Daily Mashriq

یا تو گھنگھور گھٹائیں نہ اٹھا‘ یا برسا

یا تو گھنگھور گھٹائیں نہ اٹھا‘ یا برسا

چھاجوں پانی پڑ گیا آخر کچھ تو دعائیں کام آئیں۔ گزشتہ چند روز سے ساون رت اپنی بہار دکھا رہی تھی اور ملک کے د وسرے حصوں خصوصاً پنجاب کے بعض شہروں اور خیبر پختونخوا کے بالائی حصوں میں جھل تھل کا سماں تھا جسے ہم صرف ٹی وی کی سکرین پر مختلف چینلوں کے توسط سے ہی دیکھ پا رہے تھے اور ابھی ساون کی ابتداء ہی تھی مگر یہاں پشاور میں تو ساون کبھی ہمیشہ مقامی طور پر پشکال کے نام سے موسوم کیاجاتا ہے جس میں ’’ جل تھل‘‘ صرف پسینے کی شکل میں ہوتا ہے‘ گرمی‘ حبس اور پسینے سے شرابور ہونے کے ناتے سانس لینا محال ہوتا ہے۔ ایسے ہی کسی سمے کے حوالے سے میں نے یہ بھی تو کہا تھا کہ

برہن اپنے ساجن کو کیسے بلوائے دیس

اب کے برس تو ساون کے چھاگل بھی خالی خالی

مگر گزشتہ رات فجر کے آس پاس ہلکی بارش نے پشاور کے موسم کو بھی خوشگوار کردیا اور پھر صبح کے وقت تو وقفے وقفے سے جل تھل کا سماں تھا جس سے یقینا ان لوگوں کے چہروں پر شگفتگی چھا گئی ہوگی جو اس وقت جاگ رہے تھے۔ ظاہر ہے فجر کے لئے جاگنے والوں نے ہی صورتحال کو انجوائے کیا ہوگا۔ جو لوگ بند کمروں میں اے سی لگا کر سونے کے عادی ہیں انہیں کیا پتہ کہ گرمی کی تپش میں جلنے والوں کے لئے بارش کا معمولی چھینٹا بھی کتنا قیمتی ہوتا ہے۔ ویسے بھی بر صغیر کے مختلف حصوں میں ساون رت کے حوالے سے روایتی شاعری کا دامن اس قدر وسیع ہے کہ اگر صرف مختلف زبانوں کی شاعری کو جمع کیا جائے تو کئی کتابیں مرتب ہوسکتی ہیں۔ زیادہ تر شاعری میں پردیس جانے والوں کے لئے پیغام ہوتا ہے‘ پنجاب‘ سندھ اور دیگر کچھ علاقوں میں جہاں ان دنوں آموں کی بہار ہوتی ہے وہاں کی شاعری میں صورتحال کا پر تو آسانی سے دیکھا جاسکتا ہے۔ ایک ناری کے جذبات کو الفاظ کا روپ دے کر کتنی خوبصورت منظر کشی کی گئی ہے۔

امبوا کی ڈاریوں پر جھولنا جھلا جا

اب کے ساون تو سجن گھر آجا

ایک اور شاعر نے باغوں میں پڑنے والے جھولوں کے حوالے سے دور دیس جانے اور پیچھے مڑ کر نہ دیکھنے والے کی یاد سینے سے لگا کر یادوں کے دئیے روشن کرنے والی ناریوں کے جذبات کی یوں ترجمانی کی ہے

