Daily Mashriq


انتخابی وعدے‘ منشور اور عوام

انتخابی وعدے‘ منشور اور عوام

کسی بھی ملک کے آئین کو ریاست اور عوام کے درمیان ایک ایسے معاہدے سے تشبیہہ دی جاتی ہے جس پر وہاں کے سماجی‘ سیاسی اور معاشرتی ڈھانچے کی تشکیل کی جاتی ہے اور جب تک اس آئین کو اس کی روح کے مطابق بروئے کار لایا جاتا ہے تو ریاست اور عوام کے مابین ایک توازن قائم رہتا ہے۔ تاہم اگر ملک کا کوئی بھی طبقہ آئینی تقاضوں سے کسی بھی طور روگردانی کا مرتکب ہوتا ہے تو نظام زندگی میں ارتعاش پیدا ہوتا ہے۔بدقسمتی سے ہمارے ہاں ابتداء ہی سے عوام اور ریاست کے مابین سماجی نظام کو چلانے کے حوالے سے مختلف ادوار میں مسائل جنم لیتے رہے ہیں اور پہلی دستور ساز اسمبلی کے قیام سے لے کر سقوط ڈھاکہ کے بعد بھٹو حکومت تک دستور سازی کا عمل مشکلات کاشکار رہا۔ اس دوران 1956ء کے دستور کا حشر بھی قوم نے کھلی آنکھوں سے دیکھا۔ پھر ایوبی آمریت نے 1962ء کا دستور دیا جس پر حبیب جالب کو کہنا پڑا کہ ایسے دستور کو صبح بے نور کو‘ میں نہیں جانتا میں نہیں مانتا۔ ان کے اس مشہور زمانہ نظم کے اندر در اصل پاکستان کے عوام کے حقیقی جذبات کا سمندر ٹھاٹھیں مارتا محسوس کیاجاسکتا ہے اور اسی دستور ہی نے در اصل پاکستان کو تقسیم کرنے کی راہ ہموار کی تھی۔ ملک ٹوٹ گیا‘ بنگلہ دیش وجود میں آیا مگر ہم نے اتنے بڑے سانحے سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے بڑی مشکل سے ایک ایسے متفقہ دستور کو نافذ کرنے میں کامیابی حاصل کی جس پر حزب اختلاف کے رہنمائوں کے تحفظات موجود تھے اور جس میں ایسے سقم بھی بہ آسانی دیکھے جاسکتے ہیں جن پر چھوٹے صوبوں کیساتھ زیادتی کی نشاندہی ہوتی ہے تاہم اس وقت یہ کہہ کر کہ بعض ایسے مسائل وقتی طور پر بہ امر مجبوری قبول کرلئے جائیں اور ایک خاص مدت کے بعد ان کا خاتمہ ہوگا۔ خصوصاً صوبائی خود مختاری کے معاملے پر تحفظات ہونے کے باوجود حزب اختلاف کے رہنمائوں نے ملک و قوم کے مفاد میں آئین پر دستخط کرکے اسے ایک متفقہ دستاویز کی شکل دی۔ تاہم یہ ایک الگ سوال ہے کہ بعد میں اس وقت جن تحفظات کا اظہار کیا جا رہا تھا انہیں دور کرنے کیلئے وعدے کہاں تک پورے کئے گئے جبکہ اس متفقہ دستور کا بھی بعد میں دو فوجی ڈکٹیٹروں نے اس دور کی عدلیہ کے ’’بھرپور تعاون‘‘ سے کیا حشر کیا یہ بھی ملکی تاریخ کے ماتھے پر ایسے داغوں کی صورت ہمیں قوموں کی صفوں میں شرمندگی کے انتہائی پست مقام پر کھڑا رکھے گا کہ ایک نے دستور پاکستان کو چند صفحوں کا چیتھڑا قرار دے کر جب چاہا پھاڑ کر پھینک دینے کا رعونت آمیز بیان داغا، تو دوسرے نے اس آئین کی بے حرمتی میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جبکہ ان ادوار کی عدلیہ نے بھی آئین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے اپنی بساط سے بڑھ کر ان ڈکٹیٹروں کو (بن مانگے) آئین میں من پسند تبدیلیاں کرنے کا مینڈیٹ طشتری میں رکھ کر یوں پیش کیا گویا یہ ایک دستور نہیں جسے اقوام کی زندگیوں میں آسمانی مقدس صحیفوں کے بعد ہمیشہ اہمیت دی جاتی ہے بلکہ ایک ایسی نصابی کتاب ہے جس میں جب چاہا تبدیلی کردی گئی حالانکہ بعض ملکوں میں آئین کو اتنا مقدس گردانا جاتا ہے کہ اس کے نفاذ کے بعد بنیادی ڈھانچے میں تبدیلی کیلئے آنے والی پارلیمنٹ کو کوئی اختیار حاصل نہیں ہے۔ البتہ اسی آئین کے تحت درپیش صورتحال میں قانون سازی تو کی جاسکتی ہے مگر آئینی ترامیم کیلئے ایک نئی دستور ساز اسمبلی کے قیام کو لازمی قرار دیاگیا ہے۔ اتنی بحث کا مقصد آئین کی اہمیت اور اس حوالے سے ریاست اور عوام کے مابین اس کے مطابق زندگی گزارنے کے حوالے سے بعض وضاحتیں کرنی تھیں جبکہ ہمارے ہاں کی صورتحال بہ آسانی سمجھی جاسکتی ہے کہ ملکی دستور پر عمل درآمد میں کسی بھی حکومت نے خواہ وہ منتخب ہو کر آئی ہو یا پھر کسی طالع آزما نے شب خون مار کر مسلط کی ہو‘ کبھی عوام کی پرواہ نہیں کی بلکہ عوام کے حقوق کو تقریباً ہر دور میں پیروں تلے روندا گیا۔ ملکی وسائل کی لوٹ کھسوٹ تو ایک طرف ان کیساتھ کئے جانے والے وعدوں پر کبھی سنجیدگی سے عمل کی نوبت ہی نہیں آئی۔ جمہوریت کے نام پر ایک طویل سفر طے کرتے ہوئے آج اگر عوام اس پورے نظام سے ہی نالاں ہیں تو اس کی ظاہر ہے بڑی ٹھوس وجوہات بھی ہیں جو تاریخ میں محفوظ ہونے کیساتھ ساتھ عام آدمی کی محرومیوں میں بہ آسانی دیکھی جاسکتی ہیں۔ فوجی طالع آزمائوں سے تو خیر کیا گلہ کہ وہ نہ کسی سے پوچھ کر آتے ہیں نہ انہیں اپنے اقدامات اور پالیسیوں کیلئے کسی کے سامنے جوابدہ ہونا پڑتا ہے( کم از کم اب تک تو یہی صورتحال ہے) تاہم سیاسی قائدین تو عوام کے ( بہ ظاہر) ووٹوں سے منتخب ہونے کے دعویدار ہوتے ہیں لیکن وہ بعد میں اپنے وعدوں سے جس طور انحراف کرتے دکھائی دیتے ہیں یہ بھی ہماری قومی سیاسی تاریخ کاالمیہ ہے۔ میر تقی میر نے شاید ایسے ہی لوگوں کیلئے کہا تھا کہ

