Daily Mashriq

سجدے نہیں قیام کا وقت ہے

سجدے نہیں قیام کا وقت ہے

افغانستان کے سابق وزیر اعظم اور حزب اسلامی کے سر براہ گلبدین حکمت یار اشتراکی ایجنٹوں اور ان کے سرپرست سوویت یونین کے خلاف اور نائن الیون کے بعد امریکی حملہ کے خلاف سالہا سال عملی جہاد کرنے کے بعد آخر کار اشرف غنی کی حکومت کے ساتھ صلح کرکے ان کی حکومت میں شامل ہو گئے ۔ اب وہ امن کے محاز پر اپنی صلاحیتوں کا اظہار کر رہے ہیں۔اور اس سلسلے میں حال ہی میں پاکستان بھی تشریف لائے۔ اور نجی ٹی وی کو انٹرویو بھی دیا۔حکمت یار کے چاہنے والوں کے لئے یہ ایک دھچکا تھا عام تاثر یہ تھا کہ شیر بوڑھا ہوکر اب ایک آرام دہ زندگی گزارنے کا متلاشی ہے۔تبھی وہ جہاد کو اس کے منطقی انجام تک پہنچائے بغیر ایک ایسی حکومت کے زیر سایہ آگیا ہے جس کے اپنے پائوں زمین پر نہیں ہیں اور وہ اپنی ہر حرکت کیلئے امریکی جنبش آبرو کی محتاج ہے۔ مزید یہ کہ حکمت یار اس امریکہ کے کیسے قریب ہوگیا جو پوری دیدہ دلیری سے افغانستان کے بعد عراق ' شام ' لیبیا اور یمن کو تاراج کر چکا ہے۔ پوری جنرل اسمبلی کی مخالفت مول لے کراپنا سفارت خانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کر چکا ہے۔اس کے علاوہ سارے بین الاقوامی قوانین کو نظر انداز کرکے مقبوضہ گولان کی پہاڑیاں اسرائیل کو بخشنے کے علاوہ محصور فلسطینیوں کی ساری امدا د روک چکا ہے۔اب آخر میں مسئلہ فلسطین کی مکمل بیخ کنی کیلئے ڈیل آف دی سنچری کے نام سے اپنے کچھ مجبور محض عرب دوستوں کے ساتھ مل کر ایک ایسے منصوبے پر کام جاری ہے۔ جس کی تکمیل پر فلسطینی ہی اس علاقے سے معدوم ہو جائینگے۔ اور اگر فلسطینی ہی بکھر گئے تو مسئلہ فلسطین خود بخود ختم ۔اس طرح نہ رہے گا بانس اور نہ بجے گی بانسری۔ دوسری طرف روس اور چین کو دیکھ لیں تو وہ بھی محض اسلامی دنیا کے وسائل میں سے اپنا حصہ وصول کرنے کی ترکیبیں چلا رہے ہیں اور اس سلسلے میں خون مسلم بڑے ارزان نرخوں پر بہایا جا رہا ہے۔تا کہ امریکہ کو پیچھے دھکیل کر تھکی ماندی اور ہاری ہوئی اسلامی دنیا کے مال غنیمت میں سے اپنا حصہ وصول کیا جا سکے۔ یہ صورتحال ہو بہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چودہ سو سال پہلے والی پیشگوئیوں کے مطابق ہے جن میں سرکار دو عالمؐ نے فرمایا تھا کہ آخری زمانے میں مختلف علاقوں کے کفار اسلامی دنیا پر ایسے پل پڑینگے گویا کسی نے ان کی دعوت کی ہو۔ سوال یہ ہے کہ روس + چین اور امریکی سر براہی میں مغرب کے درمیان اگر اسلامی دنیا ہی میدان جنگ بنتی ہے تو اس کا عالم اسلام کو کتنے نفلوں کا ثواب ملے گا۔عالم اسلام نے تو بہر حال تباہ ہونا ہے خواہ اس کی راکھ سے فائدہ امریکہ کو ہو یا چین+ روس کو۔