Daily Mashriq

بہت ہی اچھا ہو ا

بہت ہی اچھا ہو ا

کہتے ہیں کہ ہر برائی کے پیچھے اچھا ئی بھی پنہا ں ہو تی ہے ،اس لیے اچھاہوا بلکہ بہت ہی اچھا ہوا کہ حکمر ان کا احتساب شروع ہو ا ، کہنے کو حکمر ان وقت کا موقف ہے کہ یہ احتساب نہیں ہے بلکہ ان کے خاند انی کا روبار کو تباہ کیا جا رہا ہے ۔ بات دراصل چلی تھی پا نا ما لیکس سے جس میں میاں نواز شریف اور شہباز شریف کے نا م شامل نہیں تھے ، مگر میا ں برداران کو اپنی تین نسلو ں کا حساب چکا نا پڑ رہا ہے ۔ یہ بھی اچھی بات ہے ، کوئی بھی ہو پا کستان جیسے ملک میں حساب کتا ب کھر ا ہی ہو نا چاہیے کیو ں کہ اس ملک کو بنانے میں خالصتاًعوامی جدوجہد اور ان ہی کی قر بانیوںکا ہا تھ ہے اور کسی کو عوام سے ہا تھ کرجانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اگر ٹھنڈے دل سے دیکھا جا ئے تو یہ سب کچھ پا کستان کے مفاد میں ہے اگر آج نہیں تو کل پاکستان کے مفاد میں پو ری طرح ہو گا ، پا کستان کی تا ریخ جا ننے والو ں کو معلو م ہے کہ پاکستان میں شروع ایام میںجو سیا ست کھیلی جا تی تھی اس میںبیور و کر یسی کے ہاتھ کا بڑا ذکرہو تا تھا مگر بات دیر سے سمجھ آئی کہ بیوروکریسی تواللہ میاں کی گائے تھی اصل کھلا ڑی تو اور کوئی ہی تھے ، جن کے بارے میں نواز شریف کو بتایا گیا کہ ان کے خلا ف ایک مائنڈ سیٹ ہے اور وہ سن کر چین بچیں بھی ہو ئے اور پیشی سے واپسی پر اپنے پکے پکائے بیان کی کئی سطروں پر لکیر کھینچ دی اور فرما یا کہ اب کٹھ پتلی کی ڈوریں کھنچنا بند کر دی جائیں ورنہ ملک کو نقصان پہنچے گا اور جمہوریت تباہ ہو کر رہ جا ئے گی ، یہ کوئی نئی بات نہیں کی گئی ، ما ضی گوا ہ ہے کہ کٹھ پتلیو ں کی تھر ک سے ملک کتنا ہی نقصان اٹھا چکا ہے اور عوام اچھی طرح آگاہ ہے کہ کٹھ پتلی تماشا کون کر رہا ہے ۔