امیر زادوں سے دلی کے مت ملا کر میرؔ

کہ ہم غریب ہوئے ہیں انہی کی دولت سے

ہر انتخابات کے موقع پر سیاسی جماعتیں ملکی نظام چلانے کیلئے عوام سے وعدے کرتی ہیں اور اس مقصد کیلئے اپنی اپنی جماعت کے منشور پیش کرتی ہیں۔ ہر بار کی طرح اب کی بار بھی سیاسی جماعتوں کی جانب سے انتخابی منشور سامنے آئے ہیں۔ ان میں کونسی جماعت نے کیا کیا وعدے کئے ہیں ‘ فی الوقت تو اس پر کوئی تبصرہ کرنے سے اس لئے گریز کرنا چاہئے کہ ابھی انتخابات میں بھی چند روز باقی ہیں اور انتخابات کا نتیجہ کیا نکلتا ہے ابھی اس کیلئے بھی انتظار ہی کرنا پڑے گا حالانکہ ان انتخابی منشوروں میں بعض وعدے اور دعوے نہ صرف محل نظر ہیں اور ان کا حقیقی دنیا سے کوئی تعلق بھی دکھائی نہیں دیتا یعنی ان پر عمل درآمد اگر ناممکنات میں سے نہیں تو انتہائی کٹھن اور مشکل ہے بلکہ ان کی حیثیت بالکل وہی ہے جس کے بارے میں کہاگیا ہے کہ کھلونے دے کر بہلایاگیا ہوں۔ اب ایسے وعدوں کے سنہرے جال میں پھنسانے کا مقصد سوائے اس کے کیا ہوسکتا ہے ۔ (باقی صفحہ 7)

متعلقہ خبریں