مندرجہ بالا خدشات کے پیش نظر میں نے چند ماہ پہلے اپنے ایک مضمون میں اسلامی دنیا کے حکمرانوں کو نصیحت کی تھی کہ باقی بچی کچھی مہلت سے فائدہ اٹھا کر اپنا ایک دفاعی بلاک تشکیل دیں۔یہ بلاک موجودہ عالمی کشاکش میں مکمل غیر جانبداری کا اعلان کرے۔ اور ساری استعماری طاقتوں بشمول امریکہ ' روس اور چین کو شٹ اپ کال دے کہ عالم اسلام کے وسائل ہڑپ کرنے سے باز رہیں۔جس کسی کو اسلامی دنیا میں سرمایہ کاری کرنی ہو وہ میرٹ ' جدید ترین ٹیکنالوجی منتقل کرنے اور عالم اسلام میں اپنی اخلاقی اقدار نہ پھیلانے کی شرط پر عالم اسلام میں سرمایہ کاری کرے۔بات ہو رہی تھی حکمتیار کے انٹرویو کی جس نے میری کئی مہینے پہلے والی تھیسس کی ہو بہو تائید کی۔ حکمتیار نے کہا کہ جب امریکی صدر اوبامہ نے اعلان کیا کہ امریکہ 2016 کے آخر تک ساری امریکی فوج افغانستان سے نکال لے گا اور جب 95 فیصد امریکی فوج افغانستان سے نکل گئی تبھی اس نے ہتھیار رکھ کر اشرف غنی کی حکومت کے ساتھ تعاون شروع کیا۔لیکن ڈونالڈ ٹرمپ نے اقتدار میں آنے کے بعد اپنی اسٹیبلشمنٹ کے دباو پر نہ صرف یہ کہ امریکی افواج کا انخلا روک دیا بلکہ مزید فوجی افغانستان بھیجنے لگا ہے اسکا صاف مطلب یہ ہے کہ جیسا کہ کچھ اسلامی دانشوروں کا سالہا سال پہلے یہی تجزیہ تھا کہ امریکہ افغانستان سے جانے کیلئے نہیں آیا بلکہ وہ مستقل رہنے یا اپنے دائمی مفادات کے تحفظ کیلئے مضبوط اڈے رکھنے کے بعد ہی رخصت ہوگا۔ان مفادات میں اسرائیل کا تحفظ' مشرق وسطی کی نئی جغرافیائی تقسیم' وسط ایشیا کے معدنی وسائل سے مستقل فوائد اور روس اور چین پر نظر رکھنا شامل ہے۔ میدان جنگ کا پچاس سالہ تجربہ رکھنے والے حکمتیار کا تجزیہ بھی بالکل یہی ہے کہ افغانستان کی جنگ عراق ‘شام اور لیبیا کی تباہی کا تسلسل ہے جس کا واحد مقصد عالم اسلام کو تباہ کرنا ہے۔اس نے ایک نیا انکشاف یہ کیا کہ خود ایران اور روس بھی افغانستان کا موجودہ بحران جاری رکھنے میں دلچسپی رکھ رہے ہیں۔ایران اپنا یہ فائدہ دیکھ رہا ہے کہ موجودہ انتشار کی صورت میں پورے افغانستان کی مارکیٹ اس کیلئے کھلی پڑی ہے۔جہاں وہ اپنے مسلح گروہوں کے ذریعے بغیر ٹیکس ادا کئے پورے افغانستان میں اپنا مال بیچ رہا ہے اور اسی طرح وسط ایشیا کی مارکیٹ تک بھی صرف اسی کی رسائی ہے جوکہ افغانستان میں امن آنے کے بعد اس سے چھن جائیگی اس لئے وہ اپنے فائدے کیلئے افغانستان میں جنگ وجدل جاری رکھنے کے حق میں ہے۔اسی طرح روس بھی وسط ایشیا کے ممالک کو صرف اپنے لئے محفوظ رکھنے کی خاطر افغانستان میں موجودہ بحران جاری رکھنے کے حق میں ہے بلکہ حکمتیار کے بقول روس نے وسط ایشیا میں جو اڈے مجبورا خالی کئے تھے، (باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں