Daily Mashriq

’’بندر‘‘ ہمارے ہی قبضے میں رہے گا

’’بندر‘‘ ہمارے ہی قبضے میں رہے گا

فوجی عدالت سے سزائے موت پانے والے بھارتی جاسوس اور بھارتی بحریہ کے حاضر سروس افسر کے مقدمے میں عالمی عدالت انصاف کا فیصلہ دونوں ممالک کے لئے قابل قبول ہونا اور دونوں ممالک کا اس فیصلے پر خوشی کا اظہاراپنی اپنی جگہ درست ہے یا غلط یہ ہر دو ممالک کی تعبیروتشریح پر منحصر ہے۔ عالمی عدالت انصاف کا فیصلہ شیخ بھی خوش رہے اور شیطان بھی ناراض نہ ہو کے مصداق بھی نظر آتا ہے لیکن بنیادی حقیقت یہ ہے کہ بھارت کا ’’بندر‘‘ ہمارے قبضے میں ہے اور عالمی عدالت انصاف فیصلے کے مطابق پاکستان اس کو قونصلر رسائی دے گا ان کی سزائے موت کے فیصلے پر نظر ثانی بھی وہی عدالت کرے گی جس سے اس کو سزا ہوئی تھی۔ اس مقدمے میں ممکن ہے تھوڑی بہت ریلیف بھارت کو ملی ہو لیکن اس کی بھارت نے بہت ہی بھاری قیمت کلبھوشن کو اپنا شہری تسلیم کرکے ادا کی ہے جس کا واضح مطلب یہ ہوا کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہے اور خاص طور پر بلوچستان کے حالات کی خرابی کی ذمہ داری بھارتی جاسوس کلبھوشن کے نیٹ ورک پر عائد ہوتی ہے اس امر کا مزید ثبوت یہ بھی ہے کہ کلبھوشن کی گرفتاری کے بعد بلوچستان میں را کے نیٹ ورک کا خاتمہ ہوا اور دھیرے دھیرے حالات معمول پر آگئے اور آج بلوچستان میں انتشار کی جگہ امن و امان کی بحالی ہوئی ہے۔ پاکستان اور بھارت کی اپنی اپنی تشریح اور سیاسی بیانات اپنی جگہ اصل معاملہ عدالت اور قانونی ماہرین کی رائے کا ہے ممکن ہے کہ حکومت مقامی یا بین الاقوامی قانونی ماہرین کی ٹیم بنائے جو اس فیصلے کی قانونی تشریح کرے جس کی روشنی میں نظر ثانی کا طریقہ کار وضع کیا جاسکے۔ قانونی ماہرین اس فیصلے کو پاکستان کی سفارتی اور قانونی فتح قرار دیتے ہیں ان کا خیال ہے کہ بھارت کی جانب سے جو اہم مطالبہ تھا کہ پھانسی کالعدم قرار دی جائے اور کلبھوشن کو بری کرکے واپس بھارت بھیجا جائے، یہ مطالبات عالمی عدالت انصاف نے نہیں مانے البتہ قونصلر رسائی مل گئی۔عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کے بعد دہشت گردی میں ملوث جاسوس کو ویانا کنونشن کے تحت قونصلر رسائی دینے کا حق تسلیم کرنے سے ایک نئی صورتحال پیدا ہوگی ہے اس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ گویا کسی بھی ملک کو یہ اجازت دے دی جائے گی کہ وہ دوسرے ملک میں جو چاہے کرے اسے یہ تسلی رہے گی کہ اُس کے جاسوس بلکہ دہشتگرد کو بھی آئندہ یہ سہولت فراہم کی جایا کرے گی جبکہ اس اجازت سے دونوں ملکوں کے درمیان موجود معاہدے کی بھی نفی ہو جائے گی۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان 1982 اور2008 کو ہونے والے معاہدوں کی رو