Daily Mashriq

ووٹ دیں گے تو ان سے خدمت لیں گے

ووٹ دیں گے تو ان سے خدمت لیں گے

الیکشن 2018 صرف چند دن کے فاصلے پر ہے۔ قوم ایک بار پھر فیصلہ دے گی، درست یا غلط اس کا فیصلہ تو بعد میں ہوگا لیکن اس وقت ہر سیاسی لیڈر قوم کی خدمت کے جذبے سے ’’معمور‘‘ ہے۔ عالیشان اور خوشنما منشور پیش کئے جا رہے ہیں، یوں لگتا ہے کہ دو سال میں ہی یہ سارے پاکستان کو عالمی سُپرپاور نہیں تو ایشین ٹائیگر تو بنا ہی دیں گے۔ اللہ تعالیٰ کرے ایسا ہی ہو لیکن پچھلے ستر سال میں قوم ایسا منظر دیکھنے کیلئے ترس گئی ہے۔ ہر بار ایک امید لیکر ووٹر نکلتے ہیں، اپنے نمائندے منتخب کرتے ہیں لیکن جو سلوک یہ نمائندے اپنے وعدوں اور عوام کیساتھ کرتے ہیں وہ قوم کو مایوس کرنے کو کافی ہوتا ہے۔ یہ سیاسی لیڈر اپنی ذات اور خاندان کیلئے دولت بنانے کی مشین بن جاتے ہیں۔ دولت، پیسہ، روپیہ، پلاٹ، پرمٹ، بنگلہ، پلازے اور ڈالر ان کا منشور بن جاتے ہیں اور یہ سب کچھ بغیر کسی احتساب کے خوف کے بن جاتا ہے۔ ہمارے حکمران اگرچہ بنتے بھی اشرافیہ میں سے ہیں لیکن پھر تو دولت ان کے گھر کی باندی بن جاتی ہے اور مقناطیس کی طرح ان کی طرف کھنچی چلی آتی ہے۔ ہر جائز ناجائز طریقہ استعمال ہوتا ہے، ہمارے عام نمائندوں سے لیکر وزرائے اعظم اور صدور تک اس قسم کی بدعنوانیوں میں ملوث ہوتے ہیں بلکہ بہت زور وشور سے ہوتے ہیں۔ یہی سب کچھ ہمارے تین بار کے منتخب وزیراعظم نواز شریف نے کیا ہے۔ مجھے یاد ہے قرض اُتارو ملک سنوارو کی مہم چلائی گئی جس میں ہم جیسے عام لوگوں نے بھی اپنی حیثیت سے بڑھ کر حصہ ڈالا لیکن ہوا کیا پاکستان مزید مقروض ہوگیا۔ حکمران مزید امیر ہو گئے، عوام مزید غریب ہوگئے اور قصہ ختم پیسہ ہضم۔ دوسری پارٹی کی حکومت آئی اور ایک اوردور شروع ہو گیا، کمشن، پرسنٹیج، حصہ ہر طرح سے پیسہ اپنی تجوریوں میں بھرا گیا، حکومت گئی اور پھر پچھلے آگئے، لگی ہوئی باریوں میں سب سے زیادہ کام اپنی ذات پر کیا گیا۔ سوئس بینکوں سے تو پاکستانیوں کا تعارف پہلے سے ہی تھا اب کی بار آف شور کمپنیوں سے آگاہی کا شرف بھی حاصل ہو گیا۔ ہمارے حکمران اس طرح کے کئی کارنامے سرانجام دے چکے ہیں۔ بیرون ملک پوش علاقوں میں عالیشان فلیٹس اورتجارتی عمارتیںاس کے علاوہ ہوتی ہیں۔ ایسے ہی ایک مقدمے میں محمد نواز شریف کو دس سال اور ان کی بیٹی مریم نواز کو سات سال قید کی سزا نیب کی عدالت کی طرف سے سنائی گئی کہ اس خاندان نے 1990کی دہائی میں لندن کے پوش علاقے پارک لین میں چار لگثری اپارٹمنٹس خریدنے کیلئے پیسہ غیرقانونی طور پر ملک سے باہر منتقل کیا۔ یہ پرانا کیس پانامہ پیپرز کا سلسلہ شروع ہونے پر دوبارہ منظر عام پر آیا اور الزام ثابت ہونے پر قید کی سزا بمعہ دس ملین جرمانے کے سنائی گئی۔ یہ سزا جرم ثابت ہونے پر سنائی گئی لیکن وہی جو خود کو قانون کے رکھوالے سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ اس کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں آنے دیں گے جب اپنی ذات کی باری آئی تو تمام اصول وضوابط توڑ دئیے گئے۔ غریب مجرم ہو اور سزایافتہ بھی ہو تو ساری عمر اس کیساتھ یہ بدنامی بطور اس کی ذات کے عنوان کے جڑی رہتی ہے جبکہ دولت مند اور خاص کر حکمران کو اول تو سزا ہو نہیں پاتی اور اگر ہو جائے تو اس کے اوپر انگلیاں اٹھانے والے ہزاروں نکل آتے ہیں۔ ہم حضرت عمرؓ خلیفہ وقت کے بیٹے کی سزا کا واقعہ بڑے فخر سے بیان کرتے ہیں لیکن جب ہمارے ایک حکمران کو سزا ہو جائے تو اسے جمہوریت کیساتھ دشمنی اور مذاق کا نام دینے لگتے ہیں۔ ہم دین دین، مذہب مذہب، اسلام اسلام پکارتے رہتے ہیں لیکن بھول جاتے ہیں کہ قبیلہ بنو مخزوم کی فاطمہ کے ہاتھ چوری کے جرم میں کاٹنے کا حکم صادر ہوتا ہے تو نبیﷺ فرماتے ہیں کہ قسم ہے محمدﷺ کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو ان کو بھی یہی سزا دی جاتی لیکن یہاں مریم نواز جب جلسے جلوسوں میں بحیثیت عورت نہیں بلکہ پارٹی کی ’’عظیم رہنما‘‘ اور مستقبل کی وزیراعظم کے طور پر خطاب فرماتی تھی، ریاستی اداروں کیخلاف عوام کو اُکساتی تھی، سوشل میڈیا پر ان کیخلاف زہر پھیلاتی تھی تو کیا وہ تب تک عورت نہیں تھی۔ ہمارے یہاں تو حکمرانوں کی جیل بھی گھر کے ماحول سے مماثل ہوتی ہے اور پھر اسی سزا کا سیاسی فائدہ جس پیمانے پر اُٹھایا جاتا ہے اس کی تو کوئی حد نہیں ہوتی۔ ہر جلسے، ہر انٹرویو میں عوام پر احسان کیا جاتا ہے کہ ہم نے آپ کیلئے جیل کاٹی حالانکہ وہ ان کے اپنے کئے دھرے کی سزا ہوتی ہے اور یہ رویہ کسی ایک لیڈر تک محدود نہیں بلکہ ہر ایک اسی قطار میں کھڑا ہے۔ بہرحال اس وقت بات محمد نواز شریف اور ان کی صاحبزادی کی ہے اور ان کی جماعت انہیں ’’عظیم قائد‘‘ کے طور پر پیش کر رہی ہے۔ وہی محمد نواز شریف جنہوں نے حکومت سے فارغ کئے جانے کے بعد پاکستان کو ہر قسم کی دھمکی دی، شیخ مجیب کو درست قرار دیا، مسلمانوں کے قاتل مودی سے دلی لگاؤ اور ذاتی تجارتی مفادات کی خاطر پاک بھارت سرحد کو صرف ایک لکیر قرار دیا، کشمیر کے اوپر مکمل خاموشی چھائی رہی، اپنی فوج مسلسل نشانے پر رہیں، اسے مختلف خطابات دئیے گئے، عدلیہ مجرم بنی رہی کیونکہ اسی نے تو انہیں مجرم ٹھرایا تھا اور ان کے خیالات الطاف حسین سے ملنے جلنے لگے۔ ان کی پارٹی کو بسا اوقات ان کے بیانات کی توجیہات بیان کرنا پڑیں۔ مزے کی بات یہ بھی ہے کہ سزا سنائے جانے سے پہلے نواز شریف اور مریم نواز ملک نہ آئے اور کلثوم نواز کی بیماری کا بہانہ بناتے رہے ۔

(باقی صفحہ 7)

متعلقہ خبریں