خلیج کا بحران اور پاکستان کی مشکل

خلیج کا بحران اور پاکستان کی مشکل

خلیج میںقطر کے خلاف چھ ملکوں کے جذبات کا پریشر ککر اچانک پھٹ پڑنے سے جن ملکوں کے لئے شدید سفارتی مشکل کھڑی ہوئی ہے پاکستان ان میں سرِفہرست ہے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی سرپرستی میں قائم ہونے والے عسکری اتحاد کی کمانڈ سنبھالے ہوئے ہے ۔گوکہ ابھی اس اتحاد کا وجود صرف کاغذوں میں ہی ہے اور عمل کے میدان میں اس کے خدوخال اُبھرنا باقی ہیں اس کے باوجود یہ اتحاد ایک نئی راہ پر چلتا دکھائی دے رہا ہے ۔جب اس اتحاد کا ڈول ڈالا گیا تو اس وقت سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان تلخیاں عروج پر تھیں ۔ اس وقت امریکہ اور ایران میں نیوکلیئر معاملے پر ایک مفاہمت کے آثار اُبھر رہے تھے ۔یمن سمیت کئی دوسری سٹریٹجک امور پر امریکہ اور سعودی عرب کی مفاہمت پر جبری رشتے کا رنگ غالب تھا ۔ اسی عرصے میںمسلمان ملکوں کے نیٹو طرز کے ایک عسکری اتحاد کے قیام کی باتیں چل پڑیں ۔یہ وہ وقت تھا جب پاکستان میںسیاسی کشمکش زوروں پر تھی اور حکومت یہ تاثر دے رہی تھی کہ ملکی حالات میں اس اُبال کا واحد سبب جنرل راحیل شریف کی مدت ملازمت میں توسیع ہے ۔حکومت اس معاملے کو شطرنج کے مہروں کی طرح کھیل رہی تھی ۔کبھی جنرل راحیل کی ملازمت میں توسیع کا اشارہ دیاجاتا اور کبھی انکار کا سا انداز اپنا کر دوسی انتہا پر کھڑی ہوتی ۔اس ماحول میں عسکری اتحاد کے لئے سعودی عرب کی نظر انتخاب جنرل راحیل شریف پر پڑی جو پاکستان کو اندرونی اور بیرونی دہشت گردی کی آگ سے بہت دلیری کے ساتھ نکالنے میں کامیاب ہو گئے تھے ۔حکومت نے سعودی عرب کی پیشکش کو نعمت غیر مترقبہ جان کر کچھ وعدے وعید کرلئے اور یوں راحیل شریف کا اندرون پاکستان کردار محدو د ہو تا چلا گیا اور ان کے بیرون ملک کردار کی کہانی رقم ہونے لگی ۔سعودی عرب کے دفاع میں معاونت پاکستان میں کبھی کسی تنازعے اور تقسیم کی بنیاد نہیں رہا ۔ ٹرمپ کے صدر منتخب ہونے کے بعد سعودی عرب اور امریکہ کے مائل بہ بگاڑ تعلقات نے ڈرامائی انداز میں ایک نیا موڑ لیا اور دونوں ملکوں کے درمیان دوریاں قربتوں میں بدلتی چلی گئیں ۔ٹرمپ نے اپنے پیش رو باراک اوباما کی طرف سے ایران کو نیوکلیئر معاملے پر رعایتیں دینے کو ہدف تنقید بنانا شروع کیا اور اوباما کی پالیسی کو ایک سو اسی زاویے سے تبدیل کرتے ہوئے ایران کو نشانے پر رکھنے کا اعلان کیا ۔یہیں سے سعودی عرب اور امریکہ کے تعلقات کا بڑھتا ہوا بگاڑ نہ صرف ٹھہر گیا بلکہ گرم جوشی اور تپاک میں ڈھلتا گیا ۔بدلے ہوئے حالات نے صرف سعودی عرب کو تو ایک مشکل سے نکال دیا مگر پاکستان کی مشکل بڑھ گئی ۔