سے یہ طے پایا تھا کہ ایک دوسرے کے شہری قیدیوں کو قونصلر رسائی جُرم کی نوعیت دیکھ کر دی جائے گی تو اگر بالفرض ویاناکنونشن جس کی رو سے کسی بھی ملک کو دوسرے ملک میں اپنے شہریوں تک رسائی کا حق دیا گیا ہے یہ ممکن بھی ہو تو کیا دونوںفریق ممالک کے درمیان معاہدے کی حیثیت ختم کر دی جائے گی اورکیا ایسا پھر دنیا کے کسی بھی ملک کے بارے میں کیا جائے گا یا یہ صرف پاکستان کے بارے میں ہوگا۔دونوں ملکوں کے درمیان موجود معاہدے کی رو سے گرفتار کرنے والا ملک جُرم کی نوعیت کے مطابق خود یہ طے کرے گا کہ کونسلر تک رسائی دی جائے یا نہیں اگرچہ ویانا کنونشن اس کی اجازت دے بھی دے۔ بھارت نے اس کنونشن کے آرٹیکل 36کے مطابق رسائی مانگی جس میں کہا گیا ہے کہ بھیجنے والی ریاست کا قونصلر اُس کے گرفتار شدہ شہریوں کو مل سکتا ہے تو کیا یادیو کے تمام اقبالی بیانات کے بعد بھارت یہ مان رہا ہے کہ اس کو بھارت نے بھیجا تھا اور جبکہ وہ اعتراف کر چکا ہے کہ اُس نے دہشتگردی اور سبوتاژ کی کارروائیاں کی ہیں، کروائی ہیں یا اُن میں حصہ لیا ہے تو کیا یوں پورے بھارت کو ہی دہشتگرد ملک قرار نہیں دیا جانا چاہئے ۔اس فیصلے کے بعد کلبھوشن کی سزائے موت وقتی طور پر ٹل گئی ہے اور بھارت کو مزید وقت مل گیا ہے کہ وہ اپنے تسلیم شدہ جاسوس کو بچانے کی تگ و دو کرے جوکہ نا ممکن ہے۔ بھارت کو عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کو اپنے حق میں قرار دینے کا حق حاصل ہے لیکن اس تمام کے باوجود کلبھوشن کی سزاکے خاتمے اور سزائے موت کا فیصلہ برقرار ہے جس میں نظر ثانی کا فورم بھی پاکستانی عدالت ہی ہے۔کلبھوشن کے مقدمے میں نظر ثانی کی گنجائش کم ہی نظر آتی ہے بہرحال اس کا مجاز عدالت میں جائزہ ضرور کیا جائے گا ہم سمجھتے ہیں کہ فوجی عدالت سے کلبھوشن کو دی گئی سزا ٹھوس ثبوتوں کی بنیاد پر دی گئی تھی کلبھوشن کا بھارتی پاسپورٹ ،اس کے اہل خانہ کی پاکستان آکر ملاقات، بھارت کا اسے اپنا شہری تسلیم کرنا،مجسٹریٹ کے سامنے اس کا اعتراف جرم ایسے بہت سارے ظاہری اور ٹھوس شواہد کے علاوہ ان کے خلاف تحقیقات کے دوران بہت سے حساس شواہد بھی سامنے آئے ہوں گے جو رازداری کی ضرورت کے باعث سامنے نہ لائے جاسکے ہوں۔کلبھوشن کے خلاف سب سے بڑا ثبوت تو بلوچستان میں دہشت گردی اور اس کے نتیجے میں ہزاروں افراد کی شہادت وزخمی ہونے اور املاک کی تباہی ہے۔اس سے بڑھ کر ثبوت وہ خون ناحق ہے جو بو ل پڑا اور خود کو محفوظ سمجھنے والا کلبھوشن ہمارے اداروں کے جال میں آگیا اور خود انہوں نے اپنی زبانی اپنا وہ کوڈ بھی بتادیا جس سے اس کی گرفتاری کا بھارت کو یقین آگیا۔ بھارت جتنا بھی تلملائے اور سٹپٹائے ان کا’’بندر‘‘ پاکستان ہی کے قبضے میں رہے گا۔

متعلقہ خبریں