Daily Mashriq

امریکی دبائو پر کالعدم جماعت کے سربراہ کی گرفتاری

امریکی دبائو پر کالعدم جماعت کے سربراہ کی گرفتاری

وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکہ کیلئے روانگی سے عین قبل کالعدم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کی گرفتاری دبائو میں آنے یا پھر ایک طرح سے الزامات کی عاجلانہ تصدیق کے مترادف ہے جو بھارتی لابی دہراتی رہتی ہے نیز امریکہ کا حافظ سعید کی گرفتاری کیلئے دبائو ہے ان کی گرفتاری کا مطلب اس دبائو کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے مترادف ہے ان کو اگر کسی اور موقع پر گرفتار کیا جاتا اور جو بھی الزامات لگتے اس کی گنجائش تھی وہ پہلی مرتبہ گرفتار نہیں ہوئے قبل ازیں بھی وہ بار بارگرفتارہوتے آئے ہیں مگر ان پر کبھی کوئی الزام ثابت نہیں ہوا اور حکومت کو انہیں چھوڑ نا پڑاحافظ سعید کی گرفتاری امریکی دبائو کا نتیجہ ہونے کا ثبوت خود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ٹوئٹ ہے جس میںامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ10 سال کی تلاش کے بعد ممبئی دہشتگرد حملوں کے نام نہاد ماسٹر مائنڈ کو پاکستان سے گرفتار کرلیا گیا ہے، گزشتہ 2 برس سے پاکستان پر اس کی گرفتاری کیلئے شدید دبا ڈالا جارہا تھا۔ہم سمجھتے ہیں کہ کسی بھی پاکستانی شہری کو بیرونی دبائو اور خاص طور پر بھارتی الزامات پر گرفتار کرنا ملکی وقار کے منافی عمل ہے۔ حافظ سعید کو اس مرتبہ جن الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے اس میں انہیں لشکر طیبہ کا سربراہ ظاہر کیا گیا ہے جس سے ان کا دور دور کا بھی کوئی تعلق نہیں۔ وزیراعظم کے دورے سے قبل ٹرمپ کے دبائو میں اس گرفتاری سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ دونوں رہنمائوں کی ملاقات کس ماحول میں ہوگی اور معاملات طے کرنے میںکیا انداز اختیار کیا جائے گا۔وطن عزیز میں جب تک اپنے فیصلے خود اور خود مختاری کیساتھ کرنے کی روایت قائم نہیں ہوجاتی ہم پر اس طرح کا دبائو آتا رہے گااور اس دبائو کے نتیجے میں ہم خود ایسے اقدامات اور فیصلوںپر مجبور ہوتے رہیں گے گویا یہ الزامات حقیقی تھے نہ کہ جھوٹ پر مبنی اور دبائو کا نتیجہ تھے۔حافظ سعید کی گرفتاری سے گویا ہم نے خود اس امر کی تصدیق کردی کہ اُن پر لگائے گئے الزامات غلط نہ تھے بار بار کی گرفتاریوں اور رہائی جیسے اقدامات کی بجائے ایک ہی مرتبہ اس امر کا فیصلہ ہو جانا چاہیئے کہ بیرونی عناصر کے الزامات درست تھے یا پھر ہماری تردید اور وضاحتیں۔

انتظامیہ بمقابلہ نانبائیان

کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے گندم اور آٹے کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے گندم اور گندم کے آٹے کی برآمد پر پابندی عائد کر دی ہے اجلاس کو بتایا گیا کہ ملک میں آبادی کی ضرورت پوری کرنے کیلئے گندم کی وافر مقدار دستیاب ہے۔اکنامکس کے اصول کے تحت طلب ورسد میں توازن نہ ہونے کے باعث کسی بھی چیز کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے ملک میں آٹا اور گندم کی قلت نہیں اس کی پیداوار میں کمی کے باوجود ملکی آبادی کی ضرورت کے مطابق گندم دستیاب ہے اور گندم درآمد کرنے کی بھی ضرورت نہیں اس توازن کے باوجود ملک میں آٹے کی قیمتوں میں اضافہ اور گیس کے نرخوں میں اضافے کی وجہ سے روٹی کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا ہے سرکاری سطح پر 190گرام روٹی کی قیمت 15روپے مقرر کئے جانے کے باوجود پشاور کے شہری کم وزن روٹی خریدنے پر مجبور ہیں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے مسلسل چھاپوں اور کارروائیو ں کے باوجود بھی روٹی کا وزن قانون کے مطابق نہیں لایا جاسکا ہے ۔کم وزن روٹی کی فروخت کے باعث شہریوں کو مہنگی روٹی خریدنی پڑ رہی ہے دوسری جانب ضلعی انتظامیہ بھی اپنے ہی فیصلوں پر عمل درآمد کرنے میں ناکام دکھائی دے رہی ہے ۔ المیہ یہ ہے کہ شہر کے کسی بھی تندور پر پورے وزن کی روٹی نہیں ملتی جن کے خلاف انتظامیہ کے سخت اقدامات گرفتاریاں اور تندورسیل کرنے کے اقدامات سنجیدہ اور مئوثر ضرور ہیں اس کے باوجود تندوروں پر کم وزن روٹی کی فروخت میں کمی نہ آنا من مانی کی انتہا ہے یہ درست ہے کہ سارے شہر اور صوبے کے نانبائیوں کی گرفتاری اور تندور سیل کرنا ممکن نہیں لیکن جو صورتحال ہے اور عوام کی حکومت سے جو شکایات ہیں اس کے پیش نظر حکومت کے پاس سوائے سخت سے سخت اقدامات کے اور کوئی چارہ کار نہیں۔ پانچ روپے روٹی کی قیمت میں اضافہ اور پرائیس ریویو کمیٹی کو اعتماد میں لئے بغیر اس کا فیصلہ اور اس کے باوجود نانبائیوں کی من مانیاں اور انتظامیہ کے سخت اقدامات کا ہیچ ہوجانا ایک سنگین عوامی مسئلہ بنتا جارہا ہے جس پر حکومت فوری توجہ دے کر مسئلے کا حل نہ نکالا گیا تو اس سے حکومت مخالف احتجاج کی لہر شروع ہونے کا خدشہ ہے حکومت جتنا جلد اس سنگین مسئلے پر قابوپاسکے اتنا ہی بہتر ہوگا۔

متعلقہ خبریں