باغوں میں پڑے جھولے

تم بھول گئے ہم کو

ہم تو کونہیں بھولے

جھولوں کی بات چلی ہے تو کسی زمانے میں پشاور کے ارد گرد پھلوں اور پھولوں کے باغات میں بھی یقینا جھولے پڑتے ہوں گے‘ البتہ ہمیں اپنے بچپن اور لڑکپن کے دن بھی یاد آتے ہیں جب ہمارے گھروں میں جو تب مٹی کے بنے ہوتے تھے اور جن کے چھت دیار (دیودار) کے درختوں کے تنوں سے بنے ہوئے شہتیروں (جنہیں ڈاگے کہتے ہیں) کا جال سا بنا کر اور ان کے اوپر مضبوط بڑے سائز کی چٹائیاں ڈال کر اوپر سے مٹی اور بھوسے کا کیچڑ لیپ کر دیا جاتا تاکہ موسم کے تیور کمروں اور برانڈوں میں زندگی گزارنے والوں کو نقصان نہ پہنچا سکیں۔ چھت کے ان ڈاگوں کو بڑے بڑے لکڑی کے ستونوں کا سہارا دیا جاتا اور اوپر شہتیروں کے ساتھ ہمارے بزرگ بچوں کے لئے جھولے (ٹال) ڈال دیتے جس پر خاندان کے بچے بچیاں بلکہ ہمسایوں کے بچے بھی آکر باری باری جھولا جھولتے۔ البتہ بڑے پیمانے پر ہم نے اپنے لڑکپن میں جھولوں کی ایک اور قسم عیدین کے مواقع پر میلوں ٹھیلوں میں دیکھی جو چوک یادگار اور شاہی باغ میں لگائے جاتے۔ ان جھولوں میں گھوڑوں‘ ہاتھیوں کی شکل کے جھولے بھی ہوتے جن پر بیٹھ کر یا پھر درمیان میں کرسیوں کی طرز کے بنے ہوئے جھولوں میں چھوٹے بچے بڑی عمر کے بہن بھائیوں کی گود میں بیٹھ کر جھولوں کے مزے لیتے۔ اسی طرح اوپر کی سمت اٹھنے اور د وسری طرف سے نیچے آنے والے جھولوں میں بھی جھولنے کا مزہ لیا جاتا۔ یہ چھوٹی سطح کے بالکل ایسے ہی جھولے ہوتے جیسے کہ ان دنوں بڑے بڑے تفریحی پارکوں میں انتہائی اونچائی تک جا کر نیچے آنے والے جھولوں میں لوگ بیٹھ کر انجوائے کرتے ہیں اور جنہیں چلانے کے لئے جنریٹر سے مدد لی جاتی ہے۔ جھولوں کی اب تو مختلف اقسام ایجاد ہوچکی ہیں اور ٹی وی سکرین پر اکثر پروگراموں یا فلموں میں نظر آجاتے ہیں۔ بات ساون کے چھینٹوں سے ہوتے ہوئے پشاور میں آج صبح جل تھل تک جا پہنچی تھی مگر درمیان میں باغوں میں پڑنے والے جھولوں سے ہوتے ہوئے پرانی یادوں کو کریدنے کا باعث بن گئی تھی حالانکہ ملک کے مختلف حصوں میں جب ساون اپنے پورے جوبن پر ہوتا ہے تو ہماری کیفیت نواب مرزا خان داغ کے اس شعرکی سی ہوتی ہے کہ

ذرا چھینٹا پڑے تو داغؔ کلکتہ نکل جائیں

عظیم آباد میں ہم منتظر ساون کے بیٹھے ہیں

بارش کی خبر سن کر یارلوگ انجوائے کرنے اور نہیں تو گلیات وغیرہ ضرور نکل جاتے ہیں اور اوپر سے فیس بک پر پوسٹیں لگا لگا کر ہم جیسے محروم لوگوں کے دلوں میں گدگدی کرنے سے بھی نہیں چوکتے۔ مگر کیا کیا جائے ہماری بعض پیشہ ورانہ مجبوریاں آڑے آجاتی ہیں اور ہم پشاور سے اتنی دور تو کیا دس پندرہ کلو میٹر باہر جانے کا رسک بھی نہیں لے سکتے اس لئے ہم احمد فراز کی طرح بس یہی کہتے رہ جاتے ہیں کہ

طنز ہے سوختہ جانوں پہ گرجتے بادل

یا تو گھنگھور گھٹائیں نہ اٹھا یا برسا

متعلقہ خبریں