Daily Mashriq

کرو نہ فکر ضرورت پڑی تو دیں گے ہم

کرو نہ فکر ضرورت پڑی تو دیں گے ہم

ہر شعبہ زندگی میں اگر ٹیکس نادہندوں سے ٹیکس طلب کیا جاتا ہے یا ان سے ان کی آمدن کا حساب مانگا جاتا ہے تو وہ سڑکوں پر آنے گھیراؤ جلاؤکی دھمکیاں دینے لگتے ہیں ۔ ماضی میں ٹیکس چوری کا دھندہ نہ صرف اپنے عروج پر تھا بلکہ حکمران خود جیو اور جینے دو کے اصولوں پر عمل کرکے کھاؤ اور کھانے دو یا چراؤ اور چرانے دو کے فارمولے پر عمل کرکے اپنے دور اقتدار کو طول دینے میں مگن تھے جس کے لئے انہوں نے ٹیکس چوروں اور رشوت خوروں کو کھلی چھٹی دے رکھی تھی ۔ جنرل مشرف جنہوں نے نواز شریف جیسے حکمران سے عنان حکومت چھین کر مسند اقتدار پر قبضہ کیا تھا۔ وہ اور ان کے حواری ’’ سب سے پہلے پاکستان ‘‘ کا نعرہ لگاتے نہیں تھکتے تھے لیکن مجھے ان کا وہ بیان بھی اچھی طرح یاد ہے جس میں انہوں نے ببناگ دہل کہا تھا کہ’’ چھوٹی موٹی رشوت لینا کوئی جرم نہیں‘‘۔ ہمیں یاد پڑتا ہے کہ خودساختہ سربراہ مملکت کی زبانی جاری ہونے والے اس بیان نے جلتی پر تیل کا سا اثر کیا اور یوں ہر ادارے میں رشوت کے مال پر پلنے بڑھنے اور اپنے کنبے کے افراد کا پیٹ رشوت کے انگاروں سے بھرنے والے رشوت خور بلا تردد اور بغیر کسی خوف کے رشوت خوری کرنے لگے

قتل کا مجرم رشوت دے کر چھوٹ گیا

قسمت دیکھو میرے سر الزام ہوا

افسر سے چپراسی تک رشوت کے مال کو مال مفت دل بے رحم سمجھ کر ہڑپ کرنے لگا۔ رشوت خوروں کے علاوہ ان لوگوں کے بھی مزے ہوگئے جو انکم ٹیکس اور اکسائز کے ڈیپارٹمنٹ سے تعلق رکھتے تھے اور گوشت کی حفاظت کرنے والی بلی کے مصداق وہ لوگ بھی پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں ڈبو کر اپنے عہدوں اور منصبوں کی پوری پوری قیمت وصول کرنے لگے تھے

رشوت کے دم قدم سے سلامت ہے زندگی

دل کھول کر تمام ہی خوشیاں منائیے

ہمیں نمک منڈی پشاور میں اڑائی جانے والی وہ دعوت اچھی طرح یاد ہے جس میں سیروں کے حساب سے مٹن کڑاہی کے علاوہ سیخ تکہ تندوری نان سویٹ ڈش، لسی اور جانے کیا کچھ شامل تھا، دعوت کرنے والا نمک منڈی کے چسکے دار تکہ فروش ہوٹل کا مالک تھا جب کہ اس دعوت کو اڑانے والوں میں راقم السطور کے علاوہ بلدیہ پشاور کے جملہ با اثر آفیسر شامل تھے۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ دوران کام و دہن میں اپنے قریب بیٹھے افسروں سے پوچھتا رہا کہ آخر معلوم تو ہو یہ کس خوشی میں اتنی پر تکلف دعوت کی گئی ہے۔ جس کے جواب میرے قہقہہ بار کولیگ کہتے رہے کہ چپ کر کے کھاتے رہو۔ مجھے یوں لگا جیسے وہ کہہ رہے ہوں کہ’ پیڑ مت گنو آم کھا نے سے غرض رکھو ، لیکن جب ہمیں نمک منڈی کے تکہ فروش کا بلدیہ پشاور کے اختیار دار عملے سے جرمانہ معاف کرانے کی غرض سے اس دعوت کام ودہن کا علم ہوا توراقم السطور بھی اپنے آپ کو ان کتوں میں گننے لگا جن کے آگے ہڈی پھینک کر ان سے بھونکنے یا کاٹنے کی صلاحیت چھین لی جاتی ہے۔

کھلے ہیں اونچی حویلی کے کتے

فقیرراہ ذرا دیکھ بھال کر جائے

ہم جس کلچر کے پروردہ ہیں اس میں مفت کی شراب قاضی بھی نہیں چھوڑتا۔ سرکاری تیل سے جوتیاں پالش کی جاتی ہیں۔ اور ایسی حرکت کرنے پر کسی کو شرمندگی محسوس ہونے کی بجائے اپنے منصب اختیار اور عہدے کے ناجائز استعمال پر فخر اور ناز کیا جاتا ہے ۔ اسلامی تعلیمات میں رشوت دینے اورشوت لینے والا دونوں ہی نار جہنم کے سزاوار قرار دئیے گئے ہیں۔ لیکن اس کے باجود ٹیکس وصول کرنے والے اختیار دارعملے کو رشوت دے کر ٹیکس چوری کی حرام خوری کا بازار گرم رہا۔ ملک اور قوم کا پیسہ ٹیکس چوری کرکے دونوں ہاتھوں سے لوٹا جا تا رہا۔ اس میں ٹیکس نہ دینے والے اور ضابطوں یا قانون کی پاسداری کو خاطر میں نہ لاکر ٹیکس کی وصولی کا حق نہ ادا کرنے والے برابر کے شریک تھے۔ اگر رشوت خور رشوت نہ کھاتے اور ٹیکس چور شفاف طریقے سے ٹیکسوں کی ادائیگی کرتے رہتے تو آج ملکی معیشت کا وہ حال نہ ہوتا جو ہمارے سامنے ہے۔ حکمران آئی ایم ایف سے قرض اٹھا کر ہڑپ کرتے رہے اور پھر قرض اتارو ملک سنوارو کا نعرہ لگا کر عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکتے رہے۔ مگر تا بکے چلتا رہتا لوٹ مار کا یہ گھناؤنا دھندہ ۔ کر گئے ہاتھ کرنے والے شہریوں کی سادگی اور ان کے جذبہ حب الوطنی کے ساتھ۔ ہوگیا جو ہونا تھا۔ گیا وقت ہاتھ آتا نہیں۔ اب پچتائے کیا ہوت جب کہ چڑیاں چک گئیں کھیت۔ مگر بات یہ بھی سچ ہے کہ

عدل و انصاف فقط حشر موقوف نہیں

زندگی خود بھی گناہوں کی سزا دیتی ہے

جس نے کھائی گاجریں ، پیٹ میں پیڑ اس کے مصداق وقت ان سے حساب مانگنے آن پہنچا ہے ، بڑی چیخیں نکل رہی ہیں املوکوں کے تول میں آنے والوں کی ، بڑے حیلے اور بہانے کررہے ہیں کرپشن کلچر کو پروان چڑھانے والے ، مگر ان سادہ لوح لوگوں کا کیا قصور ہے جو ہر دور میں ان کی ریشہ دوانیوں کا شکار بنتے رہے ، بنکو ں سے قرضے اٹھا کر معاف کرنے والوں نے ملک کی دولت سمیٹ کر نہ صرف بیرون ملک منتقل کی بلکہ انہوں نے تو ملک کی سلامتی کی قسمیں دے کرسادہ لوح لوگوں کی جمع پونجیاں تک لوٹ لیں ، سہاگنوں نے اپنے زیورتک اتار کر دے دئیے ، قرض اتارو ملک سنوارو کے فقط ایک نعرہ کے عوض ، مگر آہ کہ ملک سنورنے کے بجائے، بگڑتا ہی رہا ، مگرکسی کی بات کہ وقت کی ڈوری اب بھی ہمارے ہاتھ میں ہے اور محب الوطن عوام کے لبوں پر اب بھی وطن ، سے وفا نبھانے کے نغمے گونج رہے ہیں

کرو نہ فکر ضرورت پڑی تو دیں گے ہم

لہو کا تیل چراغوں میں ڈالنے کیلئے

متعلقہ خبریں