور ہم مسلسل حبیب جالب کی اس نظم کی عملی تصویر رہے ہیں کہ

اٹھا رہا ہے جو فتنے مری زمینوں میں

وہ سانپ ہم نے ہی پالا ہے آستینوں میں

کہیں سے زہر کا تریاق ڈھونڈنا ہوگا

جو پھیلتا ہی چلا جا رہا ہے سینوں میں

کسی کو فکر نہیں قوم کے مسائل کی

ریا کی جنگ ہے بس حاشیہ نشینوں میں

قصوروار سمجھتا نہیں کوئی خود کو

چھڑی ہوئی ہے لڑائی منافقینوں میں

یہ لوگ اس کو ہی جمہوریت سمجھتے ہیں

کہ اقتدار رہے ان کے جانشینوں میں

یہی تو وقت ہے آگے بڑھو خدا کے لئے

کھڑے رہوگے کہاں تک تماش بینوں میں

شاید اسی لئے جب تبدیلی کے عمل کا آغاز ہوا ہے تو ہمیں یقین نہیں آرہا۔ کون جانے حقیقت کیا ہے؟

متعلقہ خبریں