Daily Mashriq


ہماری دنیا' کل اورآج

ہماری دنیا' کل اورآج

تیسری دنیا کے بنیادی مسائل میں روٹی' کپڑااور مکان کی فراہمی بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہے کیونکہ اسی پر بقا کا دار و مدار ہے۔ لہٰذا وہ ان تین بنیادی ضروریات کے حصول میں اتنے مشغول ہوتے ہیں کہ انہیں ترقی یافتہ ملکوں کے بعض مسائل سراسر نخرے اور خشخشے لگتے ہیں۔ بر اعظم افریقہ اور ایشیا کے غریب ممالک کے عوام کا اس سے بہت کم تعلق ہوتا ہے کہ ان کے ملک میں نظام حکومت کیا ہے۔ کوئی بھی حکومت ہو اگر عوام کو بنیادی ضروریات میسر آئیں تو شاید وہ دیگر معاملات میں مغز نہ کھپائیں۔ کیونکہ غربت اور فقر وہ بلا ہے جو انسان سے عشق فراموش کرادیتی ہے۔ اس طرح مغربی ترقی یافتہ ممالک میں جن انسانی حقوق بالخصوص آزادی اور پرائیویسی اور اظہار رائے کی آزادی کے حصول اور بقاکے لئے جدید سے جدید قانون سازی اور اس پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لئے جو انتہائی جدوجہد جاری رہتی ہے اس سے تیسری دنیا کے عوام کا دور کا واسطہ بھی نہیں ہوسکتا اور بالخصوص ان حالات میں جب خود ترقی یافتہ ممالک نے حقوق اور انسانیت کے پیمانے الگ الگ رکھے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات دنیا میں بعض ممالک کی طرف سے ایسے اقدامات کا اعلان ہو جاتا ہے جس کے ساری دنیا پر بہت گہرے اثرات مرتب ہونے کے خدشات پیدا ہو جاتے ہیں لیکن غریب دنیا کے انسانوں کو نہ اس کی خبر ہوتی ہے نہ ہی مکمل ادراک۔ اس ذیل میں اس وقت جو نیا معرکہ اور خطرہ دنیا کو درپیش ہے وہ دنیا کا ایک بار پھر یونی پولر نظام سے بائی پولر کی طرف دوبارہ پلٹنا ہے۔ اگرچہ اسکے دونوں بنیادی پول وہی ہیں جو سرد جنگ کے زمانے میں تھے۔ یعنی امریکہ اور سوویت یونین۔ پھر خدا خدا کرکے وہ دور گزر گیا لیکن امریکہ جب واحد سپر پاورکی عالمی کرسی پر براجمان تھا تو اس کا سب بڑا آئوٹ پٹ نائن الیون کی صورت میں سامنے آیا۔ اس المناک واقعہ نے انسانی تاریخ کو ادھیڑ کر رکھ دیا لیکن اس کا سب سے زیادہ وبال اسلامی دنیا پر آیا اور یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔ اس ساری صورتحال کے دوران دنیا کا ایک ملک چین ایسا تھا جو خاموشی کے ساتھ اپنے سرحدوں کی حفاظت کے حوالے سے حساس رہتے ہوئے سر جھکا کر اپنی تجارت اور معیشت کو آگے بڑھتا رہا اور اس عظیم ملک کا کمال یہ ہے کہ ایشیا اور افریقہ میں اپنے تجارتی اثر و رسوخ یا کمزور ملکوں اور اقوام کی مدد کرتے ہوئے کبھی اس نے اپنے مذہبی یا سیاسی نظر یات کا پرچار نہیں کیا اور نہ اپنی مدد و تعاون کو چینی تہذیب و ثقافت یا سیاست اپنانے سے مشروط کی۔ مرنج مرنجان انداز میں بڑھتے ہوئے آج روس اور ایشیا بالخصوص وسطی ایشیا کے اکثر ممالک چین کی قیادت عالمی سپر پاور کے مقابلے میں غیر اعلانیہ اور غیر محسوس طریقے سے کھڑے ہو کر دنیا کو دوبارہ عالمی قوتوں ( بائی پولر) نظام کی طرف لانے میں کامیاب ہوچکے ہیں۔ چین نے موجودہ عشرے میں شنگھائی تعاون تنظیم میں روس کے ساتھ مل کر علاقائی ممالک کا جو اتحاد قائم کیا وہ بنیادی طور پر ان ملکوں کے درمیان تجارتی' ثقافتی اور تعلیم و سیاحت وغیرہ کے شعبوں میں تعاون کے لئے ہے لیکن شنید ہے کہ اس تنظیم کے تحت جو ادارے قائم ہوئے ہیں اور ہو رہے ہیں وہ بہت جلد براعظم ایشیاء و افریقہ کو آئی ایم یف اور ورلڈ بینک کی مجبوریوں سے نکال کر باہر لائیں گے اور وہ وقت دور نہیں جب یہ تنظیم نیٹو کی ہیئت بھی اختیار کرسکتی ہے۔ سی پیک جیسا عظیم الشان منصوبہ جہاں چینی دانش اور دور اندیشی کا منہ بولتا ثبوت ہے وہاں یہ غریب اقوام و ممالک کو غربت سے نکالنے اور معاشی ترقی کے ذریعے دہشت گردی کو شکست دینے کے لئے ایک خوش خبری ہے۔ امریکہ کے سامنے چین اور روس کا تازہ مقابل کی صورت میں آنا دنیا کے معاملات کا ایک نیا انداز ہے جس کی وجہ سے صدر ٹرمپ بعض معاملات کے حوالے سے سارے اصول اور اخلاقی اقدار پامال کرنے سے گریز نہیں کرتا۔ گزشتہ دنوں صدر ٹرمپ کا عالمی ماحولیاتی معاہدے سے نکلنا بہت بڑی بات ہے جس پر پوری دنیا بالخصوص مغرب (یورپ) سخت پریشان ہے۔ کیونکہ اگر ماحولیات کی اصلاح کے لئے دنیا کے بڑے ملکوں کے درمیان معاہدوں پر عمل درآمد نہ ہوا تو ماہرین ارضیات و فلکیات اور سائنس دانوں کے مطابق یہ زمین انسان کے رہنے کے لئے شاید آغوش مادر کی طرح نہ رہ سکے گی۔ انسان اپنے ہاتھوں اپنی ہلاکت کا سامان کر رہا ہے۔ پاکستان پر اس کے اثرات اتنے گہرے ہیں کہ ماحولیاتی اثرات لینے کے حوالے سے پاکستان کا دنیا میں آٹھواں نمبر ہے۔ جنگلات دھڑا دھڑ کٹ رہے ہیں اور نئے درخت لگانے کی وہ پیاس و تڑپ موجود نہیں جو زندہ قوموں میں ہوتی ہے۔ اللہ کرے کہ بلین نہ سہی کوئی پچاس کروڑ درخت سالانہ لگیں تب بھی کام ہو جائے گا لیکن اگر عالمی سطح پر جنگیں اور اختلافات اور مقامی سطح پر جنگلات کی تباہی جاری رہی تو زمین اور سمندروں میں فساد و بگاڑ برپا ہو کر ہی رہے گا۔ اللہ تعالیٰ حضرت انسان کو ہوش کے ناخن لینے کی توفیق عطا فرمائے۔

متعلقہ خبریں