Daily Mashriq

لینس کے ساتھ یہ غلطی بینائی سے محرومی کا خطرہ بڑھائے

لینس کے ساتھ یہ غلطی بینائی سے محرومی کا خطرہ بڑھائے

بینائی کمزور ہونے پر چشمے کے استعمال کیا جاتا ہے تاہم کچھ کانٹیکٹ لینس کو ترجیح دیتے ہیں تاہم اس کے استعمال میں احتیاط نہ کرنا اندھے پن کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

یہ تو سب کو معلوم ہوگا کہ لینس کو رات میں پہن کر سونا بینائی کے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ ایسا ہونے سے انفیکشن، قرینے میں زخم اور طبی طبی مسائل پیدا ہوتے ہیں جو کہ بینائی سے ہمیشہ کی محروم کرسکتے ہیں۔

تاہم اب انکشاف ہوا کہ لینس پہن کر شاور میں نہانا یا سوئمنگ پول میں تیراکی بھی بینائی کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔

طبی جریدے دی نیو اگلینڈ جرنل آف میڈیسین میں ایک تحقیق شائع ہوئی ہے جس میں بتایا گیا کہ کہ ایک خاتون کو لینس پہن کر شاور لینے یا سوئمنگ کرنے کی عادت تھی، جس کے نتیجے میں اس کی آنکھ انفیکشن کا شکار ہوگئی اور بائیں آنکھ کی بینائی ختم ہوگئی۔

برطانیہ سے تعلق رکھنے والی اس 41 سالہ خاتون کا نام نہیں بتایا گیا تاہم ڈاکٹروں کے مطابق اس خاتون کو 2 ماہ سے بائیں آنکھ کی بینائی میں دھندلے پن، درد اور روشنی سے حساسیت کی شکایات ھیں۔

مریضہ نے ڈاکٹروں کو بتایا کہ وہ کانٹیکٹ لینسز کا استعمال کرتی تھی اور انہیں سوئمنگ اور شاور میں بھی پہنے رکھتی تھی۔

معائنے سے معلوم ہوا کہ بائیں آنکھ کی بینائی 20/200 ہوگئی جو کہ امریکا میں قانونی طور پر نابینا پن سمجھا جاتا ہے تاہم دائیں آنکھ متاثر نہیں ہوئی۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ اس انفیکشن سے بائیں آنکھ کے قرینے کو نقصان پہنچا تھا اور جب ڈاکٹروں کی جانب سے اس کی آنکھوں میں نیلی روشنی چمکائی جاتی تو بائیں آنکھ کی رنگت سبز ہوجاتی۔

ڈاکٹروں کے مطابق اس خاتون کی آنکھ پر ایسا انتہائی چھوٹا کیڑا چلا گیا تھا جو پانی، مٹی اور ہوا میں پایا جاتا ہے اور لینس پہننے والوں میں اس سے انفیکشن کا خطرہ ہوتا ہے۔

گزشتہ ہفتے بھی برطانیہ میں ایک کیس سامنے آیا تھا جس میں مریض لینس پہن کر شاور میں نہاتا تھا اور اس کے نتیجے میں بائیں آنکھ کی بینائی سے محروم ہوگیا۔

ڈاکٹروں کے مطابق 41 سالہ مریضہ ایک سال تک بائیں آنکھ کی بینائی سے محروم رہی جس کے بعد قرینے کا جزوی ٹرانسپلانٹ کیا گیا جس کے بعد بینائی کچھ بہتر ہوگئی مگر اب بھی مسائل ختم نہیں ہوئے، تاہم اب درد کی شکایت باقی نہیں رہی۔

متعلقہ خبریں