Daily Mashriq


پاک افغان تعلقات

پاک افغان تعلقات

گزشتہ دو روز کے دوران کرم ایجنسی اور مہمند ایجنسی میں افغان سرزمین کی طرف سے پاکستان کی سیکورٹی فورسز پر حملے ہوئے ہیں۔ پاکستان کی سیکورٹی فورسز نے یہ حملے پسپا کر دیے۔ یہ حملے اس وقت ہوئے ہیں جب کرم ایجنسی میں پاکستان نے پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی خرلاچی چیک پوسٹ کئی ماہ کی بندش کے بعد کھول دی ہے۔ ایک طرف افغانستان کو سہولت فراہم کرنے کی پالیسی جاری ہے دوسری طرف افغانستان سے وہاں مقیم پاکستان مخالف عناصر پاکستانی سرزمین پرحملہ آور ہونے میں آزاد ہیں یا ان پر حکومت کی طرف سے کوئی پابندی نہیں ہے۔ بین الاقوامی سطح پر یہ اس وقت ہوا ہے جب چین نے پاک افغان تعلقات میںمصالحت کی پیش کش کی ہے اور افغانستان نے اس پیش کش کو مسترد نہیں کیا ہے۔ اگرچہ پاک افغان سرحد کی افغانستان کی سرزمین سے خلاف ورزی کوئی نئی بات نہیں ہے تاہم ایسے واقعات کا جائزہ لیا جائے تو ان کاتعلق دونوں ملکوںکی قیادت کے درمیان سیاسی رابطوں سے جڑا ہوا نظر آتا ہے۔ آخر ایسا کیوں ہے کہ ایک طرف پاکستان کی طرف سے خرلاچی چیک پوسٹ کھولنے کا اقدام کیا جا رہا ہے اور دوسری طرف افغانستان سے پاکستان کی سیکورٹی فورسز پرحملے ہو رہے ہیں۔ ماضی میں ایسی وارداتوں کے تسلسل پر نظر ڈالی جائے تو یہ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ چین کی پاک افغان تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے مصالحت کے شروع ہونے سے قبل مزید ایسے واقعات رونما ہو سکتے ہیں جن کے باعث دونوں ملکوںکے تعلقات میں تلخ الزامات کا پہلوایک دفعہ نمایاں ہو جائے۔ دونوں ملکوںکو ایک دوسرے سے شکایت ہے کہ ان کی سرزمین پرسرحد پار سے حملے کیے جاتے ہیں۔ پاکستان کی طرف سے جب یہ کہا جاتا ہے تو برسرِزمین حقائق اس کی تائید بھی کرتے ہیںکہ آپریشن ضرب عضب سے بچنے کے لیے فرار ہو کر تحریک طالبان پاکستان کے ہزاروں عناصرافغانستان گئے۔ افغانستان اس حقیقت سے انکار نہیں کرتا بلکہ افغانستان کی سرحد کے اندر پاکستان مخالف عناصر کی موجودگی تسلیم کرتے ہوئے عذر یہ پیش کیا جاتا ہے کہ افغانستان کی سیکورٹی فورسز ان پاکستان مخالف عناصر کو نکال باہر کرنے کی صلاحیت سے عاری ہیں۔ اس کے برعکس جب افغانستان یہ الزام عائد کرتا ہے کہ اس کی سرزمین میں پاکستان سے جا کر جنگجو حملہ آور ہوتے ہیں تو برسرزمین حقائق اس کی تائید نہیں کرتے، اس کا دعویٰ بلا ثبوت و دلیل ہوتا ہے۔ پاکستان نے کئی بار پیش کش کی ہے کہ اگر پاکستان میں ایسے عناصر کی نشاندہی کی جائے جو افغانستان پرحملہ آور ہوتے ہیں تو وہ ان عناصر کے خلاف کارروائی کرنے پر تیار ہے۔ لیکن ایسا الزام بے بنیاد ہو گا کیونکہ پاکستان میں دہشت گردوں کے خلاف تاریخی آپریشن ضرب عضب کیا جا چکا ہے ۔ جس کے نتیجے میں جیسے کہ سطور بالا میںکہا گیا ہے کہ ہزاروں جنگجو فرار ہو کر افغانستان گئے۔ اس آپریشن کے بعد یہ کہنا کہ فاٹا میںاب بھی حقانی نیٹ ورک کے عناصر کی کمین گاہیں ہیں بعید از قیاس و دانش ہے۔ ہزاروں افسروں اور جوانوں کو یہ نہیں بتایا جا سکتا کہ حقانی نیٹ ورک سے صرف نظر کرنا ہے اور نہ ہی حقانی نیٹ ورک کے عناصر کو کوئی ایسی نشانی یا شناخت دی جا سکتی تھی کہ انہیں پہچان کر ان کی جان بخشی کی جائے۔ لہٰذاء افغان حکمرانوں کے سوچنے کی بات یہ ہے کہ پاک افغان تعلقات میں حائل تیسرا عنصر کون سا ہے جو ہر اس موقع پر جب تعلقات میں بہتری آنے لگتی ہے کوئی سنگین واردات کروا دیتا ہے۔ یہ تیسرا عنصر بھارت کی خفیہ ایجنسی را ہی ہو سکتی ہے جس کے افغانستان کی خفیہ ایجنسی کے ساتھ بڑے گہرے تعلقات ہیں بلکہ یہ کہنے میں کوئی شک نہیںکہ افغانستان کی خفیہ ایجنسی کی تنظیم قائم ہی را کے افسروں نے کی ہے۔ بھارت کی تاریخ شاہد ہے کہ جب بھی بین الاقوامی کمیونٹی کی خواہشوں اور توقعات کے مطابق پاکستان کے ساتھ تنازعات پرامن طور پر طے کرنے کے لیے مذاکرات کا امکان قریب آیا تو بھارت میں دہشت گردی کا کوئی سنگین واقعہ برپا ہو گیا جس کا الزام پاکستان پر دیا گیا اور مذاکرات شروع نہ ہو پائے۔ اب بھی جب پاک افغان تعلقات کی بہتری کے لیے چین کی مصالحت کی پیش کش کی روشنی میں پیش رفت کا امکان بڑھ رہا ہے تو سرحدی خلاف ورزی کے واقعات ہونے لگے ہیں جو آئندہ چل کر زیادہ سنگین ہو سکتے ہیں۔ اس صورت حال میں اب دو ہی راستے ہیں، ایک تو یہ کہ صدر اشرف غنی اپنے بھارتی دوستوں کو آگاہ کر دیں کہ وہ پاکستان سے اچھے ہمسائیوںایسے تعلقات قائم کرنے کی طرف مائل ہیں جو نہ صرف افغانستان کے مفاد میں ہے بلکہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈکی حد تک ہی سہی بھارت کے بھی مفاد میںہے۔ دوسرے یہ کہ خواہ جیسے بھی دل خراش واقعات ہوتے رہیں مذاکرات کے ذریعے تعلقات کی بہتری کا عمل جاری رکھا جائے۔ آخر جنگوں کے دوران بھی تو دنیا میں مذاکرات ہوتے رہے ہیں۔ اور مذاکرات ہی کے ذریعے تعلقات میں خرابی پیدا کرنے کی کوششوں کو ناکام بنایا جائے۔

متعلقہ خبریں