بات ہو رہی تھی کہ ہر برائی کی پشت پر اچھا ئی بھی جنم لیتی ہے۔ قیا م پاکستان کے بعد ہی سے ملک میں انتقامی سیا ست کا آ غاز ہو چلا تھا اور یہ منحوس جذبہ اس قدر عود کر گیا تھا کہ سیا سی مخالفت کی بنا ء پر نہ صرف مخالفین پر تشدّد روا رکھا جا تا تھا بلکہ ان کی زندگی سے بھی کھیل لیا جا تا تھا ، چنا نچہ لیاقت علی خان سے لیکر بھٹو مر حوم کے دور تک ایک لمبی فہر ست ہے کہ سیاسی مخالفت کے جر م میں مخالف کی زندگیو ںکو اڑا دیا گیا ۔ سیا سی انتقام سے ہٹ کر پاکستان کا دوسرا اہم ترین مسئلہ کر پشن اور کر پٹ لو گو ں کا احتساب رہا ہے۔ یہ کہا جا تا رہا کہ جب تک شفا ف احتساب نہیںہو گا تب تک پا کستان کی قسمت نہیں بدل سکتی۔ بات درست ہے جس سے کسی کو اختلا ف نہیں پاکستان کے عوام کئی دہا ئیوں سے احتساب کے منتظر ہیں افسوس یہ ہے کہ عوام کے جذبات سے یہا ں بھی کھلواڑ ہو تا رہا ، کبھی سول حکومتو ں کا احتساب کے نا م پر بستر بوریا گول کر دیا جا تا کبھی اپنے اقتدا ر کی طوالت کے لیے احتساب کا ڈھو نگ رچایا جاتا رہا ہے۔ معاملہ نیت کا ہو تا ہے چنانچہ یہ ڈھو نگ بھی ڈھو نگ ہی رہا ، عدالت عظمیٰ نے پانا ما لیکس کے مقدمے کو سلجھا نے کی غرض سے جے آئی ٹی بنا دی جس کا عمل ایک محتسب کا سا ہو گیا کہ وہ حقائق تلا ش کر ے ۔حقائق ہی سب سے بڑ ا احتساب کا عمل ہو تا ہے ۔ گو آف شور کمپنیو ں کے معاملے میں دیگر پاکستانیوں کے نا م بھی ہیں پانا ما لیکس کے علاوہ بھی آف شور کمپنیو ں کا ذکر سامنے آیا ہے جس میں آب زم زم اور کو ثر وتسنیم سے نہا ئے ہو ئے سیا ست دان عمران خان اور ان کے رفیق خاص جہا نگیر ترین بھی شامل ہیں ۔ یہا ں یہ وضاحت ضرو ری ہے کہ نو از شریف کی پیشی تک یہ گما ن ہو رہا تھا کہ وہ وزیر اعظم کی حیثیت سے استشنیٰ چاہیں گے اور ان کی ہمت نہیں ہو گی کہ وہ جے آئی ٹی کا سامنا کر سکیں۔ پیش ہو نے کو گول کر جائیں گے ۔ یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ کئی سیاست دان اس پیشی کو جنو ن کی حد تک سیاسی کھیل بنائے ہو ئے تھے مگر جے آئی ٹی کی تشکیل سے نوازشریف اور ان کے خاند ان کے افراد کے پیش ہونے تک مسلم لیگ ن نے جو قدم اس جانب رکھے ان میںکا فی احتیا ط نظر آئی۔ کہنے کو تو یہ کہا جا رہا ہے کہ وزیر اعظم نے پیش ہو کر ملکی تاریخ میںایک نئی رقم کر دی ہے مگر دیکھا جا ئے یہ تاریخ رقم کر نا اپنی جگہ مگر انہو ں نے مستقبل کی سیا ست میں ان سب کو ما ت دی ہے جو احتساب احتساب کا نعرہ تولگاتے تھے زبان سے مگر دل سے احتساب نہیں چاہتے تھے ۔ نو از شریف نے جو قدم اٹھایا ، اس نے ان کی امید و ں پر پانی پھیر دیا ہے اور وہ سیاست میں کا میا ب ترین کردار بن گئے ہیں کیوں کہ انہو ں نے احتساب کے شکنجے میں سب کوپیر و دیا ہے ۔ تاہم ایک افسو س اس امر پر ہے کہ جے آئی ٹی نے اپنی تشکیل سے لے کر اب تک کی کا رکر دگی تک خود کو غیر جانبداری سے محفو ظ نہ رکھا اور اس کے بعض عوامل پر انگلیا ں اٹھا نا شروع ہوئیں۔ یہ پہلی مر تبہ ہو ا ہے کہ عدالت کے حکم پر عمل شروع ہو ا اس کو سوفی صد سے بھی زیا دہ شفا ف رکھنے کی ضر ورت تھی ، جے آئی ٹی نے حکومت کی جانب سے مداخلت اور رکاوٹیں حائل کرنے کی شکا یت کی ہے ، تو قع ہے کہ دونوں جانب سے شکا یت کاجا ئزہ لیا جا ئے گا ، میا ں برادران کی جانب سے الزام لگایا گیا ہے کہ وزیر اعظم ہا ؤس کے ٹیلی فو ن ٹیپ کیے جا رہے ہیں اس شکا یت کا بھی جا ئزہ لینا ضروری ہے ، اسی طر ح شہزادہ بن جا سم کی جانب سے ایک انٹرویو میںکہا گیا ہے کہ وہ خط کی تصدیق کرتے ہیں چونکہ اخباری بیان کو ریکا رڈ کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا اس لیے بہتر ہے کہ جے آئی ٹی ان کا بیان ریکا رڈ کر ے اور پو چھ تاچھ کر ے۔ شنید تھی کہ کمیٹی کے ارکا ن قطر کا دورہ کریں گے ۔اس کے ساتھ یہ بات بھی منظر عام پر آئی ہے کہ بعض مخصوص خفیہ اداروں کے اہلکا رو ں کا اس بلڈنگ میں گہر ا عمل دخل ہے بلکہ کہا یہ جا رہا ہے کہ کنٹرول ہے۔ ایسا کیو ں ہے اس بارے میں کوئی وضاحت نہیں ہے کہ ان کو یہاںکس کے حکم پر تعینا ت کیا گیا ہے یا ازخود انہو ں نے کنٹرول سنبھال لیا ہے ۔

اداریہ