Daily Mashriq

افغانستان میں داعش

افغانستان میں داعش

افغانستان کے صوبے ننگرہار میں فضائی حملے میں داعش کے میڈیا ڈائریکٹر کی ہلاکت کی خبر کے مصدقہ ہونے کے امکانات زیادہ ہیں چونکہ امریکی نشریاتی ادارے نے اس کا نام لے کر اس قدر وثوق کے ساتھ خبر شائع کی ہے کہ اس پر یقین کیا جا سکتا ہے۔ دوسری طرف داعش کی طرف سے اس خبر پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے حالانکہ یہ خبر داعش کے نزدیک نظر انداز کیے جانے کے لائق نہیںسمجھی جانی چاہیے۔ اور پھر امریکی کمانڈر جنرل جان نکولسن نے داعش کے میڈیا ڈائریکٹر جواد خان کی خبر کی توثیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے داعش کے خراسان نیٹ ورک کی قوت کم ہو گی ، اس کی بھرتی کرنے کی صلاحیت میں کمی واقع ہو گی ۔ بہر حال جواد خان کی موت کی خبر مصدقہ ہو یا نہ ہو اس سے یہ بات ضرور عیاں ہوتی کہ افغانستان میںداعش کسی نہ کسی تنظیمی درجے کی صورت میں موجود ہے۔ امریکی جنرل جب یہ کہتے ہیںکہ جواد خان کی موت سے افغانستان سے داعش کے لیے بھرتی میں کمی آ جائے گی تو انہیں یہ بات معلوم ہو گی کہ داعش افغانستان سے بھرتی کر رہی ہے۔ یہ بات کئی سال پہلے سامنے آ چکی ہے کہ داعش نے افغان طالبان کے ایک سینئر کمانڈر کو اقلیم خراسان کا امیر مقرر کر دیا ہے ۔ (تاثر یہ ہے کہ داعش کے نزدیک پاکستان اور افغانستان کاعلاقہ اقلیم خراسان ہے۔) چند ماہ پہلے یہ خبریں بھی آتی رہی ہیں کہ داعش کے عناصر اور افغان طالبان کے عناصر میں شدید جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔ ان شواہد کی بنا پریہ اندازہ کرنا مشکل نہیں کہ افغانستان میں داعش کی کسی سطح کی کوئی تنظیم موجود ہے۔ اس سے یہ نتیجہ بھی برآمد ہوتا ہے کہ ایک میڈیا ڈائریکٹر کی ہلاکت کے باعث افغانستان میں داعش کی تنظیم کو وقتی نقصان تو ہو سکتا ہے تنظیم ختم نہیں ہو سکتی۔ افغانستان میں داعش کی تنظیم کی قوت و وسعت میں اضافہ کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ خود عراق و شام میں داعش کتنی مضبوط ہے اور اپنی تنظیم کو وسعت دینے کے بارے میں مرکزی تنظیم کا کیا نقطۂ نظر ہے۔ داعش کی تنظیم کو افغانستان سے اس وقت نکال باہر کرنا جب ابھی یہ تنظیم ابتدائی مدارج کی ہے افغانستان کی حکومت اور ان کے امریکی حامیوں کے لیے نسبتاً آسان ہونا چاہیے۔ یہ توقع کہ داعش مضبوط ہو گی تو طالبان کے ساتھ قوت و اقتدار کے لیے ٹکرائے گی خواہش کے برعکس بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر آج افغانستان میں اقتدار کے دعویداروں میں داعش کا بھی اضافہ ہو جاتا ہے تو صورت حال زیادہ پیچیدہ ہوجانے کا اندیشہ ہے اس لیے صدر اشرف غنی پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ افغانستان میں اقتدار کی دعویداری صرف افغان عوام تک محدود کرنے کی کوشش کریں۔
جامعات کا معیار بہتر بنانے کیلئے پیش رفت
جامعات کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے کوالٹی اشورنس سیل کے قیام کی طرف توجہ ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس مقصد کے لیے محض ایک سیل کے قیام پراکتفا کرنے کی بجائے پرائیویٹ اور سرکاری یونیورسٹیوں کے وائس چانسلروں اور سینئر اساتذہ کا ایک سیمینار منعقد کیا جانا چاہیے جس میںشرکاء جامعات کی کارکردگی اور معیار کے حوالے سے مقالے پیش کریں۔ اور ان مقالات کے جوہر کی روشنی میں اس کوشش کے اہداف مقرر کیے جائیں ۔ تحقیق کے معیار مقرر کیے جائیں اور آج کے دور میں مختلف علوم میں دنیا میں جو پیش رفت ہو رہی ہے اس کے ساتھ رسائی کا بندوبست کیا جائے لیکن اس سے بھی پہلے یہ ضروری ہونا چاہیے کہ جامعات کے جو فیڈر انسٹی ٹیوشنز یعنی ڈگری کالجز ہیںان کے معیار تعلیم اور کارکردگی کا جائزہ لیا جائے۔ یونیورسٹیوں میں اساتذہ کا علمی مرتبہ خواہ کتنا ہی بلند یقینی بنا لیا جائے ؛ تعلیمی سہولتیں خواہ کتنی ہی بہتر بنا دی جائیں، جامعات میں جائیں گے تو کالجوں کے تعلیم یافتہ طالب علم۔ سوال یہ زیرِ غور ہونا چاہیے کہ کالجز کے طالب علم کے نقد علم کو جانچنے اور اسے اسناد عطا کرنے کا معیار کیا ہونا چاہیے۔ پھر یہ بات یہیں تک ختم نہیں ہو جاتی۔ ان کالجوں میں بھی جو بچے آتے ہیں ان کا معیار تعلیم کیا ہوتا ہے۔ ہمارا نظام امتحانات کن صلاحیتوں کو اجاگر کرتا ہے اور کن صلاحیتوں کو تلف کرتا ہے۔ اس پہلو کو بھی نظر اندازنہیں کیا جا سکتا۔ ہمارا نظام تعلیم آیا سوال اُٹھانے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے یا رٹے کی یہ بھی قابلِ غور ہونا چاہیے۔ الغرض یہ محض جامعات کا مسئلہ نہیں ہے کہ ان میں جو علمی کاوش ہو رہی ہے وہ دنیا میں یونیورسٹیوں کی رینکنگ میں بہت دور نیچے جگہ پاتی ہے ۔ یہ صورت حال سارے تعلیمی نظام پر نظرِثانی کا تقاضا کرتی ہے۔ جہاں تک جامعات کی کوالٹی بہتر بنانے کی بات ہے اس کے لیے ابتداً دنیا کی اچھی جامعات میں جو تحقیق ہو رہی ہے اس تک رسائی اور رابطے کو یقینی بنایا جانا چاہیے ۔دوسرے ایک بنیادی بات پر توجہ دی جانی چاہیے کہ ہر یونیورسٹی کو ہر سبجیکٹ پڑھانے کی اجازت دینے میں کیا دانش ہے۔ پاکستان کی پچاس جامعات اگر ہر سال اڑھائی ہزار فارغ التعلیم فرض کیجئے صحافت کے پیدا کر کے ملازمتوں کی مارکیٹ میں بھیج دیں گی تو وہ ملازمتوں کیلئے کہاں جائیں گے؟ ۔

اداریہ