Daily Mashriq

عمران خان! انکل ٹام کو بتا دیں۔۔ نومور

عمران خان! انکل ٹام کو بتا دیں۔۔ نومور

پاکستان کے اندر جو بھی ہو ہم اس کو جوں توں کرکے برداشت کرلیں گے، ہمارا اپنا کوئی ہم پے ظلم ڈھائے ہم اُف تک نہیں کریں گے، اگرکوئی حکمران ’’روٹی کپڑا مکان‘‘ کا جھانسہ دے کر ہمیں لوٹ لے ہم اسے بخش دیں گے، اگرکوئی بھاری مینڈیٹ لیکر ’’قرض اُتارو ملک سنوارو‘‘ کا نعرہ لگا کر ہماری جمع پونجی ہتھیا لے ہم گلہ تک نہیں کریں گے، اگرکوئی باوردی شخص جمہوریت پر شب خون مارے تو ہمارا خون جوش نہیں مارے گا لیکن ہم واشگاف انداز میں بتا دینا چاہتے ہیں کہ کوئی اگر ہماری وطن کی شان میں گستاخی کرے گا تو جانوں کی پروا ہم نے کبھی کی ہے اور نہ ہی اب کریں گے۔ اس موقع پر ہم آپس کے اختلافات بھلا کر سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں گے۔ اس بات کا مظاہرہ ہم بارہا کرچکے ہیں اور اب بھی نہ صرف یہ دہشتگردِ عالم بلکہ ساری دنیا دیکھ لے گی۔ ایک ڈکٹیٹر کی کتاب ’’فرینڈز‘ ناٹ ماسٹرز‘‘ ایک دکھاوا تھی کیونکہ امریکہ کبھی بھی دوست نہیں رہا اس نے صرف اپنا کام نکلوایا اور آنکھیں پھیر لیں۔ پاکستان ہر بار کہہ چکا ہے کہ ہم دہشتگردی کیخلاف عالمی تحریک میں امریکہ اور اتحادیوں کے فرنٹ لائن اتحادی ہیں مگر امریکہ اور اسکے بڑے ہمیشہ سے ہمیں اپنا خریدا ہوا کارندہ (Paid worker) سمجھتے ہیں، دہشتگردی کیخلاف جنگ کے دوران امریکہ ہمارے بے لوث تعاون کو کچھ اور سمجھ بیٹھا ہے۔ ہر بار ڈومور کی رٹ لگائے رکھتا ہے، پاکستان عالمی دہشتگردی کی جنگ میں اپنا سب کچھ پہلے ہی لٹا چکا ہے۔ اب ہمارے پاس لٹانے کو صرف جان بچی ہے اور یہ جان صرف اور صرف وطن عزیز پر لٹائیں گے کسی کے مفادات پر نہیں۔پاکستان کے وزیراعظم عمران خان اسی ماہ کے آخر میں امریکہ کے دورہ پر جا رہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کا استقبال کریں گے، وائٹ ہاؤس کے ترجمان کے مطابق اس دورہ کا مقصد دونوں ملکو ں کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط کرنا ہے۔ دورے سے دونوں ملکو ں کو امن، اقتصادی ترقی اور خطے کے استحکام کیلئے ملکر کام کرنے میں مدد ملے گی۔ اس ملاقات میں دونوں ملکوں کے سربراہ انسداد دہشتگردی، دفاع، توانائی اور تجارت پر تبادلہ خیال کریں گے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اب کی بار بیوروکریٹس کو وقت دینا چاہئے کہ دونوں لیڈر بیٹھ کر کھل کر بات کریں۔ سفارتخانے اور بیوروکریسی کی مداخلت سے ہمیشہ تعلقات مزید خراب اور ملاقاتیں بے سود رہی ہیں۔ اس ملاقات میں اختلاف کی وجہ افغانستان، ایف اے ٹی ایف (FATF)، آئی ایم ایف اور سب سے بڑھ کر ہمارے چین کیساتھ بڑھتے تعلقات ہوسکتے ہیں۔ امریکہ کی بیوروکریسی نے ہمیشہ پاکستان پر دباؤ بڑھانے کی ہی صلاح دی ہے۔ ہماری خواہش ہے کہ اس موقع پر ہمارے ملک کے وزیراعظم عمران خان انکل ٹام کو واشگاف الفاظ میں بتا دیں کہ ہم ڈومور(Do more) کی آپ کی گردان مزید نہیں مانتے اور اب ہم نومور(No more) کریں گے۔ اب کی بار سب کچھ کرنے کی باری امریکہ بہادر کی ہے کیونکہ جس طرح کل ہم نے افغانستان کے معاملے میں انہیں لوجسٹکس سپورٹ دینے سے لیکر اپنا سب کچھ اس جنگ میں لٹا دیا اب امریکہ بھی ہمیں اسی طرح کی سپورٹ کرے اور یہ بھی واضح ہونا چاہئے کہ پاکستان افغانستان یا عراق کی طرح ترنوالہ نہیں کہ کوئی بھی اپنی عددی برتری یا فوجی اور اسلحہ کی برتری سے مرعوب کر لے گا، ہم سیسہ پلائی دیوار کی طرح ان کا مقابلہ کریں گے، اس بات کی تاریخ گواہ ہے۔ امریکہ کو چاہئے کہ وہ تاریخ کا مطالعہ کرے اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ اسے اپنے ماضی کی طرف بھی جھانک کر دیکھنا چاہئے کہ اس نے ماضی میں کی جانے والی جنگوں میں کیا کھویا کیا پایا، کتنے امریکی فوجیوں کی لاشیں امریکہ کی سرزمین پر اُتریں۔ایک طرف ٹرمپ انتظامیہ ہمارے ساتھ اوٹ پٹانگ طریقے سے بات کررہی ہے اور دوسری طرف بھارت کیساتھ دوستی کی پینگیں بڑھا رہی ہے، چاہئے تو یہ تھا کہ ساری دنیا سے ٹکر لیکرجس ذمہ داری کا ثبوت پاکستان نے اس دہشتگردی کی عالمی جنگ میں دیا کچھ اسی طرح امریکہ بھی پاکستان کی دل کھول کر امداد کرتا، ہمارے خریدے ہوئے F16 طیارے ہمیں لاکھ منت سماجت کے بعد دئیے اور تب کہ وہ ماڈل اب پرانا ہوگیا ہے جبکہ ہمارے روایتی حریف بھارت کو بالکل جدید قسم کے جنگی طیارے دیکر اپنی دوستی تو بڑھا لی مگر ہمارے لئے ایک اور خطرہ پیدا کر دیا، دوسری طرف ایٹم بم کی ٹیکنالوجی کے عدم پھیلاؤ میں بھی پاکستان نے دل کھول کر تعاون کیا لیکن ہمارے سارے احسانات اور تعاون کا صلہ یہ ہے کہ ہمارے دشمن کیساتھ، (باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں