Daily Mashriq


پاکستان کی مڈل کلاس

پاکستان کی مڈل کلاس

پاکستان آج وہ زرعی ملک نہیں رہا جس کی اکثریت آبادی دیہاتوں میں رہتی تھی اور جہاں بڑے زمیندار معاشی ، معاشرتی اور سیاسی حلقوں میں اپنا اثرورسوخ رکھتے تھے۔ آج ہمارا معاشرہ دیہی اور جاگیردارانہ معاشرے سے تبدیل ہو کر شہری مڈل کلاس معاشرہ بن چکا ہے۔ اگر پاکستان کی مڈل کلاس کی تعریف کرنی ہو تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ مڈل کلاس گھرانہ ایک ایسا گھرانہ ہوتا ہے جس کی کم سے کم ماہانہ آمدنی 50 ہزار روپے ہو۔ اوسطاً ایک گھرانہ چھ افراد پر مشتمل ہوتا ہے ۔ اگر ان اندازوں کو درست مان لیا جائے تو ہمارے ملک کی 20 کروڑ آبادی میں سے 5 کروڑ مڈل کلاس ہے جبکہ اپر مڈل کلا س افرادکی تعداد 2 کروڑ سے زیادہ نہیں ہے۔پاکستان کے شہری علاقوں میں مڈل کلاس کی تیزی سے بڑھتی ہوئی تعداد کو باآسانی دیکھا جاسکتا ہے ۔ نئے نئے ریسٹورنٹس، بیکریاں، برانڈڈ کپڑوں کے آئوٹ لیٹس، پرائیویٹ سکول، پرائیویٹ ہسپتال اور سمارٹ فونز کی تیزی سے بڑھتی ہوئی تعدا د سے آپ مڈل کلاس کی شرح میں اضافے کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ ویک اینڈزا ور چھٹیوں کے موقع پر مری جیسے ہل سٹیشن پر سیاحوں کا اتنا رش لگ جاتا ہے کہ انتظامیہ کو زبردستی گاڑیوں کا داخلہ بند کرانا پڑتا ہے۔ مڈل کلاس میں اضافے کے اشاروں میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ اس وقت پاکستان میں کاروں اور دیگر بڑی گاڑیوں کے مالکان کی تعداد 30 لاکھ سے زیادہ ہے جن کو ملک کی اپر مڈل کلاس میں شمار کیا جاسکتا ہے۔ ایک کار کا مالک چھ نفوس کے خاندان کی نمائندگی کرتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ 1کروڑ 80 لاکھ افراد کے گھر میں کم از کم ایک گاڑی موجود ہے۔ اگر لوئر مڈل کلاس کی بات کی جائے تو پاکستان میں لوئر مڈل کلاس کی تعداد اپر مڈل کلاس سے کہیں زیادہ ہے ۔ پاکستان ایڈورٹائزر سوسائٹی کے مطابق انٹرنیٹ استعمال کرنے والے پاکستانیوں کی تعداد 3 کروڑ 50 لاکھ سے زائد ہے جبکہ 2 کروڑ 80 لاکھ پاکستانی موبائل پر سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں۔یقینا وہی لوگ ہی سمارٹ فون خریدنے اور اس پر براڈ بینڈ انٹرنیٹ چلانے کی سکت رکھتے ہیں جن کی بنیادی ضروریات کے لئے معقول آمدنی موجود ہو۔پچھلے سال عیدالاضحی پر تقریباً80 لاکھ جانور قربانی کے لئے خریدے گئے تھے۔ اگر ہرخاندان(اوسطاً چھ افراد پر مشتمل ) نے ایک جانور خریدا ہو تو پوری مڈل کلاس کی تعداد تقریباً 5 کروڑ تک جا پہنچتی ہے۔ پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کے مطابق پاکستان میں 1 کروڑ سے زائد افراد موٹر سائیکل کے مالک ہیں لیکن ان سب کو مڈل کلاس میں شامل نہیں کیا جاسکتا کیونکہ دیہاڑی دار مزدوروں اور چھوٹے کسانوں کے پاس بھی موٹر سائیکل موجود ہیں جن کی روزانہ آمدنی دو ڈالرز سے کم ہے ۔ اسی طرح تعلیمی اعدادوشمار بھی ہمیں مڈل کلا س میں اضافے کا اشارہ دیتے ہیں۔ پچھلے دس سالوں کے دوران پاکستان میں خواندگی کی شرح میں بہت زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور اس وقت خواندگی کی شرح بڑھ کر 60 فیصد ہو چکی ہے۔ اسی طرح 2002 سے 2013ء کے درمیان مڈل سکول کی سطح پر لڑکوں کے داخلے کی شرح صرف 26 فیصد جبکہ لڑکیوں کی 54 فیصد رہی۔ حیران کُن طور پر، پچھلے دس سالوں میں سیکنڈری سکول کی سطح پر بھی لڑکیوں کے داخلے کی شرح میں اضافہ ہوا ہے ۔مڈل کلاس میں اضافہ علاقائی لحاظ سے یکساں نہیں ہے ۔ جہاں خیبر پختونخوا، پنجاب کے شمالی اور وسطی اضلاع اور سندھ کے شہری علاقوں میں مڈل کلاس میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے وہیں بلوچستان ، جنوبی پنجاب اور اندرونِ سندھ کے علاقے قبائلی یا جاگیردارانہ نظام میں جکڑے ہونے کی وجہ سے کافی پیچھے ہیں۔پاکستان کی مڈل کلاس کے پیشوں پر نظر دوڑائی جائے تو جہاں لوئر مڈل کلا س ملک کے غریب طبقے کی طرح چھوٹے موٹے کاموں اور مزدوی تک محدود ہے وہیں پر اپر مڈل کلاس پڑھ لکھ کر اچھی ملازمتوں اور تجارت سے منسلک ہے۔ مڈل کلاس خاندانوں کی ایک معقول تعداد بیرونِ ملک پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والے رقومات پر انحصار کرتی ہے جن میں سے زیادہ تک مڈل ایسٹ میں ملازمت کرتے ہیں۔اس وقت بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے پاکستان بھیجی جانے والی رقم تقریباً 18 ارب ڈالر ہے۔ اس کے علاوہ ہمارے معاشرے کا ایک حصہ پاک افغان بارڈر پر ہونے والے سمگلنگ سے بھی منسلک ہے جس کا تخمینہ تقریباً 8 ارب ڈالر ہے۔ ملک کی نصف سے زائد آبادی شہروں یا شہر نما قصبات میں رہتی ہے جبکہ دیہی معاشرہ کا انحصار بھی مکمل طور پر زراعت پر نہیں رہا کیونکہ اس وقت زراعت ملکی جی ڈی پی کا صرف 20 فیصد حصہ پیدا کر رہی ہے۔ پاکستان کی مڈل کلاس کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ انگریزی بول سکتا ہے جس کو لبرل یا سیکولر کہا جاسکتا ہے۔سیاست اور مذہب ہماری مڈل کلاس کے پسندیدہ موضوعات ہیں جبکہ آرٹ، لٹریچر اور سائنس کی جانب مڈل کلاس کا رجحان بہت کم ہے۔ منطقی دلائل کی بجائے سازشی مفروضے ہماری مڈل کلاس میںزیادہ مقبول ہیں ۔ مڈل کلاس کی آمدنی کا ایک حصہ ملک میں ہونے والے فلاحی کاموں پر خرچ ہوتا ہے جس میں غریبوں کو کھانا فراہم کرنا اور ہسپتالوں کی مالی امداد کرنا سرِ فہرست ہیں۔ سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستانی مڈل کلاس اپنی موجودگی اور تعداد میںضافے کا اظہار کر رہی ہے اور آج کے پاکستان کی مڈل کلاس کی امنگوں پر پورا اترنے والی سیاسی جماعت ہی اس صورتحال سے سب سے زیادہ فائدہ حاصل کرسکتی ہے۔

(بشکریہ: دی نیوز،ترجمہ: اکرام الاحد)

متعلقہ خبریں