جو اس اتحاد کو سعودی سلامتی اور جغرافیائی سا لمیت کے ساتھ ساتھ نیٹو طرز کے ایک فعال اسلامی اتحاد کے طور پر اُبھرتا دیکھ رہا تھا اور اسی خواہش میں اتحاد کی سربراہی پر آمادہ ہوا تھا ۔صدرٹرمپ کے دورہ سعودی عرب کے بعد تو اتحاد کے رنگ ڈھنگ ہی بدلنا شروع ہو گئے ۔یوں لگا کہ امریکہ نے اس پورے اتحاد کے گرد اپنے مفاد کی ملمع سازی کر لی ہے اور وہ اس اتحاد کے سرپرست کے طور پر سامنے آرہاہے ۔یہ صورت حال پاکستان کے لئے کسی طور بھی قابل قبول نہیں کیونکہ پاکستان عالمی سیاست میں بڑی حد تک امریکہ کو خیر باد کہہ چکا ہے اوراب محض دونوں کے درمیان دوستی کی راکھ باقی بچی ہے ۔پاکستان نئے عالمی منظر کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر رہا ہے اور اس منظر میں روس اور چین کی قیادت میں اُبھرتے ہوئے بلاک سے وابستہ ہورہا ہے۔ایک طرف روس اورچین کے ساتھ مثلث کے طور پر سامنے آنا اور دوسری طرف امریکہ کی سرپرستی میں بننے والے اتحاد کی سربراہی کی صورت میں پاکستان ایک عجیب مشکل اور تضاد کا شکار ہے ۔پاکستان نے اس اتحاد میں کسی مسلمان ملک کے خلاف جنگ نہ لڑنے کی شرط پر ہی شمولیت اختیار کی تھی مگر ٹرمپ کے دورہ سعودی عرب نے صورت حال ہی تبدیل کردی ۔اس دورے سے یہ تاثر گہرا ہوا کہ اس اتحاد کا نشانہ ایران ہے ۔یہ ایک ہدف ہی کیا کم تھا کہ ٹرمپ کے سعودی عرب سے رخصت ہوتے ہی قطر کی صورت میں دوسرا محاذ کھل گیا اور یوں مسلمانوں کو جوڑنے کی موہوم امید پر بننے والے اتحاد کا رخ خود مسلمان ملکوں کی طرف ہوجانے کے خدشات پیدا ہونے لگے۔پاکستان کے لئے یہ صورت حال'' نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن ''والی ہو کر رہ گئی ۔عسکری اتحاد کی سربراہی تو قبول کی جا چکی ہے مگر اتحاد کی بندوقوں کا رخ تل ابیب یا کسی اور کی بجائے خود مسلمان ملکوں کی طرف ہونے جارہا ہے۔اس لئے قطر کے بحران میں پاکستان کے پاس ثالثی کی کوششوں کے سوا بچائو اور بنائو کی کوئی تدبیر ہی باقی نہیں رہی۔اسی لئے وزیر اعظم میاں نوازشریف اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سعودی عرب گئے اور قطر تنازعے کومفاہمانہ جذبے سے حل کرنے کی کوشش کرنے میں جُت گئے ۔پاکستان کے پاس خلیج کے بحران میں ثالث یا غیر جانبدار رہنے کے سواکوئی دوسرا آپشن ہی نہیں۔قطر کے وزیر خارجہ شیخ محمد بن الثانی کا فرانس میں دیا جانے والا یہ بیان معنی خیز ہے کہ انہیں سفارتی بحران کی اصل وجوہات کا علم نہیں لیکن یہ بات واضح ہے کہ اس بحران کا تعلق نہ تو ایران سے ہے نہ الجزیرہ میڈیا نیٹ ورک سے ہے۔جس بحران کی اصل وجوہات کا خود قطری قیادت کو علم اور اندازہ نہیں اس کے حل میں پاکستان کیا کردار ادا کرسکتا ہے؟پاکستان صرف اتنا کرسکتا ہے کہ اس بحران کے گہرا ہونے کی صورت میںاپنے مقام اور کردار کا درست تعین کرے ۔

اداریہ